21 اکتوبر 2021
تازہ ترین

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی یاد میں… ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی یاد میں…

محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایسے سفر پر روانہ ہوچکے، جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ وہ ناصرف ہم وطنوں بلکہ پوری امہ کو سوگوار کرگئے۔ وہ کچھ عرصے سے صاحب فراش تھے اور کچھ دنیاوی پابندیوں نے بھی ان کے ذہن پر منفی اثرات چھوڑے تھے۔ افسوس صد افسوس۔ ان پر آزادانہ نقل وحرکت کی پابندی کی وجوہ سمجھ سے بالاتر ہیں۔ آزاد مملکت کے شہری پر نقل وحرکت کی پابندی کس قانون کے تحت لگائی جاسکتی ہے۔ درحقیقت ڈاکٹر صاحب اسلام دشمن قوتوں کو کھٹکتے تھے۔ بھوپال کے رہنے والے عبدالقدیر خان کو کیا معلوم تھا کہ وہ بڑے ہوکر عالمی شہرت یافتہ سائنس دان بن جائیں گے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو ہالینڈ سے ڈاکٹرصاحب نے خط لکھا تو بھٹو نے انہیں فوری طور پر پاکستان آنے کی دعوت دی۔ ہالینڈ جیسے ملک میں دنیا جہان کی سہولتوں کو چھوڑنا اتنا آسان نہ تھا، بلکہ ان کی اہلیہ تو کسی طور یہاں رہنے کو تیار نہیں تھیں، لیکن وطن کی محبت انہیں واپس لے آئی۔ اس کے بعد انہوں نے ایٹمی پروگرام کا آغاز کردیا۔ بھٹو، جنرل ضیاء الحق یا غلام اسحاق خان جیسے راست باز وزیراعظم اور صدور کے دور میں انہیں ایٹمی 
پروگرام کو آگے چلانے کے لئے بھرپور سرپرستی حاصل رہی۔ 
یہ ڈاکٹر خان کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ ہمارے ایٹمی پروگرام کے دنیا بھر میں چرچے ہیں۔ فخر پاکستان اور ان کی ٹیم کی شبانہ روز کوششوں کی بدولت ہمارے ایٹمی پروگرام کو اتنی وسعت دی جاچکی کہ دشمن ملک بھارت کیا امریکہ بھی وطن عزیز کے دفاع سے خائف رہتا ہے۔ ڈاکٹر خان کو اس بات پر فخر تھا کہ بھوپالیوں میں نہ تو کوئی غدار ہے اور نہ کوئی قادیانی۔ دراصل ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اس وقت شہرت حاصل 
ہوئی جب بھارت سے آنے والے ایک صحافی کلدیب نائر نے اسلام آباد کے اُس وقت کے ایک انگریزی روزنامے کے ایڈیٹر کی وساطت سے ڈاکٹر خان کا انٹرویو کیا تھا، جس نے عالمی سطح پر محسن پاکستان کی دھوم مچادی۔ اگر ہم آج کے سیاست دانوں کا ڈاکٹر خان سے موازنہ کریں تو بہت سے سیاست دان وطن عزیز سے محبت کے داعی ہونے کے باوجود ملک وقوم کی دولت لوٹ کر بیرون ملک لے گئے جب کہ ڈاکٹر صاحب جیسی محب وطن شخصیت نے وطن کی محبت میں مال و دولت کو ٹھکرا دیا اور سب کچھ چھوڑ کر پاکستان آگئے۔ سابق صدر مملکت جنرل ضیاء الحق اور غلام اسحاق خان کو ڈاکٹرخان پر اس قدر اعتبار تھا کہ ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھانے کے لئے جن جن مراعات کی ضرورت تھی، وہ وقت ضائع کیے بغیر انہیں فراہم کیا کرتے تھے۔
وہ پچھلے کئی سال سے ایک اردو معاصر میں ہفتہ وار کالم لکھا کرتے تھے، جس میں وہ اپنی یادوں کے دریچے کھول دیا کرتے۔ جب بھارت نے 1974 میں ایٹمی دھماکے کیے تو 
پاکستان کے لئے بھارت کے مقابلے میں ایٹمی دھماکے کرنا ناگزیر تھا، دنیا کی نظریں پاکستان پر لگی تھیں۔ حق تعالیٰ کا کرم ہوا کہ ہمارا ملک بھی دشمن ملک کے مقابلے میں ایٹمی دھماکے کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اگرچہ اس دوران امریکہ نے پاکستان پر ایٹمی دھماکے نہ کرنے کے لئے بڑا دبائو ڈالا اور طرح طرح کے مالی لالچ بھی دیئے، لیکن ہماری مسلح افواج کو یہ کریڈٹ جاتا ہے، جس کی نگرانی میں ہم نے ایٹمی دھماکے کردیئے۔ یہ علیحدہ بات بعد ازاں ہمیں امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، اس دوران ہمارے بیرون ملک ہم وطنوں اور سعودی عرب جیسے مخلص دوست ملک نے ہماری بھرپور مالی مدد کی، جس سے ہمارا ملک دیوالیہ ہونے سے محفوظ رہا۔ اس دوران پاکستان کے رہنے والوں نے اپنے فارن کرنسی اکاؤنٹس منجمد ہونے کے باوجود اس کا شکوہ نہیں کیا، بلکہ وطن عزیز کی خاطر ہر قربانی دینے کا عہد کیا۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ہمارے ایٹمی اثاثے وطن کی خاطر جان کی قربانی سے دریغ نہ کرنے والوں کے ہاتھوں میں محفوظ ہیں، جو برسوں سے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کیے ہوئے ہیں۔ 
ڈاکٹر عبدالقدیر خان تو دنیا سے رخصت ہوگئے، وہ اپنے اثاثوں میں وطن عزیز کے لئے کئی ایک ایٹم بم چھوڑ گئے، جن سے بھارت ہمیشہ خائف رہے گا۔ ڈاکٹر صاحب کو اگر مال و دولت کی ہوس ہوتی تو وہ ہالینڈ سے کبھی وطن واپس نہ آتے، بلکہ انہوں نے وطن کی محبت میں دنیا بھر کی آسائشوں کو ٹھوکر مار دی۔ ان کے جنازے میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کرکے ان سے والہانہ محبت کا ثبوت دیا۔ وہ واحد پاکستانی تھے جنہیں کئی ایک اعزازات سے نوازا گیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے لوگ روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ ہم اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ ہمیں اُن جیسے وطن سے محبت کرنے والے سائنس دان کی سرپرستی حاصل رہی۔ موت تو اٹل حقیقت ہے، ہم سب کو ایک روز اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ اگر ہم دنیا میں اچھے کام کر جائیں تو لوگ ہمیں اچھے الفاظ سے یاد رکھیں گے، جیسا کہ ڈاکٹر صاحب کو لوگ ہمیشہ یاد رکھیں گے، وہ لوگ جو وطن کی خدمت کے نام پر لوٹ مار کرتے رہے، انہیں یاد رکھنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ اللہ عزوجل ڈاکٹر صاحب کی مغفرت فرمائے۔ (آمین)۔