30 نومبر 2021
تازہ ترین

عالمی تاریخ کی ضرورت کیوں ہے؟ عالمی تاریخ کی ضرورت کیوں ہے؟

اس موضوع پر Peter N.Stearns نے ٹیچنگ کمپنی کی جانب سے جو لیکچر دئیے ہیں، ان کا ریویو یہاں پیش کیا جارہا ہے۔ Stearns نے اس جانب توجہ دلائی ہے کہ موجودہ دور میں تعلیمی اداروں اور عام لوگوں میں عالمی تاریخ کو جاننے کا شوق بڑھ رہا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے ماضی میں جو کچھ ہوا، وہ اس کو سمجھنے کی کوشش کررہے اور عالمی تاریخ کو تین نقطہ ہائے نظر سے دیکھا گیا ہے۔ نمبر -1 تہذیبوں کی ابتدا۔ نمبر -2 تہذیبوں کے درمیان رابطے۔ نمبر -3 تہذیبوں کی وجہ سے انسان کے کردار کی تشکیل پر کیا اثرات ہوئے؟ تہذیبوں کے درمیان جو رابطے ہوئے ہیں، ان میں انہوں نے ایک دوسرے سے سیکھا ہے۔ ایک تہذیب میں جو ٹیکنالوجی وجود میں آئی، اس کو دوسری تہذیبوں نے اختیار کرکے استعمال کیا۔ تجارت نے تہذیبوں کے درمیان لین دَین کے ذریعے اپنی پیداوار اور صنعت کو ایک دوسرے سے روشناس کرایا۔ اب ہم تہذیبوں کو مختلف ادوار میں تقسیم کرکے ان کی ابتدا، ترقی اور اثرات کا مطالعہ کریں گے۔ کلاسیکل دور کی تہذیبوں کی ابتدا 1000BCE سے لے کر 500BCE تک رہی ہے۔ دوسرے دور میں 450ACE سے لے کر 750ACE تک اس کے بعد طویل اٹھارہویں صدی ہے، جس نے عالمی تاریخ کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ عالمی تاریخ کے بارے میں زیادہ دلچسپی امریکہ میں ہے، کیونکہ وہ ایک ورلڈ پاور بن گیا ہے اور اس لحاظ سے وہ دنیا کے دوسرے ممالک کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننا چاہتا ہے۔ برطانیہ، اٹلی اور جرمنی میں عالمی تاریخ کو سیاست کے بجائے ریسرچ کے ذریعے دیکھا جارہا ہے، کیونکہ چین بھی ورلڈ پاور بن چکا، اس لئے وقت کے ساتھ اس کی بھی اس سلسلے میں دلچسپی بڑھے گی۔ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں عالمی تاریخ کے بارے میں کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عالمی تاریخ کے مطالعے کی کیوں ضرورت ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس سے ہمیں ماضی کی تہذیبوں اور قوموں کی ترقی کا علم ہوتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اس علم کو ہم حال کے زمانے کے مسائل کو حل کرنے کا راستہ نکال سکتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ قومیں تنہائی میں نہیں رہ سکتیں، نہ ہی وہ ساری ٹیکنالوجی کو پیدا کرسکتی ہیں۔ اس لئے انہیں ایک دوسرے سے سیکھنا بھی ہوتا ہے اور دوسروں کو سکھانا بھی۔ قومیں عالمی تاریخ سے جدا رہیں، وہ ایک جگہ جامد ہوکر رہیں یا وہ قومیں جنہوں نے دوسری تہذیبوں سے اپنے تعصبات سے نہیں سیکھا، وہ بھی پس ماندگی کا شکار ہوئیں، اگر تہذیبوں کے درمیان تعصب بھی ہو، جیسا کہ Hungtington نے Clash of Civilization میں کہا ہے تو اس صورت میں تہذیبوں کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے۔ اس میں یا تو وہ بحرانوں پر قابو پاکر ترقی کرتے اور یا پھر مزید پس ماندہ ہوکر گم نام ہوجاتے ہیں۔ امریکہ اور یورپی ملکوں میں عالمی تاریخ کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے، یعنی مشرق اور مغرب، اس تقسیم کی وجہ سے عالمی تاریخ میں اتحاد، قریبی رشتوں اور رابطوں کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔ جب سے یورپی تہذیب سامراجی اور عالمی ہوئی ہے، اس کی بنیاد نسل پرستی اور قوم پرستی پر ہوگئی ہے۔ وہ اپنی ترقی میں مشرق نے جو کچھ دیا، اس کو تسلیم کرنے سے گریز کرتے ہیں، حالانکہ مغربی تہذیب کی بنیادیں مشرق میں ہیں۔ یہ میسوپوٹامیہ سے شروع ہوکر مصر، یونان اور رومی سلطنت کے ذریعے مغرب تک پہنچیں، اگر مغربی تہذیب اپنے تسلط کو مشرق پر نافذ کرنا چاہتی ہے تو اس صورت میں اسے اپنے تعصبات کو علیحدہ کرنا ہوگا۔ یہی صورت حال مشرق کی ہے، جو اپنی پس ماندگی کی وجہ سے یورپی سامراج کو دیتا ہے۔ اس لئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عالمی تاریخ کو تعصبات اور نفرت کے جذبات سے نکال کر دیکھا جاسکتا ہے۔ دوسری صورت میں عالمی تاریخ قوموں کے درمیان امن و امان اور مساوی تعلقات کو پیدا کرکے معاشی و خوش حالی اور سیاسی آزادی کو فروغ دے سکیں گے۔ اس وقت امریکہ اور یورپی ملکوں میں مشرق اور اس کی تہذیبوں کے بارے میں بہت کم معلومات ہوئی ہیں اور طالب علموں کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ مغربی تہذیب نے دوسری تہذیبوں سے سیکھے بغیر ترقی کی ہے۔ یہ وہ نقطۂ نظر ہے جو عالمی تاریخ کو سمجھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ عالمی تاریخ اور قومی تاریخ کے درمیان فرق پیدا ہوجاتا ہے، کیونکہ مؤرخ قومی تاریخ کے واقعات اور ان کے معاشرے پر ہونے والے اثرات پر زیادہ زور دیتا ہے، جس کی وجہ سے عالمی تاریخ کی اہمیت کم ہوجاتی ہے۔ عالمی تاریخ کو سمجھنے کے لئے اور بھی مشکلات ہیں، یعنی مختلف تہذیبوں کے جغرافیائی ماحول، ان کے کلچر، رویے، ادب، ان سب کا مطالعہ ضروری ہے، جس کے لئے مؤرخین کو تحقیق کی ضرورت ہوتی ہے اور بہت سی قومیں ایسی ہیں جو عالمی تاریخ کو ضروری نہیں سمجھتیں۔ عالمی تاریخ کی اہمیت موجودہ دور میں ابھری ہے۔ جب سائنس اور ٹیکنالوجی نے انہیں ایک دوسرے کے قریب کیا ہے۔ نئی ریسرچ کی وجہ سے یہ بھی ممکن ہوا ہے کہ ماضی میں کون سی اہم تبدیلیاں ہوئی تھیں، جنہوں نے تاریخ کے رُخ کو بدلا۔ بہرحال یہ حقیقت ہے کہ عالمی تاریخ قوموں کو تنگ نظری سے نکال کر ذہنی وسعت دیتی ہے اور اس کے مطالعے سے مختلف تہذیبوں کی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار ہوتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں عالمی تاریخ کو پڑھایا جائے، تاکہ وہ ذہن کو وسعت دے سکیں اور دوسروں سے سیکھنے کی روایت پیدا ہو۔ (نوٹ: تاریخ میں BC اور AD کو مختلف ادوارمیں تقسیم کیا جاتا ہے، لیکن اب مورخوں نے انہیںBCE کو  BEFORE COMMON ERA کہا ہے اور AD کو COMMON ERA کہا ہے، تاکہ یہ مذہبی کے بجائے سیکولر ہوجائے۔)