08 دسمبر 2021
تازہ ترین

ڈالر کو لگام، آسان ڈالر کو لگام، آسان

قیام پاکستان کے بعد وسائل نام کی کوئی چیز موجود نہ تھی، دفاتر میں کاغذوں کو اکٹھا رکھنے کے لئے کامن پن کی جگہ درختوں کے کانٹے استعمال کیے گئے جب کہ سکولوں میں بچوں کو بیٹھنے کے لئے ڈیسک یا کرسیوں کی جگہ ٹاٹ میسر آئے، بعض سکول بغیر چھت اور چار دیواری کے تھے، کچھ ایسے تھے جو درختوں کے نیچے قائم کیے گئے، ان بچوں کو بیٹھنے کے لئے ٹاٹ بھی نہ ملے، بچے زمین پر بیٹھتے، سورج کے سفر کے ساتھ وہ بھی کھسکتے کھسکتے تمازت سے بچنے کے لئے سایہ تلاش کرتے رہتے، ان ٹاٹ سکولوں نے بڑے نامور جج، جرنیل اور عالی دماغ جرنلسٹ پیدا کیے۔ شاعروں، ادیبوں اور دیانت دار سرکاری افسروں کی کھیپ بھی یہیں سے نکلی، پاکستان کے معاشی حالات قدرے بہتر ہوئے، پھر چرچ یا مشن سکول بنے۔ انہوں نے بھی قابل نسل کی فصل تیار کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ ٹاٹ سکولوں سے فارغ التحصیل افراد نے زندگی کے ہر شعبے میں خدمات انجام دیں۔ یہ کمال یقیناً ٹاٹ کا نہیں بلکہ ٹاٹ سکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ کا تھا، جنہوں نے زیر تعلیم طلبا کو اپنی اولاد کی طرح جانا، انہیں پیار، محبت اور شفقت دی، اِن طلبا نے بھی اپنے اساتذہ کو وہی احترام دیا، جو وہ اپنے والدین کو دیتے تھے، اب ٹاٹ سکول ختم ہوچکے، فائیوسٹار سکول تیزی سے ان کی جگہ لے رہے ہیں۔ ہمارے نوجوان ان کمپنیوں کا ایندھن بن رہے ہیں، جہاں ایک بے نام سے پائوڈر کو دودھ بناکر پوری قوم کو برسہا برس تک بے وقوف بنایا جاتا رہا، جہاں ویجی ٹیبل آئل سے تیار کردہ چیز کو آئس کریم کہہ کر فروخت کیا گیا، ہر ایک نے اپنی تنخواہ سے اپنے عہدے اور آئندہ ترقی سے غرض رکھی، کسی نے کبھی نہیں سوچا وہ کیا کررہے ہیں، ان کی ناک کے نیچے کیا ہورہا ہے۔
انہوں نے تعلیم ضرور حاصل کی، حاصل کردہ تعلیم کے مطابق تربیت بھی حاصل کی، وہ اچھے منیجرز بھی بن گئے، لیکن اُس تربیت کی پرچھائیں نہیں ملتی جو آدمی کو انسان بناتی ہے۔ ایک اچھا انسان مہذب اور انسانیت کے لئے دردِ دل رکھنے والا انسان۔ ہمیں ہر روز صبح سے شام تک مشینی انسانوں سے واسطہ پڑتا ہے، جو لکیر کے فقیر ہیں، ان کی گفتگو کا آغاز ’’نہیں‘‘ سے ہوتا ہے، یعنی یہ کام نہیں ہوسکتا، پھر ان کی نہیں، ’’ہاں‘‘ میں کیسے بدلتی ہے یہ بتانے کی بات نہیں، سب بخوبی جانتے ہیں۔
آج کل ایک نصاب اور ایک جیسے نظام تعلیم کا چرچا ہے، اس نئی بھٹی سے کون کیا بن کر نکلے گا، ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا، لیکن اندازہ ہے جن بچوں نے اصولِ دین، پاکستان کی تاریخ اور پاکستان دشمنوں کے خلاف برسرپیکار ہونے کی تاریخ نہیں پڑھی، صرف ’’امن‘‘ پڑھا ہوگا وہ کس قسم کی نسل ہوگی۔ کیا یہی نسل ہمارے مستقبل کی وارث ہوگی اور کیا یہ نسل ہمارے خوابوں کو تعبیر دے گی، مقام فکر ہے لیکن یہاں کسی کو کسی کی فکر نہیں، صرف اپنی اور اپنے مستقبل کی فکر ہے، پہلے پانامہ لیکس اور اب پینڈورا لیکس، کون سا طبقہ ہے جس کا کچا چٹھا سامنے نہیں آیا، جو ذرا بچا ہے وہ آنے والے ایام میں سامنے آجائے گا، پانی سر سے گزر گیا کوئی شرمسار نہیں ہوا، ڈھٹائی کی تمام حدیں پار ہوئیں، بے حسی بڑھ کر اور سنگین شکل اختیار کرچکی، مؤرخ اس دور کی تاریخ لکھنے بیٹھے گا جو کئی دہائیوں پر مشتمل ہے تو لکھے گا، بدعنوانی اور لوٹ مار کا بازار گرم تھا، جرائم عروج پر تھے، ذمے داروں کے تعین کے لئے کمیشن قائم ہوتے تھے، یہ کمیشن اپنی رپورٹ پیش کرتے تھے، جن پر عمل نہ کرکے انہیں سردخانے میں ڈال دیا جاتا تھا۔
