21 اکتوبر 2021
تازہ ترین

توسیع، سینیٹ رکن اور ڈینگی! توسیع، سینیٹ رکن اور ڈینگی!

توسیع: صدرِ مملکت نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے ایک آرڈیننس جاری کردیا ہے ، جس میں بتایا گیا ہے موجودہ چیئرمین نیب نئے چیئرمین کی تقرری تک اپنے فرائض کی انجام دہی جاری رکھیں گے۔ اپوزیشن کا مستقل بیانیہ یہی ہے کہ حکومت نیب سے مخالفین کو دبانے کا کام لیتی ہے۔ حزبِ اختلاف نے خوامخواہ ہنگامہ کھڑا کر رکھا ہے کہ موجودہ چیئرمین کو توسیع دی جارہی ہے۔ فی الحال یہ طے نہیں ہوا کہ آخر کب تک نئے چیئرمین کے نام پر اتفاق کرلیا جائے گا، تب تک پرانے چیئرمین ہی کام کریں گے۔ یہ بات بہرحال قوم کے لئے باعثِ اطمینان ہے۔       ترین سینیٹر بنیں گے: وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کو ایوانِ بالا کا رکن بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے، اس ضمن میں وزیر خزانہ کا قول ہے کہ ایک آدھ دن میں خوش خبری مل جائے گی۔ کسی وفاقی وزیر کا کسی نہ کسی ایوان کا رکن ہونا اچھی بات ہے، ورنہ اس امر پر اعتراضات کی بوچھاڑ جاری رہتی ہے۔ اگر حکومت نے سوچ لیا ہے، تو یقیناً کوئی مشکل راستے میں حائل نہیں ہوگی، لیکن اگر پیچھے نگاہ ڈالتے ہیں تو اپنے ہاں خزانہ ایسی چیز ہے، جس کی وزارتیں بہت تیزی سے تبدیل ہوتی رہی ہیں، کبھی کسی کو وزیر بنایا تو کبھی مشیروں سے کام چلایا، جو بھی لایا گیا، قوم کو یہی بتایا گیا کہ اب ملکی معیشت سنبھل جائے گی، اب مہنگائی کا جِن قابوکرلیا جائے گا، اب حالات سنورنے لگیں گے، مگر عملی طور پر ایسا کچھ نہ ہوسکا، بلکہ بات بگڑتی گئی، ہر آنے والے نے طبع آزمائی کی، ناکامی کی صورت میں اِدھر اُدھر کر دیا گیا اور خزانے کی نگہبانی کے لئے کوئی نیا وزیر تلاش کرلیا گیا۔ اب شوکت ترین کو لایا گیا ہے، انہیں سینیٹر بنانے کی خوش خبری بھی سنادی گئی ہے۔ اگر حکومت کا چند ہی ماہ میں انہیں تبدیل کرنے کا پروگرام بن گیا، جس کے امکان قطعاً رد نہیں کیے جاسکتے، تو سینیٹ کی رکنیت اُن کے لئے اُن دنوں کی خدمات کا تحفہ ہوگا، جو انہوں نے وزیر خزانہ کے حیثیت سے گزارے ہوں گے۔ اس قسم کے تجربے کے بعد آنے والا وزیر خزانہ باہر سے لانے کے بجائے شاید اندر سے ہی لیا جائے گا۔ پھر بھی ڈینگی؟: آج کل پھر ڈینگی مچھر نے اخبارات اور ٹی وی وغیرہ پر ہلچل سی مچا رکھی ہے۔ سنا ہے، لاہور میں بہت تیزی سے بغاوت پر آمادہ ہے۔ یقیناً حکمران ڈینگی کا سر کچلنے کی منصوبہ بندی کرچکے ہوں گے اور اگلے دنوں  میں اچھی خبریں آنا شروع ہوجائیں گی، مگر ڈینگی پر حیرت ہوتی ہے کہ وہ بے حد حکومتی اقدامات کے باوجود یوں گستاخی پر اترا ہوا ہے؟ حکومتِ پنجاب کے محکمۂ تعلیم نے ڈینگی کے توڑ کے لئے کئی ماہ سے ایک انقلابی اقدام شروع کر رکھا ہے، وہ یہ کہ ہر سرکاری اور نیم سرکاری تعلیمی ادارہ پابند ہے کہ وہ ہر صبح اپنے سکول کی محدود طے شدہ تصویریں لاہور بھیجے، اس کے لئے ڈینگی کی ایک ’ایپ‘ متعارف کروائی گئی ہے، جس میں سکول کا نام اور دیگر کوائف کے ساتھ تصاویر ایپ میں بھیجی جاتی ہیں، پنجاب میں 63 ہزار سرکاری سکول ہیں، پنجاب ایجوکیشن فائونڈیشن کے 12 ہزار سے زائد سکول ہیں۔ یوں یہ تعداد پون لاکھ کے قریب بنتی ہے، یہ تمام سکول سختی سے پابند ہیں، حتیٰ کہ چھٹی والے دن کی بھی چھٹی نہیں کرنے دی جاتی۔ اگر کوئی تصویر نہیں بھیجتا تو سخت ایکشن لیا جاتا ہے۔ اگر اِن تصویروں سے ڈینگی کی افزائش یا پھیلائو میں کوئی کمی نہیں آئی تو پھر محکمہ تعلیم کو کچھ سوچنا چاہیے کہ آخر یہ کس قسم کا عذاب ہے جو سکولوں پر مسلّط ہے، یہ تصویریں ڈینگی کا راستہ نہیں روک سکیں تو تعلیمی اداروں کی اس فضول اور بے مقصد کارروائی سے جان چھڑوائی جائے، ڈینگی کے لئے دیگر اہم اور ضروری اقدام کیے جائیں۔