21 اکتوبر 2021
تازہ ترین

برداشت… برداشت…

اس وقت ہمارا معاشرہ عدم برداشت کے مرض میں بری طرح مبتلا ہوچکا۔ عدم برداشت کا آغاز وہاں سے ہوتا ہے، جہاں ہم ایک دوسرے کے اختلاف رائے کے حق کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ اس بہترین وصف سے محروم ہوتا جارہا ہے۔ کسی کو برداشت کرنا دراصل دوسرے کے حق کو ماننا اور تسلیم کرنا ہے، عدم برداشت چاہے سیاسی ہو، معاشرتی، سماجی یا خاندانی ہو، وہ رواداری اور معاشرتی اقدار کو تباہی کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ اگر ہم اپنے اردگرد کے لوگوں، حلقہ احباب میں دیکھیں تو دوستوں میں گزرا ہوا وقت یعنی ماضی کا موازنہ دور حاضر سے کریں تو ماضی کو بہتر گردانیں گے، ماضی کے دور کو کسی بھی تناظر میں دیکھیں خواہ وہ مذہبی ہو، سیاسی، یا معاشرتی اس کی مثالیں دی جاتی ہیں کہ ہمارے زمانے میں تو ایسے حالات اور اقدار نہیں تھے، اگر ہم واقعی چند دہائیوں پیچھے نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں معاشرے میں رواداری، رکھ رکھائو، عزت احترام، اپنائیت کا کلچر زیادہ نظر آئے گا، لوگ بہت بڑے بڑے معاملات مل بیٹھ کر چائے کی ایک پیالی پر طے کرلیتے تھے، چاہے وہ معاملات معاشرتی، مذہبی یا سیاسی ہوں، معاشرے کا رہن سہن ایسا تھا کہ لوگ اپنے گلی محلے کے تمام لوگوں اور ان کے حالات سے مکمل طور پر آگاہ ہوتے تھے اور ایک دوسرے کی خوشی، غمی اوردیگر معاملات میں بھرپور طریقے سے شامل ہوتے تھے۔
اگر ہم ان باتوں کا موازنہ دور حاضر سے کریں تو ہمیں تمام شعبوں میں عدم برداشت کا کلچر بہت تیزی سے پروان چڑھتا نظر آرہا ہے۔ ہم ایک دوسرے کے پوائنٹ آف ویو کو سمجھنے، سننے کے لئے تیار ہی نہیں، حالانکہ بہت سے معاملات چاہے وہ معاشرتی، مذہبی، سیاسی یا خاندانی ہوں، مل بیٹھا جائے، ایک دوسرے کی رائے کو سنا جائے، ایک دوسرے کے موقف کو سمجھا جائے تو بہت بہتر طریقے سے مسائل کے حل کی طرف پیش قدمی کی جاسکتی ہے، کوئی درمیانی راستہ نکالا جاسکتا ہے، جس سے کسی کی دل آزاری بھی نہ ہو اور معاملہ فہمی بھی ہوجائے۔ عدم برداشت کا کلچر جس تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے، یہ ہماری آنے والی نسلوں کے لئے بہت خطرناک رجحانات کا باعث بن سکتا ہے۔ ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر اس رجحان کو کم کرنے اور رواداری کے رجحان کو فروغ دینے کے لئے کوشش کرنی ہوگی اور برادری سطح پر کام کرنا ہوگا۔ ہمیں سکولوں اور کالجوں کے نصاب میں ایسے مواد کو شامل کرنا ہوگا، جس سے ہمارے نونہالوں، نوجوانوں کی شخصیت سازی میں رواداری اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی اقدار تیزی سے پروان چڑھ سکیں۔
ماضیٔ قریب میں عدم برداشت کی وجہ سے ہمیں لاقانونیت اور دہشت گردی جیسے واقعات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، ایک باعزت، باوقار انسانیت کے جذبات سے لبریز معاشرے کو سب سے زیادہ یہی اقدار سیکھنے کی ضرورت اور جستجو ہونی چاہیے۔ تہذیب اور برداشت کے دائرے میں رہ کر اختلاف رائے کیا جاسکتا ہے۔ ہماری سیاسی جماعتوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے سیاسی ورکرز کو ہلاشیری دینے کے بجائے ان کی مثبت تربیت کریں، موجودہ دور کیونکہ سوشل میڈیا کا ہے اور سوشل میڈیا پر ہمیں عدم برداشت کے معاملات بہت زیادہ دیکھنے کو ملتے ہیں، بعض اوقات تو انتہائی بے ہودہ زبان اور رجحانات کو دیکھ کر انتہائی شرمندگی محسوس ہوتی ہے اور انسان سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے کہ ہم کس پستی کی طرف 
جارہے ہیں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے چکر میں کس حد تک گرجاتے ہیں۔ ہماری مذہبی، سیاسی قیادت کو چاہیے کہ معاشرے میں رواداری کو فروغ دینے کے لئے کوئی جامع حکمت عملی ترتیب دیں، جس سے ہر شعبہ زندگی میں رواداری کو فروغ دیا جائے اور معاشرے میں چھوٹی اور بڑی سطح پر ایسے فورم بنائے جائیں، جہاں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ مل بیٹھنے کے مواقع میسر آئیں، لوگ ایسے ماحول میں ایک دوسرے کے پوائنٹ آف ویو کو سمجھنے کی کوشش کریں اور معاشرے میں مثبت اقدار کے رجحانات فروغ پاسکیں، اسی طرح ہمیں اپنے اردگرد اپنے گلی محلے میں بھی کمیونٹی سینٹرز میں بھی کوئی ایسے پروگرامز ترتیب دینے چاہئیں، جن سے لوگوں کو آپس میں مل بیٹھنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع ملیں، اگر ہم ایسا کرنے میں کوتاہی کریںگے تو آنے والی نسلیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں گی اور معاشرہ بہت بڑے بحرانوں کو جنم دے گا، جس کے نتائج کسی بھی طرح ہمارے معاشرے اور ملک کے لئے بہتر نہیں ہوں گے۔