21 اکتوبر 2021
تازہ ترین

نو دانے اور انقلاب… نو دانے اور انقلاب…

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے امور کشمیر  و گلگت بلتستان علی امین گنڈاپور کہتے ہیں کہ کیا ہوا اگر عوام کو مہنگائی کو برداشت کرنا پڑرہا ہے، کیا یہ عوام انقلاب کے لئے چینی کے سو دانوں میں سے نو دانے کم نہیں کھاسکتے اور کیا روٹی کے سو نوالوں میں سے نو نوالے کم نہیں کھاسکتے۔ اپنی اس دانائی پر مبنی بات پر یقیناً وہ تمغۂ حسن کارکردگی کے مستحق ہیں۔ ان کی اس تجویز کے بعد راقم الحروف حساب لگانے لگ گیا کہ ایک روٹی میں عموماً ہم کتنے نوالے کھاسکتے ہیں تو پہلے خود نوالے کرنے کی ٹھانی تو ایک روٹی میں زیادہ سے زیادہ نو یا دس نوالے ہی ہوئے، یعنی اگر ہم ایک وقت پر دو روٹیاں کھائیں تو 20 یا 30 کے درمیان نوالے بنے اور اگر سو نوالے کھانے ہوں تو ہمیں ایک وقت پر کم از کم نو سے دس روٹیاں کھانا پڑیں گی۔ یقیناً علی امین گنڈاپور نے انقلاب میں ساتھ دینے کے لئے پیٹو قسم کے بندوں کو دعوت دی ہے، جو ایک وقت میں آٹھ سے دس روٹیاں کھا جاتے ہیں اور اپنے ساتھ دیگر عوام کو بھی مہنگائی کی چکی میں پیس رہے ہیں۔ عوام تو پہلے ہی ایک وقت کی ایک روٹی کے لئے ترس رہے ہیں وہ تو بادِل نخواستہ انقلاب میں حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں۔ روٹی کے ساتھ انہوں نے چینی کے سو میں سے نو دانے کم کرنے کے لئے کہا ہے تو یہ یقیناً ایک جان جوکھم کا کام ہے، کیوںکہ چینی کے دانوں کو گننا ہی ایک سعی لاحاصل ہے اور عموماً ایک چینی کے چمچ میں سو سے زائد دانے آتے ہیں اور جب لوگ چائے بنائیں گے تو انہیں یاد آئے گا کہ علی امین گنڈاپور نے تو کہا تھا کہ چینی کے سو دانوں میں سے نو دانے کم کرنے ہیں تو پھر گھر میں چائے بناتی عورتیں، ہوٹلوں میں چائے بنانے والے مرد چینی کے دانے گننا شروع ہوجائیں گے ایک تو اس سے انہیں مہنگائی کے خلاف سوچنے کا موقع کم ملے گا اور دوسرا دانے گننے میں اتنا وقت صَرف ہوجائے گا کہ ہوسکتا ہے، چائے پینے کا دل ہی نہ کرے، یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بڑے ہوٹلز اور کیفوں میں جس طرح چائے یا کافی کے ساتھ پڑیا میں بند چینی دی جاتی ہے تو اب ہوٹلز اور کیفے والوں کو باقاعدہ نوٹس جاری کیا جاسکتا ہے کہ چینی کے 91 دانے ہر پڑیا میں پیک کرکے گاہکوں کو دیے جائیں، اس طرح ایک تو چینی پر اٹھنے والے اخراجات پر بچت ہوگی، دوسرا چینی کم استعمال ہوگی، جس سے شوگر مافیا کا نقصان ہوگا، تیسرا دانے گننے کے لئے ہوسکتا ہے کہ ہوٹلز والوں کو ملازمین کی ضرورت پڑے، اس طرح روزگار پیدا ہوگا اور سو کروڑ نوکریوں کا وعدہ بھی پورا ہوگا۔ چینی کم کھانے سے شوگر کی بیماری بھی نہیں ہوگی، اس طرح لوگوں کے وہ پیسے جو اس بیماری کی وجہ سے ڈاکٹروں کی جیب میں چلے جاتے، یا دواساز کمپنیاں انہیں کنگال کردیتی ہیں، وہ بھی نہیں لگیں گے اور لوگ جسمانی طور پر بھی تندرست رہیں گے۔ اس کے علاوہ بھی دیگر کھانے پینے کی اشیاء پر بھی یہ فارمولا اپناکر انقلابی حکومت کا ساتھ دیا جاسکتا ہے۔ جس طرح گھی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں، اس کو نیچے لانے کا سب سے آسان نسخہ ہے کہ گھی اب ڈراپ کی صورت دیا جائے۔ گھی کے ڈبوں پر پابندی لگائے جائے اور اسے ڈراپ پیکنگ میں مارکیٹ میں لایا جائے۔ ایک تو اس سے گھی تیار کرنے والی کمپنیوں کی من مانیاں ختم ہوں گی اور دوسرا گھی کے کم استعمال سے بلڈ پریشر، کولیسٹرول جیسی بیماریاں بھی کنٹرول میں رہیں گی۔ اب گھی کے ایک روٹی پر کتنے ڈراپ گرانے ہیں، یہ فارمولا جلد از جلد علی امین گنڈاپور کو بتانا ہوگا، تاکہ حکومت کا ایک اور عوام دوست اقدام منظرعام پر لایا جاسکے۔ دالیں اور چاول کی قیمتیں بھی بڑھ چکی ہیں تو اس پر بھی فارمولا بناکر پیش کرنا چاہیے، تاکہ مہنگائی ہونے کے باوجود لوگ خوشی خوشی یہ چیزیں کھا بھی سکیں اور انقلاب میں حکومت کا ساتھ دے کر اس جہاد میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ میرے خیال میں دالوں کے دانے گننا چینی کی نسبت آسان رہے گا، کیوںکہ عموماً دال کا حجم چینی کے دانوں سے تھوڑا زیادہ ہی ہوتا ہے تو اب دالیں بھی جنرل سٹور یا یوٹیلٹی سٹورز پر پہلی فرصت میں ساشے پیک میں دستیاب ہونی چاہیے۔ اب ایک ساشے میں دال کے کتنے دانے ہونے چاہئیں، اس پر جلد از جلد ایک نئی وزارت بھی قائم کرنی چاہیے، جس کا کام ہی صرف دانوں کی تعداد مقرر کرنا ہو۔ اس کے علاوہ اس وزارت کے ماتحت ایک فورس ہونی چاہیے، جو دکانوں پر جاکر دانے چیک کرے کہ کہیں کوئی انقلاب دشمن جنرل سٹورز مقدار سے زائد دانے تو نہیں دے رہا۔ اسی طرح پٹرول کی قیمتیں بھی روز بروز پہنچ سے باہر ہوتی جارہی ہیں تو اس پر بھی علی امین گنڈاپور کو کچھ سوچنا چاہیے، یا ان کے ساتھ دیگر وزراء، مشیروں کو اس پر مغزماری کرنی چاہیے کہ اس میں کیسے عوام کو انقلابی حکومت کا ساتھ دینے پر آمادہ کیا جاسکتا ہے اور جب تک عوام اس دانا سازی میں حکومت کا ساتھ نہیں دیں گے تو انقلاب یا ریاست مدینہ قائم کرنا ایک خواب ہی رہے گا، ویسے بھی ثاقب لکھنوی کہتے ہیں کہ: اے چمن والو چمن میں یوں گزارا چاہیے باغباں بھی خوش رہے راضی رہے صیاد بھی