21 اکتوبر 2021
تازہ ترین

محسن پاکستان ناقابل تسخیر رہے! محسن پاکستان ناقابل تسخیر رہے!

آج ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایسی شخصیت ہم سے روٹھ کر چلی گئی، جس نے وطن عزیز کو وہ مقام و عزت اور طاقت دی، جس کا احسان پورا پاکستان کبھی نہیں اتار سکتا۔ کئی گھنٹوں تک سوچتا رہا کہ انہیں کن لفظوں میں خراج عقیدت پیش کروں، میرے پاس عظیم، بلندقامت اور سورج سے زیادہ تیز روشنی دینے والی شخصیت محسن پاکستان کے لئے الفاظ ہی نہیں کہ ان کو کن جملوں میں نذرانہ عقیدت پیش کروں۔ 
ڈاکٹر صاحب کی وفات کی اطلاع جنگل کی آگ کی طرح پھیلی تو پہلے اسے ماضی کی طرح منظم افواہ ہی سمجھا، کئی گھنٹوں تک یقین نہیں آیا کہ اب پاکستان میں جوہری ٹیکنالوجی کے خالق ہمارے درمیان نہیں رہے۔ جنازہ دیکھنے کے بعد بھی ایسا لگ رہا تھا کہ یہ بھی کوئی فیک نیوز ہے، تصویروں کو فوٹو شاپ کیا گیا ہوگا۔ سوشل میڈیا میں جھوٹے ٹرینڈز بنے ہوں گے، لیکن اسلام آباد کی فضائیں زاروقطار رو رہی تھی، عوام کی بڑی تعداد بھی جنازے میں شرکت کے لئے پہنچی، لیکن موت فوبیا کے شکار گنتی کے لوگ، نہ جانے چند لمحوں کا فاصلہ کیوں طے نہیں کرسکے، ٹویٹر پر کھوکھلے بیانات کی بھرمار تھی، وہ بھی ان کے میڈیا ایڈوائزر نے لکھے ہوں گے۔ لفاظی کا مقابلہ تھا جس میں سب نے نمبر ون بننے کا ’اعزاز‘ حاصل کیا۔ سوچتا ہوں کہ ان کی زندگی کو کئی بار موت کا کھیل بناکر، انہیں اور ان کے اہل خانہ کو روحانی تکلیف دینے والے، اب کس سے معافی مانگیں گے، انہیں قید میں رکھنے والے اب اپنے مردہ ضمیر کو کہاں دفنائیں گے۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ کیا لکھوں، کس کو مخاطب کروں، کس کو مجرم قرار دوں۔ موت تو برحق ہے، سب کو اس کا ذائقہ چکھنا ہے، لیکن جیتے جی کسی کو مارنے کی خواہش تو عام انسان کے لئے بھی نہیں کی جاتی، یہ تو پھر بھی پاکستان کے لئے جوہری ٹیکنالوجی کے خالق تھے۔
ملک کی حفاظت اور سلامتی کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے والوں کو ان کی زندگی میں ہی عزت و احترام دینا ہم سب کا فرض ہے۔ یہ معاشرے میں بے حسی اور رعونت کی بدترین مثال تھی کہ جس روش کا مظاہرہ کیا جاتا رہا، وہ ریاست کو خودکشی کی دہلیز تک لے جانے کا سفاکانہ وتیرہ تھا، جس کو روکنا اہل وطن کا اولین فرض بنتا تھا۔ سقم حصول انصاف کا ذمے دار کون ہے، اب اس کا فیصلہ عدالتیں نہیں بلکہ تاریخ کے وہ سیاہ باب کریں گے جنہیں رقم کرنے والے عبرت کا نشان ہیں۔ حصول انصاف کے نظام میں مضمر کوئی حقیقی خرابی ہے، ہمیں اسے تسلیم کرنا ہوگا، کیسے کیسے تیر جمہوریت اور رواداری کے سینے میں پیوست کیے گئے کہ مذمت کرنے سے بھی دل کا بوجھ کبھی ہلکا نہیں ہوگا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی شخصیت اور ان کے احسانات کو پامال کرنے کے لئے کیا کیا مفروضات تراشے گئے۔ ملکی سیاست، نظام و انصرام کو کثیر جہتی بحرانوں کے بطن سے پیدا شدہ پیچیدہ مسئلہ بنانے والے خود کو کس طرح قدرت کے انصاف سے بچاسکیں گے۔ ملک کو بچانے کے لئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قربانی جنگ، شورش، مزاحمت، دہشت گردی، بے امنی، متوازی ریاست اور قانون شکنی کرنے والوں کے لئے واضح پیغامہے۔ تشدد و بربادی کی سمت ملک کو دھکیلنے والی قوتوں کی جنون انگیز کارروائیوں کو تن تنہا ایک قدآور شخص نے مرتے دم تک جرأت مندی سے روندا اور ملک کو بحرانی کیفیت میں مبتلا کرنے کے بجائے سب کچھ اپنے دل و چھلنی روح پر برداشت کرنے والی عظیم ہستی اب تاریخ کا ناقابل فراموش باب بن چکی۔ 
ڈاکٹرعبدالقدیر خان کی رحلت تمام طبقات، اداروں اور صاحب اختیار لوگوں کے لئے ایک پیغام ہے کہ اب بھی مملکت میں عدم رواداری کی روش کو روکنے اور تاریخ میں اپنا نام اچھے لفظوں میں درج کرانے کے لئے سنجیدہ طرز عمل اپنالیں۔ علماء کرام، سیاست دان، دانشور، سکالر، محب وطن سمیت پوری سول سوسائٹی کی اجتماعی ذمے داریاں بڑھ چکیں کہ تاریخی کردار ادا کرنے کے لئے فروعی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کرابدی، سچی اور حقیقت پسندانہ طرز زندگی کو معیار بنانا ہوگا۔ تاریخ کے ایسے نازک اور فیصلہ کن دوراہے اور عظیم شخصیت کی وفات کے بعد ہمیں اب بھی عالمانہ طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کے تالیف قلب اور فکر و نظریاتی رہنمائی کے لئے ڈاکٹرعبدالقدیر خان کو مشعل راہ بنانا ہوگا۔ حقیقت پسندی، استدلال، عقلیت اور غیر تنگ نظرانہ فکری وژن اور معروضیت پر مبنی انداز فکر میں ڈاکٹر صاحب کی تقلید کرنا،سچائی اور وطن کے لئے قربانی کے جذبے کا فروغ ناگزیر ہے۔ ملک کی سلامتی و بقا کے خلاف کمربستہ قوتوں کا زور توڑنے کے لئے قربانی کے استعارے محسن پاکستان کو کبھی بھی بھلایا نہیں جاسکتا، وہ ناقابل تسخیر تھے اور رہے۔ ملکی سیاسی صورت حال سنگین اور فضا شدید نفسیاتی ہیجان کی لپیٹ میں ہے، جذباتی کشمکش، رجحانات و حساسیت کی دل دہلانے والی روش سے ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کا قد کم نہیں کیا جاسکتا۔ شدت آمیز نظریوں اور خودساختہ سازشی منصوبہ بندیوں کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کی ضرورت مزید بڑھ چکی۔ محسن پاکستان نے جس راز کو سینے میں رکھ کر جہان فانی سے کوچ کیا، وہ تاریخ کے بے رحم اوقات میں ایک نہ ایک دن ضرور منکشف ہوں گے، لیکن گزرا وقت دوبارہ لوٹا نہیں کرتا۔