قریباً دوسو برس قبل ایک ایسٹ انڈیا کمپنی آئی تھی، جس نے جی بھر کے ہمارا لہو نچوڑا، اب ایک نئے نام اور نئے رنگ سے نئی ایسٹ انڈیا کمپنی اپنا جال بچھا رہی ہے، ہم خوشی خوشی ناچتے گاتے خود سپردگی کے لئے تیار ہوچکے ہیں، بتایا یہی جارہا ہے کہ یہی ہمارے نجات دہندہ ہیں۔
ایک دور تھا جب ہماری گلیاں اور گھر کشادہ ہوا کرتے تھے، ان کے مکینوں کے ذہن و دل بھی کشادہ تھے، کھیلوں کے میدان آباد تھے، ایک بچہ شرارت سے دوسرے کو چٹکی کاٹ کر بھاگ جاتا تو دوسرا حساب برابر کرنے کے لئے اس کے پیچھے دوڑ پڑتا، یوں دونوں چند منٹ میں کئی کلومیٹر دوڑ کر ہنستے کھیلتے لوٹتے، ہماری دو نسلیں دڑبہ نما فلیٹوں میں پلی ہیں، ان بچوں نے سب کچھ ایک کمرے میں بیٹھ کر ہی کیا ہے، حتیٰ کہ باکسنگ یا ریسلنگ بھی کی ہے تو صوفے یا بیڈ پر بیٹھ کر ہی کی ہے، یہ نسل برسوں سے ٹی وی سکرین پر’’فکسڈ ریسلنگ چیمپئن شپ‘‘ دیکھ رہی ہے۔ ایک ریسلر دوسرے کو اٹھا اٹھاکر زمین پر پٹختا ہے تو یہ خوشی سے پھولے نہیں سماتے، یہ نفسیاتی مریض سمجھتے ہیں وہ بذات خود اپنے مخالف کو مار مار کر ادھ موا کررہے ہیں، ان کی نئی سوچ یہ ہے کہ انہیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں، ہمارے کشمیر کو اب افغان طالبان آزاد کرائیں گے، ہماری شہہ رگ دشمن کے پنجے سے اب طالبان چھڑائیں گے، یہ خود کشمیر کی دہلیز پر بیٹھ کر مزے سے نان کباب کھائیں گے اور نیٹ کو استعمال کرتے ہوئے روزانہ اپنی سو سو تصویریں اپ لوڈ کریں گے۔ اس نسل کو بتانا ضروری ہے کہ افغانوں نے بیس برس تک اپنے سے سو گنا بڑے دشمن کا بے جگری سے مقابلہ کیا ہے، ان کے مرد تو ایک طرف بچے اورعورتیں بھی کسی سے پیچھے نہ رہے، بلکہ ہتھیار بکف ہوکر جنگ میں شامل ہوئے، انہوں نے سیل فون پر ویڈیو گیمز کھیل کھیل کر اپنا وطن آزاد نہیں کرایا، بلکہ لاکھوں جانوں کے نذرانے پیش کیے، ہزاروں افراد بے گھر اور اس سے بہت زیادہ زندگی بھر کے لئے معذور ہوئے ہیں، پھر کہیں جاکر آزادی کی صبح دیکھنا نصیب ہوئی ہے۔
افغانوں کی دو نسلوں نے اپنی جنگ آزادی لڑی ہے، وہ فتح یاب رہے ہیں، لیکن وہ اتنے بھی سادہ نہیں کہ کشمیر کی آزادی کے لئے اپنی دو مزید نسلیں اس جنگ میں جھونک دیں، ہمیں اپنے ملک کی حفاظت خود کرنا ہے، کشمیر کو آزاد خود کرانا ہے، پہلے مرحلے میں ذرا ڈالر کو قابو کرلیں، کچھ یاد ہے کسی نے کہا تھا، چھوڑ دو، چھوڑ دو ڈالر کو کھلا چھوڑ دو، یہ خود ہی اپنے ٹھکانے پر واپس آجائے گا۔ ڈالر ایک سو پانچ روپے سے چلا ہے ایک سو ستر روپے تک پہنچ چکا ہے، سید نے سال پہلے لکھا تھا اسے دو سو روپے تک پہنچایا جائے گا، اسے کنٹرول کرنا بہت آسان ہے، کتوں کے لئے امپورٹڈ بسکٹ، سامان تعیش، لگژری گاڑیاں اور عیاشیوں کے لئے ڈالر کا اجراء بند کردیں، ڈالر نیشنل بینک کے ذریعے دیں، منی چینجر ختم کریں، ڈالر کنٹرول میں آجائے گا، افغان مجاہدین نے اسی طرح کیا ہے۔