08 دسمبر 2021
تازہ ترین

لاوارث بچے کا نوحہ… لاوارث بچے کا نوحہ…

ہمارا قومی کھیل ’’ہاکی‘‘ دنیائے کھیل میں ناموری کے بعد غریب کے بچے کی طرح ’’آئی سی یو‘‘ میں لاوارث پڑا ہے، کہ اس کے ’’وارث‘‘ فیڈریشن کی ٹھیکیداری کی جنگ میں اس قدر مصروف ہیں کہ ان کے پاس اپنی پہچان ہاکی کی دیکھ بھال کے لئے وقت ہی نہیں، لیکن موجودہ دور میں کماؤ پتر کرکٹ کے لئے دن رات ایک کردئیے جاتے ہیں، اس کی کمائی اور دھن دولت کی گھن گرج میں تمام عیب چھپ جاتے ہیں، یہاں تک کہ رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے، سزا پانے کے بعد گراؤنڈ میں واپس بھی آجاتے ہیں۔ طرہ امتیاز کہ پاکستان 1992 میں اس کھیل کا ورلڈکپ جیت کر دنیا میں سرخرو ہوا، کرکٹ اور اس کے کھلاڑی دنیا بھر میں گھومتے، ناچتے گاتے اور مختلف میلوں ٹھیلوں میں شرکت کرکے بھی مال پانی کمانے کے بہانے ڈھونڈ لیتے ہیں اور جو ریکارڈ یا حالات کے مطابق کھیلنے، دوڑنے، بھاگنے سے معذور ہوجاتا ہے، وہ بھی سپورٹس شوز اور کمنٹری بکس کی راہ نکال کر روٹی روزی کما ہی لیتا ہے، لیکن غریب ملک کا لاوارث بچہ ہاکی بے سروسامانی میں آئی سی یو میں برسوں سے پڑا ہے۔ ایک نہیں زیادہ لوگوں نے اس کی وکالت کا بیڑا اٹھایا، لیکن ’’فیڈریشن، فیڈریشن‘‘ کھیلنے والوں نے ان کی ایک نہ چلنے دی، ابھی چند ماہ پہلے ’’ہاکی مافیا‘‘ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر چیلنج کرنے والا اولمپیئن ’’نوید عالم‘‘ کینسر کے باعث زندگی کی بازی ہار گیا، دنیا نے اس کی موت پر آنسو بہائے، لیکن ایک خاص گروپ نے جشن بھی منایا کہ اللہ نے اس سے جان چھڑادی ورنہ وہ تو جان چھوڑنے والا نہیں تھا۔
اس لاوارث بچے ’’ہاکی‘‘ نے پاکستان کے بننے کے صرف ایک سال بعد 1948 میں لندن اولمپکس میں حصہ لیا اور ہالینڈ سے شکست کے بعد چوتھی پوزیشن حاصل کی، چار سال بعد انگلینڈ نے اسے ہراکر ایک مرتبہ پھر وکٹری سٹینڈ سے نیچے دھکا دے دیا، پھر 1956 میں اس باصلاحیت غریب ملک کے غریب بچے نے پُرعزم ہوکر اولمپکس میںشرکت کی، فاتح تو نہ ہوسکا، لیکن بھارت سے شکست کھاکر چاندی کا تمغہ جیت گیا۔ بھارت کا ہاکی میدان میں 6 بار فتح یاب ہونا اولمپکس کا خوبصورت ریکارڈ تھا، جس کا طلسم 1960 روم اولمپکس میں پاکستان نے توڑ دیا، لیکن یہ حقیقت ہے کہ روم اولمپکس سے پہلے ہی دنیائے ہاکی میں رائے قائم ہوچکی تھی کہ بھارت کو صرف پاکستان ہی زیر کرسکتا ہے، کیونکہ 1958 کے ایشین گیمز میں پاکستانی ٹیم گولڈ میڈل حاصل کرکے نفسیاتی برتری حاصل کرچکی تھی، پھر روم اولمپکس میں عبدالحمیدی کی قیادت 
میں پاکستان نے آسٹریلیا، جاپان اور پولینڈ کو واضح برتری سے ہرایا، کوارٹر فائنل میں مقابلہ جرمنی سے ہوا اور عبدالوحید خاں، نصیر بُندہ کے گول سے پاکستان دو ایک سے جیت گیا، یہی نہیں سیمی فائنل میں سپین کو ایم ایچ عاطف کے فیصلہ کن گول سے زیر کیا، فائنل پھر روایتی حریفوں بھارت اور پاکستان کے درمیان کھیلا گیا اور کھیل کے گیارہویں منٹ میں نصیر بُندہ کے گول نے ناصرف پاکستان کو فاتح عالم بنادیا، بلکہ ہاکی اولمپکس میں بھارت کی برسوں پر محیط بالادستی کا خاتمہ کرکے ’’ہاکی‘‘ کو قومی کھیل کا اعزاز دلادیا۔ ایسا ہوتا بھی کیوں نا؟ پاکستان نے اپنے چھ میچوں میں 25گول کیے اور اس کے خلاف صرف جرمنی نے کوارٹر فائنل میں ایک گول کیا۔
