05 دسمبر 2021
تازہ ترین

قرآن کریم کی تاثیر اور ہم قرآن کریم کی تاثیر اور ہم

اللہ تعالیٰ اس کائنات کے خالق و مالک ہیں۔ کائنات میں حضرتِ انسان کو اہم مقام حاصل ہے۔ انسانوں کی ہدایت کے لئے ربِ کائنات نے قریباً 313 یا اس سے زائد آسمانی کتب نازل فرمائی ہیں۔ اس سلسلے کی آخری کتاب قرآن کریم ہے، قرآن حیرت انگیز کتاب ہے، اس کا اعتراف مسلمان ہی نہیں بلکہ غیر مسلم افراد حتیٰ کہ اسلام کے کھلے دشمن بھی کرتے ہیں۔ قرآن مجید اپنی تمام حیثیتوں کے لحاظ سے معجزہ کامل ہے۔ کفار عرب نے اسلام اور پیغمبر اسلام کی تکذیب کی کیا کیا کوششیں نہ کیں۔ انہوں نے اس راہ میں جان و مال قربان کیا، دین و کیش کو برداشت کیا، اپنے عزیزوں اور فرزندوں کو نثار کیا۔ اس کے شاعروں اور خطیبوں نے اپنی آتش بیانیوں سے تمام ریگستان عرب کو تنور بنادیا۔ سب کچھ کیا مگر یہ نہ ہوسکا کہ قرآن کریم کی ایک سورۃ کا جواب پیش کریں، حالانکہ وہ زبان کے اصل مالک اور محورہ عرب کے طبعی ماہر تھے۔ مگر قرآن کریم کے مقابلے سے عاجز تھے۔ قرآن مجید کے سامنے سب نے
سر نیاز خم کیا۔ لبیچ عرب کے مشہور شاعر تھے اور سبعہ معلقہ کی مزم مشاعرہ کے رکن تھے۔ اسلام کے بعد جب حضرت عمر بن خطابؓ نے ان سے چند اشعار کی فرمائش کی تو انہوں نے جواب دیا، جب خدا نے مجھ کو بقرہ اور آل عمران سکھائی تو مجھے شعر کہنا زیبا نہیں۔
انیس قبیلہ غفار کے شاعر تھے۔ جب آنحضرت ﷺ کا چرچا سنا تو چھپ کر مکہ آئے اور آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے کلام ربانی کی کچھ آیتیں سن کر واپس گئے۔ ان کے بھائی نے پوچھا، تم نے کیسا پایا؟ انہوں نے جواب دیا کہ قریش کہتے ہیں کہ وہ شاعر نہیں ،ہم نے شعر کے ایک وزن کو دیکھ لیا ہے وہ شاعر نہیں۔ خدا کی قسم محمد ﷺ سچے اور قریش جھوٹے ہیں۔
ولید بن مغیرہ قریش میں بڑا دولت مند اور صاحبِ اثر تھا، وہ ایک مرتبہ آپ ﷺ کی خدمت میں آیا اور فرمائش کی کہ کچھ پڑھ کر سنائیے۔ آپ ﷺ نے چند آیتیں پڑھیں، وہ بولا خدا کی قسم اس میں کچھ اور ہی شیرینی اور تازگی ہے، اس نخل کی شاخوں میں پھل اور اس کا تنا بھاری ہے، یہ کسی انسان کا کلام نہیں۔
نجاشی کے دربار میں حضرت جعفرؓ نے جب سورہ مریم کی تلاوت کی تو اس پر رقت طاری ہوگئی اور اس کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ پھر کہا: خدا کی قسم! یہ کلام اور انجیل دونوں ایک ہی چراغ کے پرتو ہیں۔ حضرت طفیل بن عمرو دوسیؓ کے کانوں میں اتفاقیہ قرآن مجید کی چند آیتیں پہنچ گئیں تو مسلمان ہوگئے۔
یہ تمام واقعات قرآن کریم کی تاثیر پر دلالت کرتے ہیں، آج کا مسلمان قرآن کی تلاوت تو کرتا ہے مگر اثر سے خالی، آج کا مسلمان خود کو تبدیل نہیں کررہا، بلکہ قرآن کریم کی تعلیم کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
ڈاکٹر اقبالؒ نے کہا تھا:
خود بدلتے نہیں، قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہُوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق!
قرآن کریم کا نور درحقیقت اس کو ہی حاصل ہوتا ہے جو اس پر غوروفکر کرتا ہے کہ میرا قرآن اور اللہ مجھ سے کیسی زندگی بسر کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں، وہ مطالبہ ہے ایمان داری کا، پاک دامنی کا، حیات و عزت کا، رزقِ حلال کا، انسانیت کی خدمت کا، کمزور کی مدد کا، کائنات کے مالک کی غلامی کا، عدل و انصاف کا، والدین کی عزت و احترام کا، صفائی کا، مگر افسوس آج ہماری زندگی ان تمام امور سے خالی ہے۔
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلماں
اللہ کرے تجھ کو عطا جدتِ کردار