21 اکتوبر 2021
تازہ ترین

’’دنیا بدل رہی ہے‘‘ ’’دنیا بدل رہی ہے‘‘

جو شخص مخلوق سے محبت کرتا ہے، اسے اللہ تعالیٰ کی محبت مل جاتی ہے۔ بہت سارے لوگ فقط عبادت ہی کو راہِ الٰہی کا ذریعہ سمجھتے ہیں جب کہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔ عبادت دراصل اس بات کا وعدہ ہے کہ میں مانتا ہوں کہ صرف وہ ذات کریم ہی اس قابل ہے کہ اس کو سجد ہ کیا جائے، اسی کی ثنا بیان کی جائے۔ مخلوق پر مہربانی، ان کے لئے آسانیاں پیدا کرنا، ان کی قدر کرنا، چھوٹوں پر رحم، بڑوں کا ادب کرنا، اپنے اندر عاجزی پیدا کرنا۔ یہ علامات بتاتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس پر مہربان ہے۔ دوسروں کی غلطیاں نکالنا اللہ تعالیٰ سے دوری کی علامت ہے جب کہ اپنی غلطیوں کی طرف دیکھنا اللہ تعالیٰ سے قربت کی علامت ہے۔
انسان جب غورو خوض کرتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ اللہ کی رحمت اس شخص پر زیادہ ہوتی ہے جو دوسروں پر رحم کرتا ہے، معافی اس کو زیادہ ملتی ہے جو دوسروں کو معاف کرتا ہے۔ غوروخوض کے بعد جب وہ نتائج اخذ کرتا ہے تو اس کا بھروسا اللہ تعالیٰ کی ذات پر بڑھتا چلا جاتا ہے۔ پھر وہ سمجھ جاتا ہے کہ آنے والے چیلنج، مشکلات اور رکاوٹیں دراصل میرا امتحان ہیں۔ ایسی ہی ایک شخصیت وائس چیئرمین اوورسیز پاکستان کمیشن سید طارق محمودالحسن ہیں۔ آپ کا پاکستانیوں سے محبت کا یہ عالم ہے کہ آپ قریباً آٹھ برس سے تارکین وطن کے قانونی حقوق کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ آپ ورلڈ کانگریس آف اوورسیز پاکستانیز کے برطانیہ کے صدر بھی ہیں اور سابق وزیراعظم تھریسامے کے ساتھ ویمن کانگریس کے انعقاد میں بھی پیش پیش تھے۔ 
بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ تارکین وطن کو ووٹنگ کا حق دلانے کے لئے پانچ سال تک سپریم کورٹ میں جو جنگ لڑی گئی، اس کا فیصلہ 2018 میں ہوا، سید طارق محمودالحسن اس کے ہر اول دستے میں شامل تھے۔ انہوں نے تارکین وطن کے مقدمات کی فاسٹ ٹریک شنوائی کے لئے پیش رفت میں بھی بیش بہا کام کیا۔ اس سلسلے میں لاہور ہائی کورٹ کے ساتھ تین چار سال تک جدوجہد کی گئی اور گزشتہ برس ایک خصوصی بینچ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ سید طارق محمود الحسن، عام طور پر ٹی ایم حسن کے نام سے جانے جاتے ہیں، قانونی ماہر، مایہ ناز تجزیہ کار اور مصنف ہیں۔ ٹی ایم حسن نے نارتھمپٹن یونیورسٹی (برطانیہ) سے بزنس کی ڈگری کے ساتھ قانون میں ایل ایل ایم کیا ہوا ہے۔ وہ عالمی تھنک ٹینکس کے رکن رہ چکے، جن میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹرٹیجک سٹڈیز، رائل کامن ویلتھ سوسائٹی، چاتھم ہاؤس اور رائل سوسائٹی آف آرٹس کے فیلو بھی ہیں۔ انہوں نے کئی تعلیمی، تربیتی اور مشاورتی ورکشاپس کی قیادت بھی کی ہے۔ سید طارق محمودالحسن بین الاقوامی تعلقات، عالمی امور اور سیاست کے ماہر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے بہت سے عالمی اداروں اور یونیورسٹیوں میں مختلف سیمینارز میں شرکت کی ہے۔
ان کی بین الاقوامی تعلقات اور عالمی امور پر دو کتابیں بھی شائع ہوچکی ہیں، جن کے نام ’’A world in Chaos‘‘ اور’’دنیا بدل رہی ہے‘‘ ہیں۔ دنیا بدل رہی ہے، کتابوں کی دنیا میں انقلاب ایک انقلاب بن کر ابھری ہے۔ دنیا بدل رہی ہے، میں ناصرف تاریخ کے طلباء کے لئے ایک مستند کتاب ہے، بلکہ عالمی امور اور تعلقات عامہ میں دلچسپی رکھنے والے حضرات کے لئے ایک شان دار تحفہ ہے۔ تاریخ، تحقیق، اقوام عالم، سیاسیات اور معاشیات میں دلچسپی رکھنے والوں کے لئے ایک غیر جانبدار، مستند اور قابل مطالعہ کتاب ہے۔
آپ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ آپ ایک مضبوط اعصاب کے مالک انسان ہیں، لیکن آپ اس وقت بالکل ٹوٹ گئے، جب 2018 میں آپ کے دو معصوم بچوے پاکستان میں موٹروے حادثے میں اس دنیائے فانی سے چلے گئے۔ گزشتہ تین سال میں دوستوں نے آپ کو تل تل بکھرتے دیکھا اور پھر ان کو ایک نئے جذبے اور ہمت کے ساتھ اٹھاتے بھی دیکھا۔ بچوں کی موت ان کے لئے اتنا بڑا سانحہ ہے، جس کا ازالہ شاید زندگی بھر نہ ہوپائے۔ آپ کے آبائی شہر کمالیہ میں آپ ایک وسیع و عریض خانقاہ اور لنگرخانہ تعمیر کرا رہے ہیں۔ آپ نے دوبرس شدید نفسیاتی کیفیت میں گزارے، پھر ایک دن ایسا آیا کہ آپ نے اپنے غم کو ہی اپنی طاقت بنالیا، صدمے کو ہی اپنی طاقت بنانے کی ٹھان لی۔ ایک طرف انہونی نے اپنی روحانی اور قلبی وارداتوں کو کتاب کی شکل دینی شروع کردی۔ اور بالآخر ایک ایسی کتاب تخلیق کی، جس کی نظیر نہیں ملتی۔ آپ نے اپنے بچوں سید زمام امام اور سید محمد علی امام کی یاد میں 15 کروڑ کی خطیر رقم سے علی زمام ٹرسٹ بنادیا ہے، جس کی مدد سے آپ بے شمار بچوں کی زندگیوں کو بہتر کرنا چاہتے ہیں اور دوسرا ان کی زندگی کا مقصد انسانیت کی خدمت ہے، چاہے وہ پاکستان میں ہو یا بیرون ملک، انہوں نے خود پاکستان اور پاکستانیوں کے لئے وقف کردیا ہے۔