08 دسمبر 2021
تازہ ترین

ہولناک زلزلے کے 16 سال… ہولناک زلزلے کے 16 سال…

8؍اکتوبر 2005 کو آنے والے ملکی تاریخ کے ہولناک زلزلے کو16 برس مکمل ہوگئے۔ یہ وہ دن تھا جب آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا میں زلزلے سے ایک لاکھ سے زائد افراد جاں بحق اور لاکھوں زخمی ہوئے۔ بلاشبہ یہ عظیم قومی سانحہ تھا، جس سے ناقابل تصور نقصانات ہوئے۔ ہر سال جب یہ دن آتا ہے تو ان دردناک واقعات کی یاد تازہ ہوجاتی ہے، جو اس سانحے کے موقع پر پیش آئے۔ تباہ کن زلزلے سے چند لمحے قبل تک کسی کو معلوم نہیں تھا کہ کچھ دیر بعد کیا قیامت بپا ہونے والی ہے۔ اچانک زمین نے ہلنا شروع کیا، پہاڑوں کے حصے ریزہ ریزہ ہوکر بکھرنا شروع ہوگئے، جگہ جگہ زمین پھٹ گئی، عمارتیں گر گئیں اور سکولز، کالجز، قیمتی گھر، دُکانیں اور مارکیٹیں زندہ انسانوں کی قبروں میں تبدیل ہوگئے۔ ہر طرف چیخ و پکار تھی۔ زلزلے سے ماؤں کی گودیں، بہنوں کے بھائی، باپوں کے سہارے اور عورتوں کے شوہر کھوچکے تھے مگر کوئی ان کی داستان غم سننے والا، دکھ بانٹنے والا اور زخموں پر مرہم رکھنے والا نہیں تھا۔ سکولوں کے ملبے تلے دبے بچوں کی دلدوز چیخیں بلند ہورہی تھیں، لیکن کوئی انہیں نکالنے والا نہ تھا۔ ان حالات میں سب سے پہلے اگر کسی نے مشکل کی اس گھڑی میں اپنے ان مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد کا فریضہ سرانجام دیا تو وہ رفاہی و فلاحی تنظیموں کے رضاکار تھے۔ اگرچہ ان میں سے کئی رضاکار ایسے بھی تھے، جن کے اپنے خاندان اور عزیزو اقارب منوں مٹی کے نیچے دفن ہوگئے، لیکن انہوں نے حوصلہ نہیں ہارا اور چند منٹ بعد ہی جو کوئی جہاں کہیں بھی تھا، دُکانوں اور مکانات کے ملبے تلے دبے لوگوں کو نکالنے میں اپنی پوری قوت صَرف کرنے لگا۔ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں سب سے بڑا مسئلہ ملبے تلے دبے زندہ افراد کو نکالنا اور جاں بحق افراد کی لاشوں کی تدفین تھا۔ زخمی مدد کے لئے پکار رہے تھے، لیکن انہیں ملبے سے نکالنے کے لئے بھاری مشینری نہ تھی۔ ان حالات میں رفاہی تنظیموں کے رضاکاروں نے بغیر کسی بھاری مشینری اور جدید آلات کے سیکڑوں افراد کو ملبے سے نکالا اور زخمیوں کو فوری طبی امداد دینا شروع کردی۔ ڈاکٹرز عامر عزیز جیسے مسیحاؤں نے فلاح انسانیت فائونڈیشن کے میڈیکل کیمپوں پر پہنچ کر گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس کی روشنیوں میں مریضوں کے آپریشن کیے اور درختوں کی ٹہنیاں باندھ کر لوگوں کی ٹوٹی ہڈیاں جوڑنے کی کوشش کی۔ اس دوران زندہ بچ جانے والے افراد کے لئے تیار کھانے کا اہتمام شروع کردیا گیا۔ مظفرآباد، باغ اور بالاکوٹ کے زلزلہ متاثرین گواہ ہیں کہ ان تک جو سب سے پہلی خوراک پہنچی وہ انہی رضاکاروں نے پہنچائی تھی۔ زلزلے کے بعد لینڈسلائیڈنگ سے مظفرآباد میں پینے کے پانی کی شدید قلت ہوگئی۔ صرف چند مقامات پر چشمے اور نالے صاف تھے، باقی انسانوں و حیوانوں کی لاشوں سے پانی پینے کے قابل نہیں رہا تھا۔ مظفرآباد میں فوری صاف پانی کا بندوبست کیا گیا۔ زلزلے کے دوسرے دن ہی فلاح انسانیت فائونڈیشن کے مقامی رضاکاروں نے پہلے سے قائم ہسپتال کے ملبے سے ٹوٹا پھوٹا سامان نکال کر عارضی ہسپتال بناکر مریضوں کو علاج معالجے کی باقاعدہ سہولتیں فراہم کرنا شروع کردیں۔ اسی طرح باغ، بالاکوٹ اور مانسہرہ میں قائم کیے گئے فیلڈ ہسپتال شب وروز متاثرین زلزلہ کی خدمت میں مصروف عمل رہے۔ ان فیلڈ ہسپتالوں کے علاوہ بڑے پیمانے پر میڈیکل کیمپوں اور موبائل ٹیموں کے ذریعے بے شمار مریضوں کا علاج معالجہ کیا گیا، جن میں ہزاروں چھوٹے بڑے آپریشنز بھی شامل ہیں۔ یہ اعزاز بھی چند فلاحی تنظیموں کو جاتا ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے متاثرین کے لئے خیمہ بستیاں قائم کیں، جہاں ہر خاندان الگ طور پر اطمینان کے ساتھ رہ سکتا تھا۔ ان خیمہ بستیوں کی انفرادیت یہ تھی کہ یہاں بچوں کے لئے سکولوں، دینی تعلیم، مساجد وغیرہ کا بھی اہتمام تھا جب کہ خواتین کو سلائی کڑھائی اور دیگر گھریلوکام بھی سکھائے جاتے تھے۔ رضاکاروں نے خصوصاً دریائے نیلم کے سرکش اور برفیلے پانی کو کراس کرنے کے لئے ربڑبوٹ اور بلندوبالا مقامات پر پہنچنے کے لئے خچر سروس کا آغاز کیا، جسے پوری دنیا میں شہرت ملی اور بین الاقوامی میڈیا کی طرف سے رپورٹیں شائع کی گئیں کہ ان علاقوں میں پہنچ کر ریلیف و ریسکیو آپریشن کررہی ہے، جہاں تک کوئی نہیں پہنچ سکا، یہی وہ امدادی سرگرمیاں تھیں، جنہیں دیکھ کر اقوام متحدہ، یونیسیف، ڈبلیو ایچ او اور دیگر عالمی ادارے بھی امدادی سامان کی تقسیم کے لئے رفاہی و فلاحی تنظیموں سے مددوتعاون حاصل کرنے پر مجبور نظر آئے۔ رفاہی تنظیموں نے بلند پہاڑی دیہات اور قصبوں میں متاثرین کے لئے گھر اور مساجد تعمیر کیں، بچوں کے لئے سکول بنائے اور کروڑوں روپے مالیت کا راشن وغیرہ تقسیم کیا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رفاہی تنظیموںکے رضاکاروں کی قربانیاں ہی ہیں کہ آج آواران اور مشکے جیسے علاقوں (جو علیحدگی پسندوں کا گڑھ سمجھے جاتے تھے) میں پاکستان کے حق میں نعرے لکھے دکھائی دیتے ہیں۔ مظفرآباد جیسے شہروں میں حالیہ برسوں میں ترقی ضرور ہوئی، لوگوں کا معیاز زندگی بلند ہوا، لیکن کرپشن کی وجہ سے بعض لوگ ایسے ہیں جنہوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ معاوضے وصول کرلئے اور کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں ابھی تک کچھ نہیں مل سکا۔ شہر میں کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کئی کئی منزلہ پلازے بنالئے گئے جو اس علاقے میں واقعتاً خطرناک اور خدانخواستہ کسی حادثے کا باعث بن سکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان معاملات پر سنجیدگی سے غوروفکر کرے اور ہر قسم کی سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر پالیسیاں ترتیب دی جائیں اور ان پر عمل درآمد کروایا جائے۔ زلزلے کے دوران آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں جو سکول ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوئے، ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کی ابھی تک تعمیر نہیں ہوسکی۔ ضروری ہے کہ حکومت اپنے اعلان کردہ منصوبوں کو عملی جامہ پہنائے اور متاثرہ علاقوں میں سکولوں کی تعمیر جلد سے جلد کی جائے، تاکہ تعلیمی حوالے سے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل ہوسکیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو زلزلوں اور دیگر قدرتی آفات سے محفوظ رکھے اور مصائب و مشکلات میں مبتلا بھائیوں کی ہر ممکن مدد کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)۔