21 اکتوبر 2021
تازہ ترین

شُکر کی کمی شُکر کی کمی

انسان اس دنیا میں سارے کام ضرورت سے زیادہ کرتا ہے سوائے شکر کے، شکر کرنے کا اس کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا یا پھر یہ ہر چیز حاصل کرنا اپنا حق سمجھتا ہے، اکثر لوگ کہتے پھرتے ہیں میں نے یہ کہا، میں نے وہ کہا، یہ میری جستجو اور کوششوں کی وجہ سے ہوا، یہ اس طرح نہیں ہے، انسان بے شک بڑی طاقت کا مالک ہے، مگر محتاج ہے اس کے جسمانی نظام کا کوئی اختیار اس کے ہاتھ میں نہیں ، میں عمر ے پر گیا ہوا تھا، قریباً چھ سال پہلے میں مدینے میں مسجد نبوی میں گرگیا، شام کا وقت تھا، افطاری ہوگئی، آخری روزہ تھا، وہاں شربت وغیرہ گِر گیا اور صفائی ہورہی تھی، مگر میری قسمت میں شربت پر پائوں آنے کی وجہ سے گرگیا اور میری کولہے کی ہڈی ٹوٹ گئی، پھر میں پاکستان آگیا بہت تکلیف میں تھا یہاں آکر آپریشن کر وایا اور ہڈی تبدیل ہوئی، کئی ماہ بستر پر رہا پھر خیال آیا کہ میں نے تو کبھی بھی اپنے جسم کی ہڈیوں کا شکر ادا نہیں کیا جب نقلی ہڈی ڈالی گئی تو بڑا شکر ادا کیا، جب قدرت نے اتنی اعلیٰ ہڈیاں میرے جسم میں ڈالیں تو اُن کا شکر بھی تو ادا کرنا تھا مگر میں بھی تو عام انسان ہوں جس کو کبھی اللہ تعالیٰ کی عنایتوں کا خیال ہی نہیںآیا، آج جب سر پر پڑی تو خدا یا د آگیا ۔ انسان کو اللہ نے اپنی قدرت سے مالا مال پیدا کیا ہے انسان ہے کہ اس کو کبھی یاد ہی نہیں رہتا کہ میں نے اللہ کا شکر ادا کرنا ہے ۔ا س زندگی میں اس دنیا میں اللہ کا شکر ادا کرنے کے سوا اور کچھ نہیں انسان کو ہر وقت اللہ کا شکر ادا کرنا ہے، اس کے پاس اور کوئی کام ہے ہی نہیں، یہ اپنے جسم میں اللہ کے بے شمار خزانے لئے پھرتا ہے ۔ اس کو اس وقت پتہ چلتا ہے جب اسے کوئی چیز چھین لی جاتی ہے ۔ جس طرح مجھ سے کولہے کی ہڈی چھین لی گئی، جناب اگر اللہ کا شکر ادا کرنا ہے تو ہسپتالوں میں جاکر زندگی اور موت سے لڑتے ہوئے لوگوں کو دیکھو تو پتا چلے گا کہ ہم دھوکے میں زندگی گزار رہے ہیں، ہمارے پاس ناشکری کا کوئی اختیار نہیں ، دنیا میں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جن کے جسم مکمل ہی نہیں، کسی کی ایک آنکھ نہیں، کسی کی دونوں آنکھیں نہیں ،کسی کی ایک ٹانگ نہیں، کسی کی دونوں ٹانگیں نہیں کسی کا ایک ہاتھ نہیں اور کسی کا ایک بازو نہیں، کسی کا کچھ نہیں ۔ دنیا میں کروڑوں لوگ گردوں کی بیماری میں مبتلا ہیں، گردے کام نہیں کرتے اور بڑی مجبوری کی زندگی ہے، پاکستان میں لاکھوں لوگ گردوںکی بیماری میں زندگی سے لڑ رہے ہیں، کیا انسان کو شکر کا سبق دینے کے لئے اللہ اس کو عذاب میں مبتلا کرے گا؟ اللہ بُرے وقت سے بچائے، اللہ سے اچھی صحت کے ہوتے ہوئے ہی شکر ادا کرو اور اللہ خوش ہوگا کہ میرا بندہ صحت مند ہوتے ہوئے بھی کھاتے پیتے ہوئے بھی میرا شکر ادا کر رہا ہے۔ انسان پر فرض ہے کہ یہ اللہ کا ہر حال میں شکر ادا کرے۔ کل سوشل میڈیا پر ایک آدمی کی کہانی سُن رہا تھا اُس کا کسی حادثے میں آنکھوں کا پردہ ضائع ہوگیا جس کے ساتھ بال ہوتے ہیں جس کو ہم پلکیں کہتے ہیں ہماری نظر میں یہ تو آنکھوں کی خوبصورتی کے لئے ہیں۔