07 دسمبر 2021
تازہ ترین

ڈسپوزیبل لائف ڈسپوزیبل لائف

سو سال قبل جب پلاسٹک بطور پروڈکٹ ہماری زندگیوں میں متعارف ہوا تو انسان کو اندازہ نہیں تھا کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ یہ ہماری زندگی کا ایسا لازمی حصہ بن جائے گا کہ اس سے جان چھڑائے بھی نہیں چھوٹ سکے گی۔ آج جدید دنیا میں سب سے زیادہ ڈسپوزیبل آئٹم پلاسٹک ہے۔ شہروں اور دیہی علاقوں میں سڑکوں کے کنارے پر پھیلے کچرے اور گندگی کے ڈھیر میں پلاسٹک کی مقدار سب سے زیادہ پائی جاتی ہے۔ پلاسٹک کی بوتلیں سنگین ماحولیاتی نتائج کا باعث بن رہی ہیں۔ تشویش ناک پہلو یہ کہ ہر سال 100 ملین ٹن پلاسٹک تیار کیا جارہا ہے جب کہ 1960 تک پلاسٹک کی بوتل کی پیداوار نہ ہونے کے برابر تھی۔ آج اِن بوتلوں کی پیداوار اور فروخت میں خطرناک حد تک اضافہ ہوچکا اور ری سائیکلنگ کی شرح اس کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ پلاسٹک ہماری زندگیوں کے لئے کس قدر خطرناک اور ماحول کو آلودہ کرنے کا باعث ہے، اس کا اندازہ صرف اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ پلاسٹک جس میٹریل اور تیل سے تیار کیا جاتا ہے، وہ میٹریل پلاسٹک کی زندگی کو تین سو سال کی عدم تحلیل کی خاصیت عطا کرتا ہے، یعنی انسان مرکھپ جاتے، لیکن اُن کے استعمال شدہ پلاسٹک انسان کے مرنے کے بعد بھی تین سو سال تک زندہ رہتا ہے۔ انسان جب پلاسٹک ایجاد کر بیٹھا تھا تو اُسے اندازہ ہوا کہ اُس نے کس مسئلے میں خود کو پھنسا لیا ہے۔ تب کئی سال بعد اس کی عقل کی کھڑکی کھلی اور اُسے اندازہ ہوا کہ پلاسٹک سے صرف ری سائیکلنگ کی صورت ہی جان چھڑائی جاسکتی ہے۔ جدید دنیا میں آج ماحولیاتی آلودگی میں پلاسٹک کا کردار سمجھیں اُس فلمی ولن کا کردار ہے، جو فلم میں ہر ایک سے سینگ پھنسائے ہوتا ہے۔ آج پلاسٹک کو ٹھکانے لگانا عالمی مسئلہ بن چکا۔ اونچے پہاڑ ہوں یا گہرے سمندر پلاسٹک ہر جگہ موجود ہیں۔ جدید دنیا میں ماڈرن ملکوں حتیٰ کہ ترقی پذیر ممالک بھی جیسے کہ بھارت پلاسٹک کو تعمیراتی مواد میں استعمال کررہا ہے۔ پلاسٹک سے سڑکیں بنائی جارہی ہیں۔ بھارت نے پلاسٹک کے کچرے کو  ری سائیکلنگ کے ذریعے سڑکیں بنانے کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ پلاسٹک کی ری سائیکلنگ کو لے کر غریب اور ترقی یافتہ ممالک کے مابین بہت زیادہ فرق ہے۔ جیسا کہ صرف اگر برطانیہ کی بات کی جائے تو برطانیہ ہر سال 50 لاکھ ٹن پلاسٹک استعمال کرتا ہے جب کہ اُس میں سے صرف تین لاکھ 70 ہزار ٹن ری سائیکل کیا جاتا ہے، جو مجموعی استعمال اور پیداوار کا صرف 7 فیصد ہے۔ ان اعداد و شمار کے مقابلے میں غریب اور پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک پلاسٹک کے استعمال اور پیداوار میں کہاں کھڑے ہوں گے، اُس کا اندازہ لگانا ہی محال ہے۔ غریب اور ترقی پذیر خطوں کے سمندر یورپی اور ترقی یافتہ ممالک کے سمندروں سے زیادہ آلودہ ہیں۔ سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ آئندہ دو دہائیوں میں ہمارے سمندروں میں پلاسٹک کے فضلے کی مقدار تین گنا ہوجائے گی جب کہ اقوام متحدہ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ کرونا وبا پلاسٹک کے بحران کو مزید بڑھارہی ہے۔ دنیا بھر میں پلاسٹک ماسک، دستانے، حفاظتی میڈیکل مصنوعات کی مانگ بڑھ گئی ہے، لہٰذا پلاسٹک کا پھیلائو ایک خطرناک اور ناگزیر مسئلہ ہے، جس کا حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ انسان کو اگر پلاسٹک کے خطرے کا ادراک ہے تو لازم ہے کہ دنیا بھر کے لوگ اپنے ماحول سے پلاسٹک کے کچرے کو نکالنے اور اس کے دوبارہ استعمال کے لئے جدید حل تلاش کریں۔ جدید ممالک جیسا کہ کینیڈا سے کولمبیا تک لوگ پلاسٹک کے کچرے کو تعمیراتی سامان میں تبدیل کررہے اور اسے گھروں، سکولوں، کمیونٹی سینٹرز اور سڑکوں سمیت سٹوریج کی سہولتوں کی تعمیر کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ غریب اور ترقی پذیر ممالک کا المیہ کہ اِن کے پاس وہ جدید پلانٹس موجود نہیں جو پلاسٹک کو ری سائیکل کرتے ہیں۔ چونکہ یہ عمل مہنگا اور غیر منافع بخش ہے، اس لئے یہ ممالک پلاسٹک کو دوبارہ قابل استعمال کرنے کے منصوبوں سے کتراتے ہیں۔ آج محققین کا خیال ہے کہ دنیا کو پلاسٹک کے ساتھ جڑے اپنے تعلقات کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے، کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو دنیا میں ہر منٹ میں دس لاکھ پلاسٹک کی فروخت ہونے والی بوتلیں انسانی زندگی کے لئے تباہی کا باعث بنیں گی۔ کینیڈا نے گزشتہ سال ری سائیکل شدہ پلاسٹک کی بوتلوں سے ایک گھر بنایا، جو سمندری طوفانوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے اور 25 سال میں ساٹھ ہزار ڈالر کی بچت کرسکتا ہے ۔ یہ کارنامہ سرانجام دینے والی کینیڈا کی تعمیراتی کمپنی اب ایسے مزید بہت سے گھر تیار کررہی ہے اور اپنے کام کو امریکہ کے مشرقی ساحل تک بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ غور طلب پہلو کہ پاکستان کینیڈا نہیں ہے۔ ہم پلاسٹک استعمال کرتے ہیں، یہ خطرناک ہے۔ ہمیں تو غالباً اس کا ادراک بھی نہیں۔ ہمارے لئے پلاسٹک کو ری سائیکل کرنا مشکل ہے۔ ہمارے ملک میں بہت سے غریب پلاسٹک کے کچرے کو اکٹھا کرکے فروخت کرتے ہیں اور یہ اُن کی آمدن کا واحد ذریعہ ہے۔ پلاسٹک کے کچرے کو چُننا اُن کا انتخاب نہیں، بلکہ ضرورت ہے۔ ایسے لاکھوں کروڑوں غریب ایشیا اور افریقہ میں موجود ہیں۔ ضروری ہے کہ حکومت پاکستان اور تمام صوبائی حکومتیں پلاسٹک ری سائیکلنگ کے پلانٹس لگائیں اور غربا سے پلاسٹک کا کچرا اچھے داموں خرید کر ری سائیکلنگ کریں۔ اس طرح پاکستان کے ان ہزاروں غریبوں کا ذریعہ آمدن بھی برقرار رہے گا اور ماحولیاتی آلودگی کا باعث بننے والا پلاسٹک کا تمام کچرابھی حکومت کے پاس پہنچ جائے گا۔ ڈسپوزیبل کا مطلب قابل تلف اور قابل ضیاع ہے۔ پلاسٹک ڈسپوزیبل ہے، لیکن اِسے ری پوزیبل بنانا ہماری حکمت عملی ہونی چاہیے، کیونکہ آج ہم جس سوسائٹی میں رہ رہے ہیں وہ ڈسپوزیبل معاشرہ ہے۔ چیزوں کو ٹھیک یا ری سائیکل کرنے کے بجائے ہم اُسے پھینکنا آسان اور سہل سمجھتے ہیں۔ اس سوچ اور رویوں کو بدلنے کی ضرورت ہے، کیونکہ لائف ڈسپوزیبل نہیں ہے۔