01 دسمبر 2021
تازہ ترین

سردار اور وڈیرے اپنے علاقوں کی خبر لیں سردار اور وڈیرے اپنے علاقوں کی خبر لیں

سوشل میڈیا پر ایک وڈیو گشت کررہی ہے، اس میں ایک صاحب (جنہوں نے اپنا تعارف حافظ عبدالکریم حسینی کرایا) لوگوں سے اپیل کررہے ہیں کہ بلوچستان کے ایک علاقے میں پینے کا پانی پہنچانے میں مدد کریں۔ وہ جس علاقے کا نام لے رہے ہیں، وہ تحصیل وڈھ، خضدار، بلوچستان کا علاقہ ہے، مینگل قبیلے کا گائوں اسی تحصیل میں40 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ گائوں کا نام حرم بو ہے، جو قلی حاجی خان محمد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ میں نے وڈیو دیکھنے کے بعد حافظ صاحب سے فون پر گفتگو کی، تاکہ معلوم ہوسکے کہ کتنا خرچ آئے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈھائی سو فٹ گہری بورنگ ہوگی، پانی کو سولر پلیٹ کے ذریعے کھینچا جائے گا۔ ان کے حساب سے تخمینہ ساڑھے پانچ لاکھ روپے ہوگا۔ پورے علاقے کا انحصار بارش پر ہے، ویسے ہی جیسا پورا تھرپارکر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقے کے اندر کچھ زمینداروں نے بورنگ کرائی ہوئی ہے اور وہ میٹھا پانی حاصل کررہے ہیں، جس سے وہ کاشت کاری بھی کرتے ہیں۔ ایسا ہی بعض غیر سرکاری تنظیموں اور ایک فلاحی ادارے نے تھرپارکر میں کیا تھا۔ فلاحی ادارے نے تو تھر کے ان علاقوں میں بھی بورنگ کراکر سولر کے ذریعے پانی کھینچا، جس سے بہترین کاشت کاری ہورہی ہے۔ جماعت الدعوۃ نے ایک بہتر تربیت دی کہ ابتدائی خرچہ جماعت کردے گی، کنویں اور سولر کی دیکھ بھال گائوں کے لوگ آپس میں چندہ جمع کرکے خود کریں گے۔ 
وڈھ مینگل قبیلے کا علاقہ ہے اور مینگل سرداروں کا حلقہ انتخاب بھی، جہاں سے وہ کسی پریشانی کے بغیر انتخاب میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ 1970 میں سردار عطاء اللہ مینگل منتخب ہوئے،وزیراعلیٰ بلوچستان بنے، ان کے صاحبزدے اختر مینگل منتخب ہوئے، وزیراعلیٰ بنے۔ بار بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوتے ہیں۔ اس مرتبہ بھی قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔ ووٹ جن لوگوں سے لیا جاتا ہے، وہ پانی کو ترستے ہیں۔ پینے کا پانی، علاج معالجہ اور زچہ خانے کی سہولت، پرائمری سکول لوگوں کا حق ہے، جو انہیں منتخب نمائندوں، سرداروں، وڈیروں کو لازمی بہم پہنچانا چاہیے۔ کسی صاحب نے طنز میں کہا کہ ساڑھے پانچ لاکھ روپے کا خرچ تو ان (سرداروں) کا ایک وقت کا ناشتہ ہے۔ میں نے کسی سے پوچھا کہ ایسی صورت حال کے باوجود لوگ انہیں ووٹ کیوں دیتے ہیں۔ جواب ملا کہ لوگ کمزور ہیں، ان میں بولنے کی ہمت نہیں۔ وڈھ میں معدنیات موجود ہیں۔ ان کی لیز مینگل سرداروں کے پاس ہے۔ دیگر چیزوں کے علاوہ وہاں سے ماربل کے ساتھ 
کرومائٹ بھی نکلتا ہے۔ کرومائٹ بہت قیمتی ہوتا ہے، جسے بازار میں فروخت کرکے مینگل پیسہ بناتے ہیں۔ صرف وڈھ ہی نہیں، تھرپارکر ہو یا شہدادکوٹ، قمبر، کراچی اور حیدرآباد کی غریب لوگوں کی بستیاں ہوں یا دیگر علاقے، لوگ پانی جیسی بنیادی ضرورت کے لئے ترستے ہیں۔ وڈھ میں لوگوں (خواتین کو ہی جانا پڑتا ہوگا) کوچار پانچ کلو میٹر فاصلہ پر پانی لانے کے لئے جانا پڑتا ہے۔ اسی طرح تھرپارکر میں خواتین اپنے سروں پر پانی کے مٹکے رکھ کر لاتی ہیں۔ انہیں آج بھی گہرے کنویں سے پانی کھینچنا پڑتا ہے، حالانکہ سولر سے مدد لی جاسکتی ہے۔بلوچستان کی طرح تھرپارکر یا دیگر علاقوں میں سردار ہوں یا پیسے والے لوگ، غریبوں کی ضرورتوں کا احساس ہی نہیں کرتے۔  
