05 دسمبر 2021
تازہ ترین

شفاف انتخابات، گنجلک مرحلہ! شفاف انتخابات، گنجلک مرحلہ!

2 سو ارب روپے تخمینے پر مشتمل ای وی ایم سے انتخابات کرانے کا منصوبہ پیچیدہ اور ناقابل عمل ہوتا جارہا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان اور حزب اختلاف کو حکمراں جماعت مطمئن کرنے میں تاحال کامیاب نہیں ہوسکی، تاہم وقت مقررہ پر انتخابات کا انعقاد بھی ضروری ہے، تاکہ قانون ساز اراکین پارلیمنٹ، عوامی مفادِ عامہ سے متعلق آئین سازی کرسکیں، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہورہا، دونوں ایوانوں کے کسی بھی سیشن یا مشترکہ اجلاس کا مشاہدہ کرلیں تو ایک دوسرے کے خلاف الزامات، عدم برداشت اور ایوان کو اَکھاڑا بنانے کے مناظر زیادہ تر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ المیہ کہ دونوں ایوان قانون سازی کے لئے قریباً غیر فعال ہیں، اس صورت حال سے عوام مطمئن نہیں، حکومت نے حزب اختلاف سے معاملات مشاورت سے طے کرنے کا عندیہ دیا تو تھا، لیکن انتخابی اصلاحات کا بل قومی اسمبلی سے سینیٹ میں بھجوادیا گیا، 90دن میں سینیٹ میں بل پر فیصلہ نہ کرپانے کی وجہ سے مشترکہ اجلاس میں بل پیش کرنے کی منظوری دی گئی۔انتخابی اصلاحات پر مشاورت و قانون سازی کے لئے ایوان میں بیٹھی سیاسی جماعتوں کا کردار اہم ہی نہیں بلکہ الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ سیاسی جماعتو ں کا اعتماد بھی حاصل کرنا ناگزیر ہے، سہ فریقی جماعتی نظام کا تاثر زائل کرنے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کا اعتماد حاصل کرنا چاہیے، جب تک انتخابی عمل میں شریک ہونے والی سیاسی اکائیوں کو ایک صفحے پر نہیں لایا جاتا، کوئی بھی جماعت اکیلے فیصلہ نہیں کرسکتی۔ 2018میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 10 کروڑ 59 لاکھ 60 ہزار تھی، ٹرن آئوٹ 51.82 فیصد رہا، یعنی 5 کروڑ 49 لاکھ 8 ہزار 472 ووٹرز نے حق رائے دہی استعمال کیا۔ قریباً 47.18 فیصد ووٹرز انتخابی عمل کا حصہ نہیں بنے۔ 2018 کے عام انتخابات کا ٹرن آئوٹ گذشتہ تین انتخابات کے مقابلے میں زیادہ تھا۔ پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی کے انتخابات میں ایک کروڑ 68 لاکھ 60 ہزار 675 ووٹ حاصل کیے جب کہ پی ایم ایل(ن) نے ایک کروڑ 29 لاکھ 35 ہزار 236 ووٹ، پی پی پی نے 69 لاکھ 13 ہزار 410 ووٹ،آزاد امیدواروں نے 60 لاکھ 60 ہزار، مجلس عمل نے 25 لاکھ69 ہزار971 ووٹ، ٹی ایل پی (کالعدم) نے 22 لاکھ 34ہزار 338 ووٹ، جی ڈی اے نے 11 لاکھ 93 ہزار 444 ووٹ، اے این پی نے مجموعی طور پر 8 لاکھ 15 ہزار 993 ووٹ، ایم کیو ایم پاکستان نے 7 لاکھ 31 ہزار 794 ووٹ، ق لیگ کو مجموعی طور پر 5 لاکھ 17 ہزار کے قریب ووٹ ملے۔ پی ٹی آئی، (ن) لیگ اور پی پی پی کے قومی اسمبلی کے لئے حاصل کردہ ووٹوں کو یکجا کیا جائے تو تعداد قریباً 3 کروڑ 66 لاکھ 49 ہزار 271 بنتی ہے، یعنی عام انتخابات میں ڈالے گئے 5 کروڑ 49 لاکھ 8 ہزار 472 ووٹوں میں سے 66 فیصد ووٹ ان تین جماعتوں کے حصے میں گئے۔ ان اعداد و شمار سے ایک کروڑ 68لاکھ 60 ہزار 675 ووٹ پی ٹی آئی کے نکال دیئے جائیں تو ایک کروڑ 97لاکھ 88 ہزار 596 ووٹ حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں کے ہیں۔ پی ٹی آئی کے مقابلے میں دیگر جماعتوں نے مجموعی طور پر زیادہ پاپولر ووٹ حاصل کیے، تاہم سربراہ مملکت کا فیصلہ نشستوں کی بنیاد پر ہوتا ہے اس لئے مجموعی پاپولر ووٹ کم حاصل کرنے کے باوجود پی ٹی آئی اتحادیوں کی مدد سے حکمراں جماعت بنی، جمہوریت میں بندے گنے جانے کے اصول کے تحت اس وقت اکثریت پر اقلیت حکومت کررہی ہے، لیکن نظام کا انصرام ایسا ہے کہ عددی بنیادوں کے بجائے نشستوں کی اکثریت پر فیصلہ ہوتا ہے، اس لئے پی ٹی آئی نشستوں اور انفرادی حاصل کردہ ووٹ کی بنیاد پر اکثریتی جماعت ہے۔ پارلیمان میں حکمراں جماعت کے علاوہ دو بڑی جماعتیں ایک سیاسی وجود رکھتی ہیں، یعنی ملک میں سہ فریقی جماعتوں کا رسوخ ہے جو بتدریج دو جماعتی نظام میں ڈھلنے جارہا ہے۔ جس قسم کے بیانیے گذشتہ3 برسوں میں سامنے آئے، اس سے ان شبہات کو تقویت مل رہی ہے کہ موجودہ پارلیمانی نظام کو عوام کے مسائل کا حل نہیں سمجھا جارہا۔ انتخابات کے بعد سیاسی جوڑ توڑ اور سیاسی وفاداریوں کو خریدنے کا عمل اور ہارس ٹریڈنگ جیسے معاملات عوام کے سامنے ہیں، خفیہ ووٹ اور حکومت بنانے کے لئے بیساکھی کو ختم کرنے کے لئے براہ راست ووٹ کے ذریعے سربراہ حکومت کا انتخاب گنجلک و متنازع عمل بھی ہے۔ امریکی صدر کے انتخاب کے لئے مشکل ترین انتخابی نظام اس کی بدترین مثال ہے۔ بادیٔ النظر میں براہ راست انتخاب کے طریق کار کو بلدیاتی نظام میں تجرباتی طور پر آزمانے کی اطلاعات ہیں۔ سیاسی جماعتیں انتخابی ٹکٹ کی تقسیم میں صرف ایک پہلو پر توجہ زیادہ مرکوز رکھتی ہیں کہ کسی بھی طرح وہ نشست جیت کر نمبر گیم بنالیا جائے۔ خصوصی نشستوں پر ٹیکنوکریٹس وغیرہ کو کامیاب تو کرایا جاتا ہے، لیکن انہیں وزارتیں دینے کا رجحان کم دیکھنے میں آیا ہے۔ اہم وزارتوں پر تقرر کرکے قابل کابینہ بنانے کے لئے موجودہ نظام میں خصوصی نشستوں کا کوٹہ سسٹم موجود ہے، جس میں وہ اپنے قابل پارٹی امیدواروں کو منتخب کرواکر کابینہ کا حصہ بناسکتے ہیں، لیکن غیر منتخب نمائندوں کا انتخاب خود عوام سے منتخب اراکین اسمبلی میں بے چینی اور مایوسی کا سبب بھی بنتا ہے کہ ایک تو انہوں نے برسہا برس عوام میں جگہ بنانے کے لئے محنت کی ،گلی محلوں میں دن رات ایک کرکے کارنر میٹنگز میں بڑے بڑے وعدے دعوے کیے، جلسے جلسوں اور ریلیوں میں قائدین کو بلانے اور کارکنان کو جمع کرنے کے لئے قوتیں صَرف کیں، بھاری اخراجات اور مخالفین سے دشمنیاں مول لیں، لیکن جب ثمرات ملنے کا موقع آتا ہے تو اُن کی جگہ ایسی غیر سیاسی شخصیات کابینہ کا حصہ بن جاتی ہیں، جن کے اخراجات کہیں اور ہوئے اور وہ عوام کو بھی جواب دہ نہیں ہوتے، بلکہ ان کے درمیان جانے کی کبھی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے۔ صاف و شفاف الیکشن کا انعقاد بہت ضروری ہے، بالکل اسی طرح قابل اور اہل نمائندوں کا انتخاب بھی ناگزیر ہے، جو امور مملکت کو چلانے کی ٹیکنیکل اہلیت اور مہارت بھی رکھتے ہوں۔ انتخابی عمل کو صاف و شفاف بنانا گنجلک و دشوار گزار مرحلہ ہے، دنیا کے کئی ایسے ممالک کی مثالیں موجود ہیں، جہاں عوام کو انتخابی عمل پر اعتماد بھی ہے اور تحفظات بھی، اس لئے ممکن نہیں کہ کوئی بھی جمہوری نظام خامیوں سے پاک ہو۔