21 اکتوبر 2021
تازہ ترین

عظیم استاد، پروفیسر عبدالاحد شیروانی عظیم استاد، پروفیسر عبدالاحد شیروانی

شہباز احد شیروانی کسی نے سچ کہا ہے کہ استاد بادشاہ نہیں ہوتا مگر بادشاہ بناتا ہے، انگریزی مقولہ ہے کہ استاد وہ مینارۂ نور ہے جو بچے کے راستے کو روشن کرتا ہے، سکندر اعظم کا قول ہے، میرے والدین نے مجھے زمین پر اتارا اور میرے استاد نے مجھے آسمان کی بلندی تک پہنچادیا، آپ دنیا میں کوئی بھی کامیاب انسان دیکھتے ہیں تو اس کامیابی کے پیچھے استاد ہوتا ہے، جس نے اپنے شاگرد کو کامیابی کا راستہ دکھایا ہوتا ہے، نوبل انعام یافتہ سائنس داں ڈاکٹر عبدالسلام نے نوبل انعام کو اپنے استاد کے قدموں میں رکھ کر کہا تھا کہ کلاس روم میں اگر آپ نے میری ہمت افزائی کے طور پر ایک روپیہ نہ دیا ہوتا تو آج میں نوبل انعام کا حق دار نہ بنتا، معروف دانشور اشفاق احمد اپنا ایک واقعہ سناتے ہیں کہ یورپ میں جب ان سے کوئی قانون ٹوٹا اور وہ عدالت میں دیر سے پہنچے اور بتایا کہ وہ ایک استاد ہیں اور یونیورسٹی کی مصروفیت کی وجہ سے پہنچ نہیں سکے، جج نے استاد کا لفظ سنتے ہیTeacher in the Court کا نعرہ لگایا اور سارا مجمع کھڑا ہوگیا۔ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بہت ساری نعمتوں کے ساتھ ایسے ایسے لوگوں سے بھی نوازا، جن کے کارنامے رہتی دنیا تک یاد رکھے جائیں گے، ان عظیم لوگوں میں استادوں کے استاد پروفیسر عبدالاحد خان شیروانی بھی شامل ہیں، جن کے شاگردکون سا ایسا شعبہ ہے جہاں موجود نہ ہوں اور اعلیٰ مقام تک نہ پہنچے ہوں، پروفیسر عبدالاحد خان شیروانی 20 جنوری 1934 کو غیر منقسم ہندوستان کے شہر کلیانہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے بی ایس سی آنرز اور ایم ایس سی کیمسٹری کی ڈگری حاصل کی۔ پروفیسر عبدالاحد خان شیروانی نے 1965 میں کیڈٹ کالج پٹارو میں کیمسٹری کے لیکچرار کی حیثیت سے اپنی ملازمت کا آغاز کیا۔ پھر 1975 میں ان کو اسسٹنٹ پروفیسر بنادیا گیا، ان کے بعض شاگردوں میں کچھ قابل ذکر نام سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری، سابق وزیراعلیٰ سندھ لیاقت جتوئی، سابق وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم، سابق کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ایس پی شاہد، سابق آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ، سابق آئی جی جیل خانہ جات غلام قادر تھیبو، سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن، ایئر وائس مارشل سرفراز، رکن سندھ نیپرا رفیق احمد شیخ، وائس چانسلر جے ایس ایم یو ڈاکٹر امجد سراج میمن، ایس ایس پی فارن افیئر عبدالقیوم پتافی، ڈپٹی کمشنر ندیم میمن، چیف انجینئر واٹربورڈ سکندر علی زرداری اور ظفر پلیجو، سابق ایم ڈی سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کاشف گلزار شیخ اور موجودہ ایم ڈی سالڈ ویسٹ مینجمنٹ زبیر چنا، پرنسپل سیکریٹری ٹو گورنر سیف الرحمٰن شامل ہیں۔ ان کے شاگردوں کو یہ اعزاز بھی حاصل رہا کہ پاکستان نیوی کے کموڈور عابد سلیم جو اسی تدریسی ادارے سے پڑھ کر فارغ ہوئے تھے، پاکستان نیول ہیڈ کوارٹر کی طرف سے ان کو کیڈٹ کالج پٹارو کا پرنسپل بنادیا گیا۔ یہ تدریسی ادارہ کیڈٹ کالج پٹارو پاکستان نیوی کے ماتحت ہے، لہٰذا نیول ہیڈ کوارٹر سے ہی کموڈور رینک کا آفیسر پرنسپل بناکر بھیجا جاتا ہے۔ پروفیسر عبدالاحد خان شیروانی کے دوسرے شاگرد کموڈور اسلم رانا بھی کیڈٹ کالج پٹارو کے پرنسپل بنے اور اس وقت موجودہ پرنسپل کیڈٹ کالج پٹارو کموڈور مشتاق بھی ان ہی کے شاگرد ہیں۔ مرحوم پروفیسر عبدالاحد خان شیروانی صاحب کو 1985 میں پروفیسر کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔ اس کے بعد وہ کیڈٹ کالج پٹارو کیمسٹری کے ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ بنادئیے گئے۔ اس کے بعد 1994 میں ان کو وائس پرنسپل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی، کالج کی طرف سے بیسٹ ٹیچر ایوارڈ 1995 میں ان کو دیا گیا اور کیڈٹ کالج پٹارو کا ڈائریکٹر آف سٹڈیز بھی بنادیا گیا۔ 1965 سے لے کر 1996 تک پروفیسر عبدالاحد خان شیروانی نے کیڈٹ کالج پٹارو میں بہترین استاد کی حیثیت سے گزارا۔ ان کے بیٹے کے مطابق والد ریٹائرمنٹ کے بعد 1997 میں حج کی سعادت حاصل کرنے کے لئے سعودی عرب روانہ ہوگئے۔ حج کی ادائیگی کے بعد واپس کراچی تشریف لائے تو والد صاحب کے ایک اور شاگرد غلام مرتضیٰ نے کیڈٹ کالج مری میں ڈائریکٹر آف سٹڈیز بننے کی درخواست کی۔ اگست 1996 سے لے کر جون 1999 تک والد صاحب نے کیڈٹ کالج مری میں ڈائریکٹر آف سٹڈیز کی حیثیت سے خدمات انجام دی۔ بعدازاں ان کے ایک اور شاگرد پاکستان نیوی کے کیپٹن الطاف نبی ڈار (جو کیڈٹ کالج سانگھڑ سندھ کے پرنسپل تھے) نے والد صاحب کو کیڈٹ کالج سانگھڑ سندھ کے وائس پرنسپل کی تمام ذمے داریاں دینے کی درخواست کی، جنوری 2000 سے لے کر دسمبر 2002 تک کیڈٹ کالج سانگھڑ میں وائس پرنسپل کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے، پھر اچانک کچھ طبیعت ناساز ہوئی، ڈاکٹرز کے مطابق دل کا دورہ پڑنے کے باعث 25 جنوری 2003 کو خالق حقیقی سے جاملے۔