میں تو اس خیال کا حامی ہوگیا ہوں کہ غیر سرکاری تنظیموں یا خیرات کے ذریعے عوام کی فلاح کے کام کرنے والے لوگ علاقے میں ووٹ لینے اور اسلام آباد و صوبائی دارالحکومتوں میں دندنانے والے نام نہاد رہنمائوں کو موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ بھوکے، ننگے اور اپنی ضرورتوں کے لئے محتاج غریبوں کے کندھوں پر سوار ہی رہیں۔ کیوں؟ حکومت تو کبھی یہ خیال ہی نہیں کرے گی، کیوںکہ اس کی آنکھیں، کان تو یہی نام نہاد رہنما ہوتے ہیں یا وہ سرکاری ملازمین، جو ان نام نہاد رہنمائوں کے غلاموں سے زیادہ غلام بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ کیا مینگل سردار کے پاس معدنیات سے حاصل کیے جانے والے پیسے میں گنجائش نہیں کہ تھوڑا تھوڑا کرکے پینے کے پانی کی فراہمی کا انتظام ہی کرادیں۔ کیا شہداد کوٹ کے مگسیوں کے پاس پیسوں کی کمی ہے۔ کیا تھرپارکر کے اربابوں، سیٹھوں اور ان انتخابی امیدواروں کے پاس پیسوں کی کمی ہے کہ وہ لوگوں کی بنیادی ضرورتوں کو ہی پورا کرسکیں۔ ماما وشنو تھری کو لوگ محبت میں اور ان کی خدمات کے بدلے میں تھرپارکر کا ایدھی قرار دیتے ہیں۔ ماما نے تھرپارکر میں بلامعاوضہ خون کی فراہمی کے مراکز قائم کیے ہوئے ہیں۔ وہ ملازمت کرکے اپنا گھر چلاتے ہیں، لیکن رات دن خون کی فراہمی میں مصروف رہتے ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ اگر ماما لوگوں سے ووٹ مانگیں تو ان کی خدمات کے معترف ہونے کے باوجود لوگ انہیں ووٹ نہیں دیں گے۔جہالت کے ملبے میں دبے لوگ اپنے علاقوں کے نام نہاد رہنمائوں سے ان کی انتقامی کارروائیوں کی وجہ سے خوف کھاتے ہیں۔ انتظامیہ اور پولیس سب ان کا ہی دم بھرتے ہیں۔ ان کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سیاسی کارکن بھی دیہی علاقوں میں احتجاج کرنے کے نتائج سے خوف کھاتے ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے حال ہی میں اپنے سوشل میڈیا اکائونٹ ٹویٹر پر ٹویٹ میں کہا کہ حزب اختلاف کے دو اراکین اسمبلی اور ان کی پارٹی کے کچھ مایوس اور خفا افراد، ناراض ارکان کے بھتہ خوری اور لوٹ مار کے منصوبے ہیں، تاہم ان شاء اللہ وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی اور وفاقی بجٹ میں سخت محنت کے بعد ہم نے لوگوں کے لئے ان فنڈز کا حصول ممکن بنایا ہے۔ انہوں نے اپنی ٹویٹ میں ترقیاتی منصوبوں کی تفصیل بھی درج کی۔ وزیراعلیٰ جیسا ذمے دار بھی ان کے سامنے بے بس ہے۔ ان کے سر پر تحریک عدم اعتماد کی تلوار لٹکادی گئی ہے۔ اندازہ کیجیے کہ مشتاق رئیسانی (جو بلوچستان حکومت کے سیکریٹری خزانہ تھے) سے قومی احتساب بیورو نے 2016 میں ایک چھاپے میں 75 کروڑ روپے نقد، زیورات اور غیر ملکی کرنسی برآمد کی تھی۔ ان پر اور بھی بھاری سرکاری رقم خورد برد کرنے کا الزام تھا اور رقم برآمد بھی ہوئی تھی۔ بلوچستان ہو یا سندھ، یا دوسرے صوبے، تمام میں مشتاق رئیسانی موجود ہیں۔ ان کے سرپرست بھی موجود ہیں۔ حکومتوں کا کام یہی رہ گیا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے قرضوں پر قرضے لئے جائیں اور اپنی حکومتیں چلائیں۔ ایسا معاملہ ہمیشہ چلنے جیسا نہیں ہوتا۔ بلوچستان اور دیگر صوبوں میں تو نام نہاد سیاسی رہنمائوں اور حکمران طبقے سے وابستہ افراد نے ہمیشہ ترقیاتی بجٹ کا استعمال اپنی ذات پر کیا۔ ان کے علاقوں کا دورہ کرکے دیکھا جاسکتا ہے کہ وہاں کیا کیا سہولتیں ہیں۔ کراچی میں نام نہاد روئوسا کی رہائش گاہیں دیکھ لیں، لاہور میں جاتی امراء کے بارے میں کیا خیال ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بھی آنکھیں بند ہی رکھنا چاہتی ہیں، تاکہ ان کی حکومت چلتی رہے۔ عوام کا کسی کو احساس نہیں۔