21 اکتوبر 2021
تازہ ترین

تیسری عالمی جنگ… تیسری عالمی جنگ…

جہاں’’ کرونا‘‘ حملے نے دنیا کی بڑی بڑی معیشت کوگھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا، وہیں افغانستان میں 20 سال امریکہ اور اتحادیوں سے پریشان طالبان نے امریکہ کی پسپائی کے بعد دنیا کو آنکھیں کھولنے پر مجبور کردیا ہے۔ اتحادیوں کے انخلا اور امریکی سرمائے کے بے دریغ استعمال نے گرتی ہوئی امریکی معیشت پر صدر جوبائیڈن کو مزید قرض حاصل کرنے کے اعلان پر مجبور کردیا۔ امریکہ اور چین بظاہر دنیا کے دو پہلوانوں کی طرح آمنے سامنے ہیں، لیکن حقیقت یہی ہے کہ امریکہ اس وقت بھی چین کا مقروض ہے اور اب اپنے پرانے حریف روس سے بھی قرضوں کا متمنی ہے، یہی نہیں امریکہ کی بے بسی اس سے زیادہ اور کیا ہوگی کہ سازشوں سے ’’روس‘‘ کو گورباچوف کے دور میں توڑنے والا اس وقت ’’روس‘‘ سے تعاون کی بھیک مانگ رہا ہے۔ صدر پوتن نے امریکہ کی بے بسی پر ’’جنیوا‘‘ میں صدر جوبائیڈن کو افغانستان کی نگرانی کے لئے اڈے فراہم کرنے کی پیشکش کی تو انہوں نے فوراً اس لئے قبول کرلیا کہ پاکستان کے انکار پر بھارت نے بھی ہامی نہیں بھری۔ طالبان کی دھمکی سے مودی گھبراگئے، کیونکہ انہیں یہ علم ہے اگر ’’افغانستان‘‘ کی عبوری حکومت مستحکم ہوگئی تو وہ ’’مسلمانوں‘‘ کی مدد کے لئے بھارت کے زیر قبضہ کشمیر کا رخ کرسکتے ہیں۔ 
بھارت سرکار ’’افغانستان‘‘ سے اتحادیوں کے انخلا اور ’’اسلامی امارات افغانستان‘‘ کے قیام کے بعد خاصی گھبرائی ہوئی ہے۔ امریکہ اپنی شکست در شکست کے بعد ساکھ کی بحالی کا خواہش مند ہے، لہٰذا ’’تائیوان‘‘ کا مکمل سرپرست بن چکا، جہاں ’’چین‘‘ دعویدار ہے۔ گذشتہ دنوں ’’تائیوان‘‘ نے اعلان کیا تھا کہ ’تائیوان‘ ہر لحاظ سے آزاد ملک ہے، لہٰذا چینی مداخلت برداشت نہیں کی جاسکتی، اس نے الزام لگایا کہ ’’عوامی جمہوریہ چین‘‘ زمینی اور فضائی حوالوں سے مسلسل خلاف ورزی کررہا ہے، جسے زیادہ دیر تک برداشت نہیں کیا جاسکتا، یہی نہیں، اس وقت وہاں ’’امریکہ ‘‘ کی سرپرستی میں چھ ممالک کی عسکری مشقیں بھی جاری ہیں۔ ان تمام سرگرمیوں کے ردعمل میں ’’چین‘‘ نے واضح اعلان کردیا کہ یہ سب کچھ اس پر دبائو بڑھانے کی سازش ہے، جس سے ہم آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ عوامی جمہوریہ چین نے یہ بھی واضح اعلان کیا کہ اب مذاکرات اور درگزر کا وقت گزر چکا، اس لئے رواداری اور برداشت کی گنجائش نہیں، لہٰذا کسی جانب سے بھی غیر ذمے دارانہ حرکت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، جس کے بعد چینی میڈیا نے یہ شور مچایا ہے کہ دنیا بھر میں اقتصادی بحران معاشی تنزلی اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو شکست کے بعد طاقت نہیں۔ زندگی کا توازن بگڑ چکا، اس لئے جنگ کے بادل منڈلارہے ہیں، کسی بھی غلطی پر تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے۔
میرے خیال میں حقیقت اس سے مختلف ہے، ’’امریکہ ‘‘ اپنے برے دنوں میں سنبھلنے کی کوشش کرے گا۔ جوبائیڈن کے بجائے اگر صدر ٹرمپ ہوتے تو کسی بھی حماقت کی گنجائش تھی۔ دو مرتبہ نائب صدر رہنے والے جوبائیڈن جانتے ہیں کہ ’’پینٹاگون‘‘ اور سی آئی اے بھی پہلے کی طرح مضبوط نہیں، ملک پہلے ہی قرضوں میں جکڑا ہوا ہے اور مشکلات سے نکلنے کے لئے مزید قرض درکار ہے، یوں چودھراہٹ کو قائم رکھنے کے لئے لفظی جنگ اور دھمکیوں سے ہی کام چلایا جاسکتا ہے، انہیں یہ بھی پتا ہے کہ ’’افغانستان‘‘ سے انخلا پر حالات ان کے ہاتھ سے نکل چکے اور انہیں مستقبل میں چین، روس، ایران، پاکستان اور اسلامی ریاستوں کا نیا بلاک بنتا دکھائی دے رہا ہے، پھر بھی چین کو نظرانداز نہیںکیا جاسکتا، لہٰذا امریکن خفیہ ادارے سی آئی اے کو بکھرتے دیکھ کر ’’مشن سینٹر‘‘ بنادیا ہے، جو خالصتاً چین کے پیدا کردہ عالمی چیلنجز کے سدباب کے لئے تشکیل دیا گیا ہے، جوبائیڈن کا دعویٰ کسی حد تک درست بھی ہے، کیونکہ چند روز پہلے سی آئی اے 60 ہزار افراد پر مشتمل بیڑے کے درجنوں اہلکار مارے گئے اور بہت سوں نے کام کرنے سے انکار کردیا ہے، اس لئے امریکہ کو فوری ’’چائنہ مشن سینٹر‘‘ 
