01 دسمبر 2021
تازہ ترین

 محرومیاں، آخر کب تک…؟ محرومیاں، آخر کب تک…؟

 قدرتی خزانوں سے مالا مال صوبہ بلوچستان جانے کیوں حکومتوں کی عدم توجہی کا شکار رہا۔ آبادی کے لحاظ سے تمام صوبوں سے کم اور رقبے کے اعتبار سے تمام صوبوں سے بڑے بلوچستان میں حکومتوں اور زیادہ تر وہاں کے سرداروں اور جاگیرداروں کی اجارہ داری کے باعث عوام پس ماندگی کی زندگی گزارنے پر مجبور کردئیے گئے۔ تعلیم جو کسی معاشرے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، بلوچستان کے نوجوان گذشتہ تیس برس تک سب سے پیچھے رہے۔ چند سال سے وہاں مثبت تعلیمی سرگرمیاں دیکھنے میں آئی ہیں، جس کی وجہ سے اب وہاں کے طلبہ و طالبات پاکستان کی سول سروس میں آنے لگے ہیں۔ اگر بلوچستان کی ترقی پر سنجیدگی سے توجہ دی جاتی تو وہاں کے بعض نوجوان ملک دشمن عناصر کے ہاتھوں میں نہ کھیلتے۔ بلوچستان میں شورش کی بڑی وجہ تعلیم کے شعبے میں اس کا تمام صوبوں سے بہت پیچھے ہونا ہے۔ ایک اردو معاصر کی خبر پر نظر پڑی تو دل دہل گیا۔ گوادر جو دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکا، اس بندرگاہ کے تین برتھ نے کام شروع کردیا ہے، ابھی 79 برتھوں کو کام شروع کرنا ہے، وہاں کے رہنے والوں نے پینے کے پانی، سمندر سے مقامی لوگوں پر مچھلیاں پکڑنے کی پابندی اور اسی طرح کے دیگر مسائل کے حل کے لئے مظاہرہ کیا ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا، گوادر کو حق دو۔ مظاہرین میں جماعت اسلامی کے لوگ پیش پیش تھے، جنہوں نے خبردار کیا، اگر ان کے مطالبات پر غور نہ کیا گیا تو وہ نومبر میں دھرنا دیں گے۔ حقیقت یہ ہے پہلے گوادر کی کل آبادی 50/60 ہزار نفوس پر مشتمل تھی۔ جب سے باہر کے لوگوں نے یہاں آنا شروع کیا ہے، گوادر کی آبادی ڈیڑھ لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے۔ مقامی آبادی کے پینے کے پانی کے لئے گوادر سے چھ کلومیٹر دُور شمال کی طرف اکراکور ڈیم تو ہے، جو موجودہ آبادی کی ضروریات کے لئے ناکافی ہے۔ رئیل اسٹیٹ کے کاروبار نے اس قدر فروغ پایا کہ ملکی اور غیر ملکی لوگوں نے بڑے بڑے ہوٹلز اور شاپنگ مال تعمیر کردئیے۔ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی بھرمار سے پینے کا پانی ناپید ہوچکا۔ مقامی لوگوں کا بڑا مطالبہ ہے کہ انہیں سمندر سے مچھلیاں پکڑنے کی اجازت ہونی چاہیے جب کہ اس کے برعکس غیر ملکی کمپنیوں نے گوادر سے مچھلیاں پکڑنے کے ٹھیکے لے رکھے ہیں۔ آئینی طور پر تو وہاں پر بسنے والوں کو گوادر کے سمندر پر پورا حق ہے۔ جب لوگوں کو ان کے آئینی حقوق سے محروم رکھا جائے تو لوگ منفی سرگرمیوں میں شامل ہوجاتے ہیں۔ گوادر سے غیرملکی ٹریولرز تو مچھلیاں پکڑتے ہیں، لیکن مقامی لوگوں پر کشتیوں کے ذریعے مچھلیاں پکڑنے پر پابندی ہے۔ گوادر پورٹ تو بنادی گئی، سڑکیں زیر تعمیر ہیں، بندرگاہ کی تعمیر کے ساتھ اگر سڑکوں کی تعمیر جاری رہتی تو ذرائع مواصلات کی سہولت سے لوگوں کو کاروبار اور آمدورفت میں آسانی رہتی۔ موجودہ حکومت کے دور میں یہ بات خوش آئند ہے کہ گوادر میں ایئرپورٹ زیر تعمیر ہے، جو بہت جلد ملکی اور غیر ملکی پروازوں کے لئے کھول دیا جائے گا۔ قارئین کو یاد ہوگا، چند ماہ پہلے بھی جمہوریہ چین کے وہ لوگ جو گوادر بندرگاہ کے معاملات سے منسلک ہیں اور گوادر میں قیام پذیر ہیں، نے پینے کے پانی کی عدم دستیابی کے خلاف جلوس نکالا تھا۔ دیکھا جائے تو گوادر میں رہنے والے ملکی اور غیر ملکی لوگوں کا بڑا مسئلہ پینے کے پانی کا ہے۔ گوادر میں پینے کے پانی کے پلانٹ لگانے کی اشد ضرورت کے ساتھ بلوچستان کے علاقوں میں بجلی کی سہولت کا بھی فقدان ہے۔ اگرچہ ایران بلوچستان کو بجلی تو مہیا کررہا ہے، لیکن بلوچستان کے بے شمار علاقے ایسے ہیں، جو ابھی تک بجلی کی سہولت سے محروم ہیں۔ بلوچستان کی بدقسمتی کہ ماضی کی حکومتوں نے بڑے بڑے منصوبوں کا اعلان تو کیا، لیکن انہیں پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں لیت ولعل سے کام لیا۔ بلوچستان میں سب سے زیادہ ترقی جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں ہوئی۔ کوسٹل ہائی ویز منصوبہ بھی مشرف دور کا تھا۔ مشرف نے سب سے بڑا کام جو کیا وہ سینڈک کا منصوبہ، چین کے حوالے کرنے کے عوض گوادر کی بندرگاہ تعمیر کرالی۔ ریکوڈک کا منصوبہ اگر مکمل ہوجاتا تو بلوچستان کے حالات میں خاصی تبدیلی آسکتی تھی۔بدقسمتی سے یہ منصوبہ بھی عالمی سازشوں کا شکار ہو گیا۔ ہمارا دیرینہ دوست چین آج ترقی کرکے دنیا کی سپرپاور بننے کے لئے کوشاں ہے، ایک ہم ہیں جو سیاست دانوں کی باہمی چپقلشوں کا شکار ہیں۔ سابق حکومتیں ملکی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح نہ دیتیں تو ہمارے ملک کا شمار ترقی یافتہ ملکوں میں ہوسکتا تھا۔ وزیراعظم عمران خان کو چاہیے کہ وہ بلوچستان کی پس ماندگی دُور کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کریں، تاکہ وہاں کے لوگوں کو تعلیم کے ساتھ روزگار کے مواقع بھی مل سکیں، جہاں تک صوبوں کے آئینی حقوق کا تعلق ہے، جب آئین نے انہیں حقوق دئیے ہیں تو حکومتوں کو بھی چاہیے کہ وہ صوبوں کے آئینی حقوق دینے میں پس و پیش نہ کریں۔ آج بلوچستان پر جتنی توجہ دینے کی ضرورت ہے، پہلے کبھی نہ تھی۔ ہماری بہادر افواج دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتی ہیں۔ سیاست دانوں کو بھی چاہیے کہ وہ بلوچستان کو جدید تقاضوں کے مطابق ترقی دینے کے لئے جلدازجلد اقدامات کریں۔