21 اکتوبر 2021
تازہ ترین

ایک مزید انقلابی؟ ایک مزید انقلابی؟

وزیراعظم کے متعلق ان دنوں کچھ ایسی  خبریں سامنے آرہی ہیں کہ انہوں نے بجاآوری کے بجائے حکم عدولی کا کام شروع کردیا ہے۔ عمران خان کے ساتھ حکم عدولی کی کون سی خبر جڑی ہوئی ہے، اس کی تفصیل میں جانے کی یہاں گنجائش  اور نہ ضرورت ہے، کیونکہ اس تحریر کا مقصد کسی  پر گراں گزرنے والے  موضوع کو زیر بحث لانا نہیں، بلکہ یہ سمجھنے کی کوشش کرنا ہے کہ کیا عمران خان حکم عدولی جیسا کوئی کام کرسکتے ہیں۔ یہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جن کا ماننا ہے کہ عمران خان حکم عدولی کی جرأت کر ہی نہیں سکتے۔ ایسے لوگوں کے سامنے صرف یہ سوال رکھ دیا جائے کہ کیا تین دہائیاں پہلے نواز شریف کے متعلق یہ سوچا جاسکتا تھا کہ ان سے حکم عدولی جیسی کوئی حرکت سرزد ہوسکتی ہے تو اس سوال کا جواب سوچتے ہوئے بہت سی باتیں خود بخود سمجھ میں آجائیں گی۔ واضح رہے کہ عمران خان نے جس زمانے میں سیاست کا آغاز کیا، اسے چاہے کوئی لولا لنگڑا جمہوری دور کہے مگر اسے خالص مارشل لا کا عہد ہرگز نہیں کہا جاسکتا۔ دوسری طرف میاں نوازشریف کی صرف سیاست ہی نہیں بلکہ حکمرانی کا آغاز بھی شدید ترین مارشل لا کے نفاذ کے دوران اس وقت ہوا جب حکم کی تعمیل کی ضمانتیں فراہم کیے بغیر کوئی موری ممبر بھی نہیں بن سکتا تھا۔ اس کے بعد پھر دنیا نے دیکھا کہ صرف میاں نوازشریف ہی نہیں بلکہ ان کے پورے خاندان کی سیاست، حکمرانی اور کاروبار میں ایسی ایسی بے مثال ترقیاں ہوئیں کہ اس کی مثال کہیں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی۔ اس طرح کے پس منظر کا حامل انسان اگر حکم عدولی کی راہوں کا مسافر بن سکتا ہے تو پھر کسی دوسرے کے لئے ایسے راستوں پر سفر کس طرح خارج ازامکان قرار دیا جاسکتا ہے۔ عمران خان کی حکم عدولی کے متعلق کیونکہ ابھی تک کوئی مصدقہ بات سامنے نہیں آئی، اس لئے اس موضوع کو طول دینے کے بجائے فی الحال صرف یہی کہا جاسکتا ہے کہ اپنی سیاسی زندگی کے آغاز سے اب تک جو کچھ نواز شریف کرچکے، وہی سب کچھ عمران خان بھی کرسکتے ہیں۔ اس طرح کے امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں ایک ایسا سوال کیا جاسکتا ہے جو ہے تو سنجیدہ مگر کچھ لوگ اسے شرارتی بھی سمجھ سکتے ہیں۔ وہ سوال یہ ہے کہ ایک خاص ماحول میں سیاست کے آغاز کرنے اور اسی ماحول میں نشوونما پانے والے میاں نوازشریف کو ان کی حکم عدولی پرجن لوگوں نے انقلابی مانا، کیا وہ عمران خان کی کسی حکم عدولی کی تصدیق ہونے پر انہیں بھی انقلابی تسلیم کرلیں گے۔ اس سوال کا سادہ سا جواب تو یہ ہے کہ نواز شریف اور عمران خا ن قریباً ایک جیسے سیاسی پس منظر کے حامل ہیں، جس قسم کی حکم عدولی پر نواز شریف کو انقلابی مان لیا گیا ہے، اسی قسم کی حکم عدولی اگر عمران خان بھی کرتے ہیں تو پھر انہیں بھی انقلابی تسلیم کرلینا چاہیے۔ اس جواب کے مطابق یہاں انقلابی بننے کا فارمولا بظاہر بہت آسان اور سادہ معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں ایسا نہیں۔ انقلابی بننے سے بہت پہلے جب نواز شریف نے تابع فرمانی کی منزلیں طے کرنا شروع کیں، اُس وقت ان کے ساتھ میڈیا کے لوگوں اور سرکاری و غیر سرکاری مشیروں کی ایسی فوج موجود تھی، جو مدعی سست گواہ چست کا کردار کرتے ہوئے انہیں ہر معاملے میں وہ معاونت فراہم کررہی تھی جو احکامات کی تعمیل کے لئے بہت ضروری سمجھی جاتی ہے۔ میڈیا اور مشیروں کی اس فوج کی معاونت کی وجہ سے وہ پہلے پنجاب کے وزیر خزانہ اور پھر وزیراعلیٰ بنے، انہوں نے اپنی پارٹی کے قائد محمد خان جونیجو کی حکومت کے خاتمے کو خوش دلی سے قبول کیا، وہ آئی جے آئی میں شامل ہوئے، انہوں نے آٹھویں ترمیم کا بے دریغ دفاع کیا، انہوں نے بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کے لئے سرتوڑ کوششیں کیں، بے نظیر کی پہلی حکومت کے خاتمے کو ایک عظیم کارنامہ قرار دیا اور مہران بینک سکینڈل سے مستفید ہونے والوں میں شمار ہوئے۔ میڈیا کے جن لوگوں اور مشیروں کے تعاون سے نوازشریف نے احکامات کی تعمیل کی سمت میں اپنا سیاسی سفر شروع کیا تھا، ان مشیروں کی اکثریت کو وہ حکم عدولی کی سمت میں چلتے وقت بھی اپنے ساتھ ہی لے اڑے۔ نواز شریف نے ان لوگوں کو اپنے ساتھ ایسے جوڑا کہ ان کی پرورش کرنے والے دیکھتے ہی رہ گئے۔ جو لوگ نواز شریف کے ساتھ ہو لئے، ان کے متعلق یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ وہ کسی نظریاتی وابستگی کی وجہ سے اس سمت میں نہیں چل رہے تھے، جسے انہوں نے نواز شریف کی رفاقت میں چھوڑا۔ اصل میں ایک خاص قسم کی چمک تھی جو ان لوگوں کو نواز شریف کے ساتھ جوڑے ہوئے تھی، اس چمک کی وجہ سے ہی ان لوگوں کی اکثریت نے اپنے سابقہ نظریات کو جس طرح تبدیل کیا، اسے عام معنوں میں یوٹرن بھی کہا جاسکتا ہے۔ نوازشریف کے ان سابقہ اور موجودہ رفقا کے علاوہ کچھ ایسے لوگ بھی ان کے ساتھ ہولئے جن کے ساتھ بائیں بازو کا سابقہ اور لاحقہ جڑا ہوا ہے۔ ان لوگوں کی میاں صاحب کے جڑت میں بھی چمک نے خاص کردار ادا کیا، کیونکہ ایسے لوگوں میں سے ہی کسی کو کرکٹ بورڈ کا اہم ترین عہدہ سونپ دیا گیا اور کسی کو پنجاب ہارٹیکلچر ڈیپارٹمنٹ کا مدارالمہام بنادیا گیا۔ نوازشریف کو انقلابی قرار دینے میں بائیں بازو کا سابقہ اور لاحقہ رکھنے والے لوگوں نے نمایاں کردار ادا کیا۔ عمران خان کے متعلق پوچھا گیا یہ سوال کہ حکم عدولی کرنے والوں کی صف میں شامل ہونے کے بعد کیا اب انہیں بھی انقلابی تسلیم کرلیا جانا چاہیے، بنیادی طور پر بائیں بازو کا سابقہ اور لاحقہ رکھنے والوں کے لئے ہے۔ اگر یہ لوگ اس سوال کا جواب نفی میں دیتے ہیں تو ان سے پھر یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ نواز شریف نے جمہوریت کو جو ضربیں لگائی ہیں، اگر ان کی فہرست بنائی جائے تو اس کی طوالت عمران خان کی طرف سے جمہوری عمل کو پہنچائے جانے والے نقصانات کی فہرست سے بہت کم ہوگی۔ اس سیاق و سباق کے باوجود ان لوگوں کی طرف سے عمران خان کو ان کی مبینہ حکم عدولی کے باوجود انقلابی تصور کیے جانے کے امکانات بہت کم ہیں، جو نوازشریف کے سر اپنے متوقع انقلاب کا سہرا سجاچکے ہیں۔ جو لوگ نوازشریف کو انقلابی تسلیم کرچکے، وہ چاہے کسی اور کے لئے یہ تصور رکھیں یا نہ رکھیں، مگر ان سے گزارش ہے کہ یہ بات ضرور یاد رکھیں کہ کسی مفاد کی وجہ سے رویے تبدیل کرنے اور نظریاتی تبدیلی کے سبب اپنی ترجیحات تبدیل کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