اگر آئی سی یو میں پڑے اس لاوارث بچے کو خاندانی لحاظ سے پرکھنے کی کوشش کریں تو اس کے خاندان میں صلاحیتوں کے پہاڑ آباو اجداد  حمیدی، بریگیڈیئر عاطف، نصیر بُندہ، چودھری غلام رسول، عبدالوحید، مطیع اللہ، انوار احمد خان، منیر ڈار، تنویر ڈار، ذکا الدین، سمیع اللہ، کلیم اللہ، حنیف خان، منظور سینئر، منظور جونیئر، رشید جونیئر، حسن سردار، اختر رسول، قاسم ضیا، شہباز سینئر، سہیل عباس اور ان گنت کھلاڑی دکھائی دیں گے جنہوں نے دنیائے ہاکی پر حکومت کی اور دنیا نے ان کے سٹائل سے بہت کچھ سیکھا، اس لاوارث بچے نے وہ اعزازات حاصل کیے جو کوئی دوسرا کھیل آج تک حاصل نہ کرسکا، ایک سے زیادہ مرتبہ اولمپک چیمپئن، ایشین چیمپن، چیمپئنز ٹرافی بلکہ پاکستان نے چیمپینز ٹرافی کا چیمپئن بنانے کے لئے لاہور سے چیمپئنز ٹرافی کا انعقاد کیا، 1970سے 1990 تک اس کا دور عروج تھا، لیکن اپنوں کی لاپروائی، بے رخی، اختیارات اور مفادات کی جنگ نے اسے لاوارث بناکر آئی سی یو تک پہنچا دیا، دعوے بہت لیکن عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر، پھر بھی باصلاحیت کھلاڑیوں سے انکار ممکن نہیں، ایک چھوٹے سے شہر ’’گوجرہ‘‘ نے ایسی خدمات انجام دیں کہ ناقابل یقین۔ پھر بھی قسمت کا مارا بے سر و سامانی میں آئی سی یو میں لاوارثی کا غم برداشت کرنے پر مجبور ہے۔
کمائو پتر موجیں کررہا، نیوزی لینڈ یک طرفہ طور پر دورہ ملتوی کرکے فرار ہوگیا، انگلستان نے بھی آنے سے انکار کر دیا، دنیائے کرکٹ اداس ہوگئی، لیکن کمائو پتر کو کوئی دُکھ نہیں، مال و دولت میں کھیل رہا لہٰذا اس کے نفع نقصان کا غم سب کو ہے۔ معاملہ آئی سی سی میں اٹھانے کی بات پر نیوزی لینڈ نے پاکستان کے مالی نقصان کی تلافی کے لئے نیوٹرل وینیو پر سیریز کھیلنے کا عندیہ دیا، لیکن پاکستان کا موقف کہ ہوم سیریز صرف پاکستانی گراؤنڈز میں ہی ہوں گی۔
ہاکی کے لئے بھی فرشتوں کی ضرورت تو نہیں، مٹی کے پتلے ہنرمند اور باصلاحیت بھی ہیں، البتہ غریب ہیں، اس لئے ان کی بیمار آواز ’’مسند اقتدار‘‘ تک اس لئے نہیں پہنچ پاتی کہ ہمارے معاشرے کی طرح کھیلوں کی دنیا میں بھی دو عملی اور تضاد بیانی موجود ہے، مراعات یافتہ ذمے داروں نے امیر اور غریب کا تصور ہر جگہ پیدا کردیا ہے۔ متوسط طبقے کا نمائندہ ’’فٹ بال‘‘ بھی ہے، جو امیر اور غریب کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے، اس لئے کہ کسی کے پاس اتنا وقت نہیں، فٹ بالر دنیا بھر میں راج کررہے ہیں اور ہم ان کے لئے بہترین فٹ بال بنارہے لیکن ہماری قسمت بے بس ’’فٹ بالر‘‘ کسی سے کم نہ ہوتے ہوئے دو وقت کی روٹی کے چکر میں ’’راج مستری‘‘ کا کام کرنے پر مجبور ہیں، صوبہ سندھ کی گلیوں میں ’’فٹ بال‘‘ کھیلنے والوں نے ایک بڑا اعزاز جیت کر صاحب اختیار اور مسند نشینوں کو جگانے کے لئے توجہ دلائو نوٹس بھی دیا لیکن نتیجہ صفر اس لئے رہا کہ ہمارے ہاں نوٹس بھی صرف وہی قابل توجہ ہوتے ہیں، جن کے پیچھے ’’پہیے‘‘ لگے ہوں، ورنہ غریبوں کے نوٹس تو منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی پھاڑ دئیے جاتے یا چمک کے ذریعے خلاف ضابطہ قرار پاجاتے ہیں۔ 
کمائو پُتر کرکٹ کا میلہ بھارت کی میزبانی میں دبئی میں لگنے والا ہے، تیاری کے لئے نیشنل ٹی20 قبل ازوقت منعقد کیا جارہا ہے، تاہم دنیائے کرکٹ کے ٹھیکیداروں ’’بگ تھری‘‘ نے پاکستان کو دبائو میں لانے کے لئے فائیو آئی کی سہولت کاری سے سازش کردی، یہ پانچ ملکوں کی خفیہ ایجنسی ہے، جو غریب کھیل آئی سی یو میں پڑا ہے تو اس کے نصیب، غریب تو روز ایڑی رگڑ کر مرجاتے ہیں، ملک ہی غریبوں کا ہے، کس کس کو بچایا جائے۔