21 اکتوبر 2021
تازہ ترین

مقبوضہ جموں وکشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال مقبوضہ جموں وکشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال

مقبوضہ جموں کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال پہلی مرتبہ نہیں کیا جارہا۔ بھارتی فوجیوں کی طرف سے اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ اس سفّاکی کا ارتکاب کیا گیا۔ دنیا بھر میں چلنے والی آزادی کی تحریکوں کو سخت سامراجی ہتھکنڈوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن جب سے اقوام متحدہ وجود میں آئی ہے، کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ تحریک آزادی کشمیر کو دبانے اور کشمیر کو ہڑپ کرنے کی مذموم کوشش کے نتیجے میں بھارتی سامراج کو جس سخت مزاحمت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا، اس کے ردّعمل میں قابض فوجیوں نے مہلک ہتھیاروں کے استعمال میں اضافہ کردیا۔ گزشتہ ایک سال سے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کو دھماکوں سے اڑایا جارہا ہے اور کیمیائی مواد کے استعمال سے ان کی لاشوں کی شناخت ختم کی جارہی ہے۔ جیسا کہ ستمبر میں وادی میں حریت پسند نوجوانوں کے جسم پر پائے جانے والے نشانات سے ثابت ہوا۔ متعدد نوجوان اس وقت شدید زخمی ہوئے، جب بھارتی غنڈوں نے دھماکہ خیز مواد سے مختلف مکانوں کو اڑا دیا تھا۔ تباہ شدہ مکانات کے ملبے کے نیچے سے بھی کیمیائی مواد ملا۔ کیمیائی مواد کے ساتھ آتشیں اسلحہ اور پیلٹ گنوں کا استعمال بھی بڑھ رہا ہے۔ ظلم اور درندگی کا ہر ہتھکنڈا روا رکھا گیا ہے۔ نظربندی اور کرفیو سے آگے بڑھتے ہوئے بھارت نے کشمیریوں کو شعلوں میں جلانا معمول بنالیا ہے، جو دھماکہ خیز مواد وادی میں استعمال کیا گیا، اسی طرح کا مواد سری نگر اور بڈگام میں بھی استعمال ہوا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کشمیر کو تباہ کرنے کے لئے ’را‘ پوری طرح ملوث ہے اور فوج میں اس نے ہندو دہشت گرد بھرتی کر رکھے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی سول سوسائٹی نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ دھماکوں میں شہید ہونے والے کشمیریوں اور تباہ ہونے والے مکانوں کا معائنہ کرائے، تاکہ حقائق دنیا کے سامنے لائے جاسکیں۔
مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی مظالم کی طرف اگر عالمی برادری سنجیدگی سے توجہ نہ دے سکی تو یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ بن سکتا ہے۔ اس انسانی المیے کی کوکھ سے جنم لینے والے دیگر مصائب اور مسائل انسانی کنٹرول سے باہر ہوجائیں گے، جن پر سوائے ماتم کے اور کچھ نہیں ہوسکے گا۔ عالمی برادری کی بے حسی اور امت مسلمہ کی لاپروائی اور خاموشی حالات کو جس طرف دھکیل رہی ہے، اس کا انجام بہت بھیانک اور رونگٹے کھڑے کردینے والا ہوگا۔ کشمیر میں جاری کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال اس المیے کا عروج تصور کیا جاتا ہے۔ کیمیائی مواد کا نہتے کشمیریوں پر استعمال عالمی انسانی حقوق اور قوانین کی خلاف ورزی ہے، جس کی بھارت دھجیاں اڑا رہا ہے۔ نام نہاد آپریشنز کی آڑ میں کشمیری نوجوانوں کو شہید کرکے ان کی شناخت سے پہلے ہی لاشوں کو جلادیا جاتا ہے۔ یہ چنگیزیت اور سفاکیت کی انتہا ہے۔ پہلے نوجوانوں کو شہید کرکے ان کی لاشوں کی بے حرمتی کی جاتی تھی، اب ایسا مواد استعمال کیا جاتا ہے جو شہید ہونے والوں کی لاشوں کو بھی جلادیتا ہے، ان کی شناخت مشکل ہوجاتی ہے۔ ظلم کا یہ طریقہ بھارت نے اسرائیلی ایجنسی موساد سے سیکھا ہے، جو مکانات کو تباہ کرنے کے لئے سفید رنگ کا فاسفورس استعمال کرتی ہے۔ بھارت نے یہ مواد اسرائیل سے کشمیر میں استعمال کرنے کے لئے منگوا رکھا ہے۔ دونوں غاصب اور ناجائز قابض ہیں۔ دونوں کے عزائم مسلمانوں کی بربادی ہے، لیکن مسلم حکومتیں اپنے اندرونی مسائل میں پھنسی ہوئی ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کی نسل کشی پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی تنظیمیں اپنی رپورٹس میں سیکڑوں بار نشان دہی کرچکی ہیں کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہا، مسلمانوں کی نسل کشی کررہا ہے۔ بقول ڈاکٹر گریگوری اسٹینٹن کشمیر اور آسام میں نسل کشی ایک مرحلے کی دوری پر رہ گئی ہے۔ بھارت وہ تمام مراحل طے کرچکا جس کے بعد نسل کشی کا آغاز ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کو کشمیر پر بھارتی مظالم کی رپورٹ تیار کرنے کی پاداش میں بھارت سے نکل جانے کا کہا گیا تھا۔ اب مودی پر شدید تنقید کی جارہی ہے کہ اس نے بھارتی معاشرے میں نفرت کے بیج بو دئیے ہیں اور ہندوتوا کے جذبات کو ہوا دی ہے، جس سے اقلیتوں پر ظلم اور تشدد عام ہوا ہے۔
مسلمانوں کی نسل کشی کے لئے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے جارہے ہیں۔ گزشتہ چند ماہ میں صرف کشمیر میں خواتین سمیت سیکڑوں کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا گیا، متعدد خواتین بیوہ اور درجنوں بچے یتیم ہوئے۔ بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر میں پانچ گھروں کو جلاکر راکھ کر دیا، نتیجتاً شہید ہونے والوں کی بظاہر شناخت ناممکن ہوگئی۔ شہداء کے جسموں پر پائے جانے والے نشانات اور علامات سے یہ بات سامنے آئی کہ بھارت کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کے لئے کیمیائی ہتھیار استعمال کررہا ہے۔ پلوامہ کے علاوہ دیگر اضلاع میں بھی اسی طرز کے حملے کیے گئے، جن میں کیمیائی مواد استعمال کیا گیا۔ پاکستان کی طرف سے اس پر شدید احتجاج کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے بھی پاکستان نے کشمیر میں کیمیائی مواد سے بھرے گولے استعمال کرنے پر بھارت کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بھارت کے اس مذموم اقدام کی مکمل طور پر چھان بین کرے۔ بھارت کی طرف سے جھوٹ پر مبنی یہ جواب آیا کہ ’اس کے پاس کیمیائی ہتھیار نہیں۔‘ یاد رہے کہ بھارت اور پاکستان دونوں نے ’’سی ڈبلیو سی کنونشن‘‘ پر دستخط کر رکھے ہیں، جس میں کیمیائی ہتھیاروں کی پیداوار، فروغ، استعمال، تجارت، ذخیرہ اور ایک سے دوسری جگہ منتقلی ممنوع قرار دی گئی ہے۔ کنونشن کے مطابق ایسے ہتھیار کسی عالمی جنگ، جھڑپ یا بغاوت حتیٰ کہ کسی حالت میں بھی استعمال نہیں کیے جاسکتے۔ ایک دوسری تنظیم ہر سال یکم دسمبر کو ’کیمیائی ہتھیاروں کا شکار‘ افراد کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتی ہے اور ان کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے، جو ایسے ہتھیاروں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ بھارت متعدد بین الاقوامی جرائم میں ملوث ہے، جس کے ثبوت پاکستان نے اکٹھے کیے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے بھارت کے مذموم عزائم کے خلاف ایک بھرپور سفارتی مہم شروع کی گئی ہے، جس سے بھارت کا بھیانک چہرہ دنیا کے سامنے کھل کر آجائے گا۔