01 دسمبر 2021
تازہ ترین

آزاد میڈیا … آزاد میڈیا …

پاکستانی حکمرانوں کا یہ مسئلہ رہا ہے کہ جب یہ اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو انہیں میڈیا کا درد تڑپاتا ہے اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ میڈیا کو زیادہ سے زیادہ آزادیاں لے کر دیں، تاکہ یہ حکومت وقت کے خلاف کھل کر لکھ اور بول سکیں اور جب یہی حکمران طبقہ اقتدار میں ہوتا ہے تو اسے میڈیا کی آزادی ایک آنکھ نہیں بھاتی اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ میڈیا پر قدغن لگائیں، یہ جو دوچار لوگ بولتے ہیں، انہیں چپ کرائیں اور جو چینل یا اخبار زیادہ آنکھیں دکھاتا ہے، اسے بند کرائیں یا اس کے اشتہار ات پر پابندی لگاکر صحافیوں کی معاشی ناکہ بندی کریں۔ جنرل ایوب سے لے کر تاحال ہر حکمران نے میڈیا کو اپنے کنٹرول میں کرنے کے لئے قوانین بنائے۔ موجودہ حکومت بھی میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نام پر بل لاکر صحافت کو فیک نیوز سے پاک کرنا چاہتی ہے۔ خواہش ہے کہ میڈیا کو جو بچی کھچی آزادی میسر ہے وہ بھی چھین لی جائے اور جس میڈیا کو آزاد چھوڑا ہوا ہے، اسے بھی قید کرلیا جائے۔ 
میڈیا کا قصور صرف اتنا ہے کہ یہ لوگوں کو بتاتا ہے کہ مہنگائی ہوگئی ہے، ڈالر کا ریٹ اوپر چلاگیا ہے، پٹرول کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ آٹا، گھی، چینی، دالیں اور چاول عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوچکے ہیں۔ میڈیا کا قصور صرف اتنا ہے کہ یہ لوگوں کے جذبات کی ترجمانی کرنے کی کوشش کرتا ہے اور لوگ جب اپنا غبار مین سٹریم میڈیا یا سوشل میڈیا پر اتارتے ہیں تو ظاہر ہے یہ آزاد میڈیا کہاں جچے گا۔ حکمرانوں کو تو میڈیا وہی اچھا لگتا ہے جو پٹرول 
کی بڑھتی قیمت کا موازنہ دنیا کے دیگر ممالک سے کرکے بتائے کہ پاکستان میں پٹرول ابھی بھی سستا مل رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ نہ بتائے کہ جن ممالک میں یہ پٹرول مہنگا مل رہا ہے، وہاں کے عوام کی فی کس آمدن کتنی ہے، مزدور فی گھنٹہ کتنے ڈالر یا روپے کماتا ہے اور لوگوں کا رہن سہن کیسا ہے، ان کی قوت خرید ہمارے مقابلے میں کتنی ہے۔ میڈیا تو وہی اچھا لگے گا جو دوائیوں کی قیمت بڑھنے پر حکومت کو موردِ الزام نہ ٹھہرائے اور عوام کے ذہنوں میں راسخ کرے کہ اگر دوائیوں کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں تو اس میں بھی عوام کا ہی بھلا ہے، شکر کریں کہ یہ مہنگی دوائیں خریدرہے ہیں، اگر انہیں یہ بلیک میں ملتیں یا سرے سے ملتی ہی نہیں تو پھر یہ کیا کرلیتے۔
میڈیا تو وہ اچھا لگے گا جو حکمرانوں کے اپوزیشن کے دور کے دعوے بار بار نہ چلائے، یا ان کے دعووں کے برعکس ہوئے کاموں کو بھی ان 
کی اچھائی کے طور پر پیش کرے، میڈیا تو پھر وہی بھائے گا جو پیا کے من کی بات کرے گا۔ ظاہر ہے ایسا آزاد میڈیا جو بار بار ماضی کے بیانات کو چلانے کی کوشش کرے اور انہیں عوام میں غیر مقبول کرنے کے ہتھکنڈے آزمائے، پھر ایسا آزاد میڈیا تو وارے میں نہیں۔ میڈیا تو وہی اچھا لگے گا جو ترقیاتی کام نہ ہونے کو برا نہ جانے، بلکہ اس میں بھی حکمرانوں کے قصیدے پڑھے اور بتائے کہ ترقیاتی کام نہ ہونے کی بنیادی وجہ بھی نااہلی یا عدم توجہ نہیں بلکہ حکمرانوں کی دور اندیشی ہے اور بتائے قومیں سڑکوں اور پلوں سے نہیں بنتیں، قومیں مہنگائی کی چکی میں پس کر کندن ہوتی ہیں اور جب انہیں مہنگائی مہنگائی نہ لگے۔ جو میڈیا دن رات خبریں چلائے کہ مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے، لوگ دوائیوں سے محروم ہیں، مہنگا پٹرول خریدنے کی سکت نہیں رکھتے، اشیاء خورونوش کی وجہ سے لوگ فاقوں پر مجبور ہیں، پڑھے لکھے لوگ بھکاری بن رہے ہیں، لوگوں کو بولنے کی آزادی نہیں، یہ سب کچھ اگر میڈیا عوام کے سامنے لائے تو پھر ایسا میڈیا حکمرانوں کو تو کسی طور نہیں بھائے گا۔ بقول حبیب جالب:
بے شعور لوگ ہیں
زندگی کا روگ ہیں 
اور تیرے پاس ہے
ان کے درد کی دوا 
میں نے اس سے یہ کہا
تُو خدا کا نور ہے 
عقل ہے شعور ہے 
قوم تیرے ساتھ ہے 
تیرے ہی وجود سے 
ملک کی نجات ہے 
تُو ہے مہر صبح نو 
تیرے بعد رات ہے 
بولتے جو چند ہیں
سب یہ شرپسند ہیں 
ان کی کھینچ لے زباں
ان کا گھونٹ دے گلا
میں نے اس سے یہ کہا