05 دسمبر 2021
تازہ ترین

یہ وطن ہمارا ہے یہ وطن ہمارا ہے

آج اخبار میں جی سی یونیورسٹی کے ہونہار طلبہ و طالبات میں تقسیم انعامات کی خبر ایک کونے کے چھوٹے سے حصے اور اندر والے صفحوں میں دیکھ کر دل کو بہت صدمہ ہوا جب کہ اپوزیشن لیڈر اور بے آبرو کرنے والوں کی خبریں پہلے اور آخری صفحات پر بڑے بڑے لفظوں میں دکھائی گئیں۔ یہ جو ملک کے معمار ہیں، ان کی حوصلہ افزائی ضروری ہے، یا پھر چالیس سال سے بلی چوہے کے کھیل پر منحصر سیاست کی، یا پھر بہنوں بیٹیوں کی عزتیں لوٹنے والوں کی خبریں ناگزیر ہیں … جو اس کے بنانے والے اور مستقبل کے رکھوالے ہیں، ان کی پذیرائی ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔ اخبارات کی زینت یہ گرما گرم خبریں جنہیں پڑھ کر ووٹر اپنی رائے قائم کرتے ہیں، وہ بکائو خبروں اور زرد صحافت کی نذر ہوجاتے ہیں۔ جن بچوں کو حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے، وہ مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں، تبھی تعلیم تو حاصل 
کرلیتے ہیں، لیکن یا تو وہ حصول روزگار کے لئے ملک چھوڑ جاتے یا پھر اسی کرپٹ معاشرے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ معاشرہ جس میں وہ پڑھائی اور تعلیم کی حوصلہ شکنی اور کرپشن اور بدمعاشی کی حوصلہ افزائی دیکھتے ہوئے بڑے ہوتے ہیں، پھر وہ جو تعلیمی قابلیت نہیں رکھتے، وہ کرپٹ معاشرے کی آبادکاری کرتے نظر آتے ہیں اور جو قابل ہوتے ہیں، وہ یا تو ملک چھوڑ جاتے یا پھر اسی نظام کا حصہ بن کر کرپشن کے گر سیکھ لیتے ہیں۔ 
کاش مولا جٹ اور وحشی گجر جیسی فلموں کو سنسر بورڈ چلنے نہ دیتا اور کاش استاد کی عزت ایک 
سیاسی رہنما سے زیادہ ہوتی… کاش اخبارات کی زینت تعلیم و تربیت اور علم و تدریس ہوتی… کاش میوزک سینٹروں کی جگہ لائبریریوں نے لی ہوتی، لیکن کبھی کسی نے اس طرف دھیان ہی نہیں دیا اور نوجوان نسل تعلیم و تربیت سے محروم کلاشنکوف اور گنڈاسہ اٹھانے پر مجبور ہوگئی، سیاست نے ان بچوں کو پناہ دینا شروع کردی۔ ذہین اور فطین بچے دل برداشتہ ہوگئے۔ نقلیں مارنے والے سرکاری اداروں میں بھرتی ہوگئے اور ڈاکٹر، انجینئر بننے والے پانچ پانچ ہزار میں نوکری کرتے رہے، انجام یہ ہوا کہ بدمعاش، بددیانت اور بے کار لوگ عزت دار ہوگئے اور استاد، مولوی اور دیگر قابل لوگ جوتے کھاتے رہے اور ناصرف محرومی و مجبوری اور مظلومی کی زندگی گزارتے رہے بلکہ بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے انہی نااہل لوگوں کی غلامی بھی کرتے رہے۔ مایوسی کی اس گھڑی میں اللہ نے دیا روشن کیا اور پھر سے لیڈر عطا کردیا۔ اب تعلیم کو زیور اور کرپشن کو زنجیروں میں باندھ دیا اس لیڈر نے۔ بہت مشکلات اٹھائیں اور اٹھارہا ہے یہ مرد مجاہد لیکن ٹس سے مس نہیں ہورہا۔ دیکھنے والے دیکھیں گے جلد ظلم کا نظام ختم ہونے کو ہے اور پھر سے یہ پاک وطن ہمارا وطن عظیم اور عظیم تر بنے گا۔ استاد کی عزت ہوگی اور غنڈے بدمعاشوں کی پکڑ اور عبرت ناک سزائیں، اب ہمارے ذہین طلباء ملک نہیں چھوڑیں گے، بلکہ یہ بدمعاش دوڑیں گے اور ملک بدر ہوں گے… وطن کی مٹی گواہ رہنا۔