بناکر چین کی نگرانی کرنی پڑے گی، دوسری جانب روس کی اسلامی ریاستوں سے امریکہ کی اڈوں کی مانگ کو پوتن کی پیشکش نے پورا کردیا۔ اس سلسلے میں روس کے سب سے بڑے عسکری اڈوں میں سے ایک تاجکستان سے سہولت لی جائے گی۔ امریکہ طالبان سے شکست کھانے کے بعد تاجکستان سے ڈرون کی مدد سے نظر رکھے گا جب کہ ’’سیکرٹ کیبل‘‘ نے سی آئی اے کے بارے میں یہ راز افشا کیے ہیں کہ اس کے درجنوں سہولت کار مارے گئے، بلکہ پکڑے جانے پر وہ ’’ڈبل ایجنٹ‘‘ بن گئے۔ چونکہ گذشتہ دو دہائیوں سے اس خفیہ ادارے کی تمام تر توجہ افغانستان، عراق اور شام پر تھی، تینوں ممالک میں دہشت گردوں کے حملے بھی کسی سے پوشیدہ نہیں، لہٰذا چین اور روس پر حقیقی معنوں میں توجہ نہیں دی جاسکی، دلچسپ بات کہ سی آئی اے کے ذمے داران نے ان خبروں کی تصدیق کی ہے تردید نہیں۔
طالبان کی امارات اسلامی افغانستان یقیناً موجودہ دور میں ان گنت مسائل کا شکار ہے، اسے قریب ترین ہمسایہ اور برادر ملک پاکستان نے ابھی تک تسلیم نہیں کیا تو کوئی اور کیسے کرے گا؟ اقوام متحدہ نے عبوری حکومت کے نامزد نمائندے کو شرکت کی اجازت نہیں دی۔ ’’امریکہ ‘‘ ایک طرف عوامی فلاح اور اجتماعی مفادات میں مدد کے لئے ہاتھ بڑھاتا ہے، دوسری جانب تمام اکائونٹس منجمد کردیتا ہے۔ سب یہ دیکھ رہے ہیں کہ کیا طالبان ماضی کی طرح تشدد پسند ہیں یا انہوں نے دو دہائیوں میں کچھ نیا سیکھ لیا ہے، تاہم اس سے انکار نہیں کہ موجودہ طالبان ماضی سے مختلف ہیں، وہ جرائم پیشہ افراد کو اسلامی سزائیں تو ضرور دیں گے لیکن انسانی حقوق کی بحالی کے حوالے سے ان کی پالیسی تبدیل دیکھی جاسکتی ہے اور اس تبدیلی میں دوحہ مذاکرات ہی نہیں اس سے پہلے ’’قطر اور پاکستان‘‘ کی کوششوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا،اگر طالبان کی عبوری حکومت نے صبر و تحمل اور برداشت و رواداری کا مظاہرہ کیا تو دنیا کے رویوں میں تبدیلی ضرور آئے گی، جس کا ثبوت 20اکتوبر کو روس میں منعقدہ عالمی کانفرنس ہے، جس میں مخالفین کی موجودگی میں ’’طالبان‘‘ کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ شاید دنیا اس پاکستانی موقف سے اتفاق کر گئی ہے کہ افغانستان کو ماضی کی طرح تنہا نہ چھوڑا جائے ورنہ پہلے سے زیادہ بھیانک نتائج نکلیں گے۔ خطے کا امن ہی نہیں، دنیا میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ویسے بھی دنیا اس راز سے بخوبی واقف ہوچکی کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ ویت نام، عراق اور افغان جنگیں اور نتائج کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔امریکہ اب کسی کو تعاون کی یقین دہانی کرائے یا روس کے پوتن۔ اعتماد کا فقدان اس لئے ہوگا کہ دونوں گہرے زخم کھائے ہوئے ہیں، کون جانے کہ ان کے حقیقی عزائم کیا ہیں، اس لئے موجودہ دور ’’تیسری جنگ عظیم‘‘ کا متحمل ہرگز نہیں ہوسکتا، کام دھمکیوں اور صف بندیوں سے ہی چل سکتا ہے۔ جنگ کی دھمکی یا پھلجڑی چینی میڈیا نے چھوڑی ہے، دنیا کے ردعمل کو دیکھنے کے لئے لیکن اس بات کا یقین دنیا کو ہے کہ ’’چین‘‘ اس قدر بے وقوفی کا مظاہرہ نہیں کرے گا، کسی زخمی شیر کا ضمیر جاگ جائے تو یہ انہونی ہوگی، کیونکہ بڑی طاقتوں یعنی چودھریوں کے ضمیر جاگتے اور سوتے بھی بغیر مقصد نہیں۔