جی جناب ایسا نہیں ہے کہ یہ تو آنکھوں کی حفاظت کی خاطر اللہ پاک نے آنکھوں پر لگائے ہیں، اس آدمی کا ایک پردہ ضائع ہوگیا اب آنکھ بند کرنی مشکل ہوگئی اور پردہ نقلی پوری دنیا میں نہیں بنتا وہ سارا دن ٹسوے سے آنکھ کو صاف کرتا اور صاف کرنے سے اس کی آنکھ میں زخم بن رہے تھے وہ دن رات روتا، اللہ سے فریاد کرتا اور کہتا ہے اللہ میں کیا کروں، کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا، آخر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم تیار کی گئی کہ اس کا کیا کیا جائے اب ڈاکٹروں کو بھی بہت پریشانی تھی آدمی بھی دولت والا تھا، پیسے بھی بہت خرچ کرنا چاہتا تھا وہ اپنی زندگی کی ساری کمائی ایک آنکھ کے پردے کے بدلے میں دینے کو تیار تھا، واہ اللہ تیری قدرت۔ ڈاکٹروں نے فیصلہ کیا کہ یہ پردہ نقلی لگایا ہی نہیں جاسکتا اب کیا کریں فیصلہ ہوا کہ اس کی آنکھ نکال دی جائے ورنہ انفیکشن ہوجائے گا اور پھر زندگی کو خطرہ ہوگا۔ وہ شخص اتنی تکلیف میں تھا وہ تیار ہوگیا کہ میری آنکھ نکال دی جائے لہٰذا آنکھ نکال دی گئی اور پھر اس کو پتا چلا کہ میں نے زندگی میں اپنی آنکھوں کا کبھی شکر ہی ادا نہیں کرتا تھا اور وہ محض تھا بھی مسلمان ۔ اب وہ ایک آنکھ سے زندگی گزار رہا ہے یہ ہے زندگی، دنیا میں آنکھ تو لگائی جاسکتی ہے آنکھ کا پردہ نہیں لگایا جاسکتا، آنکھ کے پردے ہر پانچ پل میں آنکھ کے آگے رہتے ہیں ہر حادثے سے آنکھ کو بچاتے رہتے ہیں، انسان لاشعوری طور پر آنکھوں کی طرف کوئی چیز یا کچرا آتے دیکھ کر ایک سیکنڈمیں آنکھ بند کرتا ہے ۔ کیا یہ شکر کا درجہ نہیں ہے کہ انسان خود آنکھوں کی حفاظت نہیں کرتا آنکھیں خود کرتی ہیں، آپ کبھی اس بات پر غور کریں کہ ایسا ہی ہوتاہے یا نہیں ہوتا ۔ا یسا ہی ہوتا ہے کہ یہ اللہ کی رحمت سے ہوتا ہے۔ اس دنیا میں انسان کو لاکھوں طریقوں سے آزمایا جاتا ہے کہ اللہ پاک کہتاہے تم میری کون کون سی نعمت کو جھٹلائو گے، یعنی آپ کس کس چیز کو فراموش کرو، کیا سانس کیا خون کی گردش کیا دل کی دھڑکن کیا اندرونی نظام آپ کو اس بات کی دعوت نہیں دیتا کہ تم اللہ کا شکر ادا کرو۔ ہسپتالوں اور  قبرستانوں میں جاکر شکر کی تربیت حاصل کرو، یہ دنیا شکر گاہ ہے یہاں انسان کے پاس ہر پل شکر کرنے کی وارننگ ہے مگر انسان ہے ہی غافل یہ ہر پل میں اپنے رب کو بھول جاتاہے اس کو یاد ہی نہیں رہتا کہ میں نے اللہ کا شکر ادا کرنا ہے۔  ایک پانی کا گلاس انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہے، ایک روٹی کا نوالہ بھی انسان کے اختیار میں نہیں ہے، ایک سانس انسان کے اختیار میں نہیں ہے، ا گر تو رات کو سوتے ہوئے یہ سارے عمل کیوں نہیں کرسکتا ہوتا تو زندہ ہے مرا ہواتو نہیں ہوتا، جی سب اللہ کے اختیارمیں ہے اس لئے ہر دم اللہ تعالیٰ کا شکر اد ا کرنا بہت ضروری ہے جس طرح آپ کبھی کبھی کھانا کھا کر کہتے ہیں، اے اللہ تیرا شکر ہے اسی طرح ہر چیز میں شکر ادا کرنا ضروری ہے، میرے خیال میں ہم میں شکر کی بہت کمی ہے ہم دنیا کی ترقی کے پیچھے بھاگ رہے ہوتے ہیں اور موت ہمارے پیچھے بھاگ رہی ہوتی ہے اور زندگی کی کہانی ختم ہوجاتی ہے، یہاں انسان کا کچھ ہے ہی نہیں، نہ ہمارے ماں باپ اور آبائو اجداد کا کچھ تھا نہ ہمارا کچھ ہوگا۔ انسان کو غفلت کی زندگی سے باہر آنے کی ضرورت ہے ہر پل اللہ کا شکر ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔اے اللہ میں تیرا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں تو نے مجھے صحت مند زندگی عطا کی ہے۔ ہر پل زندگی کے پل کم ہوتے ہیں ہمیں تو صرف اس دنیا کے غم ہوتے ہیں سب کچھ یاد ہوتا ہے شکر بھول جاتے ہیں پھر جان پہ ہماری ستم ہوتے ہیں شکر سے رزق میں برکت ہوتی ہے، صحت پر اللہ پاک کارحم ہوتا ہے اور آخرت کا راستہ بہتر ہوتا ہے شکر ہی زندگی ہے۔