05 دسمبر 2021
تازہ ترین

دہلی فسادات منصوبہ بند ہونے کا اعتراف دہلی فسادات منصوبہ بند ہونے کا اعتراف

بھارت میں دہلی ہائی کورٹ نے اعتراف کیا ہے کہ مشرقی دہلی میں ہونے والے بدترین فسادات منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے اور یہ واقعات پل بھر میں پیش نہیں آئے۔ بھارتی عدالت نے قرار دیا کہ ویڈیو فوٹیج میں موجود مظاہرین کے طرز عمل سے واضح پتا چلتا ہے، جسے پراسیکیوشن کی جانب سے ریکارڈ میں رکھا گیا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ کے جج جسٹس سبرامنیم پرساد نے یہ ریمارکس فساد پھیلانے کے جر م میں گرفتار ایک مسلمان ملزم کی درخواست ضمانت خارج کرتے ہوئے دئیے ہیں۔ بھارتی عدالت نے اس امر کا بھی اعتراف کیا کہ شہر میں سی سی ٹی وی کیمرے توڑ دئیے گئے اور حملہ آوروں نے انتہائی منظم انداز میں بھارتی پولیس اہلکاروں پر دھاوا بولا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے یہ ریمارکس ایسے موقع پر دئیے گئے، جب حال ہی میں ایک اور بھارتی عدالت نے مظفر نگر فسادات کے 20 ہندو انتہاپسند ملزمان کو بری کرنے کا فیصلہ سنایا ہے۔ مذکورہ عدالت نے بھی اگرچہ دہلی فسادات کے منصوبہ بند ہونے کا اعتراف کیا، لیکن یہ باتیں ایک مسلمان ملزم ابراہیم کی درخواست ضمانت خارج کرتے ہوئے کی گئیں، جس سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ان فسادات کی منصوبہ بندی ہندو انتہاپسندوں نے نہیں کی، بلکہ اس میں مسلمان ملوث تھے۔ بھارت میں شمال مشرقی دہلی میں متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج کے دوران مسلم کُش فسادات کی آگ بھڑکائی گئی، جس میں 50 سے زائد افراد قتل اور 8 سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ 1984 میں اندرا گاندھی کے قتل پر سکھ مخالف فسادات کے بعد دہلی میں بھڑکائی جانے والی فسادات کی آگ کو سب سے زیادہ سنگین قرار دیا گیا تھا۔ مودی سرکار نے گزشتہ برس دہلی میں بی جے پی کی انتخابات میں بری طرح شکست کے بعد اروند کیجریوال کو سبق سکھانے اور اس کی حکومت کی ناکامی ظاہر کرنے کے لئے مسلم کُش فسادات بھڑکانے کی منظم سازشیں شروع کردی تھیں، یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے مسلح جتھے پہلے سے پوری طرح تیار تھے اور جوں ہی فساد شروع ہوا تو مسلم بستیوں کا چاروں اطراف سے گھیرائو کرکے گھروں، دُکانوں، مساجد اور گاڑیوں کو جلانے کا آغاز کردیا گیا۔ ہندو انتہاپسندوں نے مساجد کی بے حرمتی کرتے ہوئے میناروں پر چڑھ کر بھگوا جھنڈے لہرائے، زبردست توڑ پھوڑ کی اور مزارات نذرآتش کردئیے۔ اس طرح سکولوں کو آگ لگادی گئی، نوجوانوں کو گولیاں ماری گئیں، خواتین پر تیزاب پھینکا گیا اور پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں اور مسلمانوں کی املاک کو جلایا جاتا رہا۔ انتہاپسندوں کی جانب سے متنازع شہریت بل کے خلاف احتجاج کرنے پر بھی مسلمانوں کو قتل عام کی دھمکیاں دی جارہی تھیں۔ مسلم کُش فسادات امریکی صدر ٹرمپ کے دورۂ بھارت کے دوران بھڑکائے گئے۔ اس کا بڑا مقصد یہ تھا کہ میڈیا بھارت و امریکہ کے مابین ہونے والے معاہدوں اور ٹرمپ کے دورے کی کوریج میں مصروف ہوگا، اس لئے فسادات کی طرف توجہ کم ہوگی، عین اس موقع پر جب ٹرمپ بھارت سے اربوں ڈالر کے معاہدے کررہے تھے، ہندو انتہا پسند مذموم سازش کے تحت مسلمانوں کے گھروں میں گُھس کر عورتوں، بچوں، جوانوں اور بوڑھوں کا قتل کرتے رہے۔ بلوائیوں نے فسادات کے دوران کسی کو نہیں چھوڑا، خواتین کے ساتھ انتہائی شرم آمیز سلوک کیا گیا، بعض علاقوں میں نوجوان لڑکیوں کے اغوا کی خبریں بھی آئیں۔ حیران کُن امر کہ ماضی کی طرح دہلی فسادات کے دوران بھی بھارتی پولیس قتل عام اور املاک کی بربادی کے دوران انتہاپسندوں کا ہاتھ روکتے ہوئے نظر نہیں آئی۔ پولیس اہلکار کہیں بلوائیوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے گھروں اور دُکانوں میں لوٹ مار کرتے رہے تو کہیں خون کی ندیاں بہاتے درندوں کو خاموشی سے دیکھتے رہے۔ بعض میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ براہ راست فسادات کی نگرانی کرتے رہے اور اس حوالے سے جاری انتہاپسندوں کی سرگرمیاں مکمل مانیٹر کی جاتی رہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ انہی کی ہدایات پر بھارتی پولیس نے فسادیوں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا، بلکہ جلائو گھیرائو کے دوران انہیں شہہ دی جاتی رہی اور کئی علاقوں میں تو سول کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکار خود بھی توڑ پھوڑ کے عمل میں شریک رہے۔ دہلی فسادات کے حوالے سے مقامی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ بی جے پی، آر ایس ایس، شیوسینا، بجرنگ دَل اور دیگر ہندوانتہاپسند تنظیموں کی جانب سے شہید کیے گئے مسلمانوں کی تعداد کہیں زیادہ تھی، لیکن اسے کم بتایا گیا۔ فسادات کے دوران سوشل میڈیا پر مسلمانوں پر تشدد اور املاک جلائے جانے کی ایسی دل دہلا دینے والی تصاویر منظرعام پر آتی رہیں کہ کمزور دل کے افراد انہیں دیکھ بھی نہیں سکتے تھے۔ ان تصاویر کو دیکھ کر صاف پتا چلتا تھا کہ دہلی میں انتہائی منظم انداز میں گجرات سانحے کی تاریخ دہرانے کی کوشش کی گئی۔ فسادات کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کے اراکین نے انکشاف کیا کہ ہندوانتہاپسندوں نے فسادات شروع کرنے سے قبل ہی بیسیوں واٹس ایپ گروپ بنالئے تھے، جن کے ذریعے بھگوا دہشت گردوں کو مسلمانوں کی بستیوں، گھروں اور دُکانوں پر حملوں کے لئے ہدایات دی جاتی رہیں اور ڈیوٹیاں لگائی گئیں کہ کس گروپ نے خواتین سے بداخلاقی کرنی اور ان پر تیزاب پھینکنا ہے، کن گروپوں نے گھروں و دُکانوں کو آگ لگانی ہے اور کون سے گروپوں نے نوجوانوں کو چیک کرکے ان کا قتل کرنا ہے۔ یہ واٹس ایپ گروپ اس قدر متحرک رہے کہ فسادات کے دوران سوشل میڈیا کے ان گروپوں میں لمحہ بہ لمحہ تصاویر اپ ڈیٹ کی جاتی رہیں۔ بلوہ کرنے والے انتہاپسندوں میں باقاعدہ علاقے تقسیم کیے گئے کہ آپ لوگوں نے کس جگہ اور کن محلوں و علاقوں میں آگ اور خون کی ندیاں بہانی ہیں۔ فسادات کے لئے بنائے گئے ان واٹس ایپ گروپوں میں بھگوا دہشت گردوں سے ان کی ’’کارکردگی‘‘ کی رپورٹ بھی لی جاتی رہی۔ دہلی حکومت کی طرف سے بنائی گئی تحقیقاتی ٹیموں نے اس حوالے سے 50 کے قریب موبائل فون ضبط کیے، جو ان گروپس میں شامل تھے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے سیکڑوں انتہاپسندوں کی شناخت کی گئی، لیکن ان میں سے چند ایک لوگوں کو حراست میں لیا، جنہیں بعد میں رہا کردیا گیا۔ انتہاپسندوں نے فسادات کے دوران ایسی افواہیں بھی پھیلائیں کہ مسلمانوں نے ہندوئوں پر حملے شروع کردئیے، جس سے اور زیادہ اشتعال کی آگ بھڑکی اور پھر یہ درندے ہر طرف کھل کھیلتے رہے۔ انتہاپسندوں کی جارحیت و درندگی کا عالم یہ تھا کہ 19 سال کے مسلمان کے سر میں ڈرل مشین سے سوراخ کردیا گیا۔ بھارتی پولیس کے انتہاپسندوں کا ساتھ دینے کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کو ایمبولینسوں کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیا گیا اور پولیس کے اہلکار زبردستی ایمبولینسوں کو روکتے رہے۔ فسادات کے دوران بی جے پی رہنماؤں کی ڈھٹائی کا عالم یہ تھا کہ ایک طرف فسادات بھڑکانے کے لئے اپوزیشن جماعتوں پر الزامات لگائے گئے تو دوسری جانب بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کی ریلی میں ’’دیشن کے غداروں کو، گولی مارو سالوں کو‘‘ جیسے اشتعال انگیز نعرے لگائے جاتے رہے۔ بی جے پی نے اس نعرے کو اس وقت بھی پورے بھارت میں پھیلا رکھا ہے اور ہر جگہ خوف و ہراس پھیلانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اسی انتہاپسندی کا اثر ہے کہ بھارتی ریاست آسام اور مدھیہ پردیش میں حالیہ دنوں میں مسلمانوں کے بڑی تعداد میں گھر تباہ کیے گئے اور گوشت رکھنے اور دوسرے الزامات کے تحت متعدد افراد کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ نئی دہلی ہائی کورٹ نے فسادات منصوبہ بندی کے تحت کیے جانے کا اعتراف کر کے ایک حقیقت تو تسلیم کی، لیکن ساتھ ہی ان فسادات میں مسلمانوں کو ذمے دار ٹھہرانے کی سازش کی بو آتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل بھارتی میڈیا نے دو فیکٹ فائنڈنگ کمیٹیوں کی رپورٹ شائع کی، جس میں ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے الزام دہرایا گیا تھا کہ فسادات کے اصل ذمے دار ہندوانتہاپسند نہیں مسلمان ہیں اور انہوں نے مبینہ طور پر پہلے سے فسادات کی تیاری کر رکھی تھی۔ اس سے صاف نظر آرہا ہے کہ مودی سرکار مظفر نگر فسادات کے ملزمان کی طرح دہلی فسادات کے ملزمان کو بھی رہا کرنے کی تیاری کررہی ہے اور ایک بار پھر عدالتی بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گرفتار بھارتی مسلمانوں کو سزائیں سنائی جاسکتی ہیں۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کو چاہیے کہ وہ بھارتی مسلمانوں کی حالت زار کا نوٹس لیں اور ان کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم اور ناانصافیاں روکنے کے لئے بھارتی حکومت پر دبائو بڑھائیں، تاکہ مودی سرکار کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ رک سکے۔