05 دسمبر 2021
تازہ ترین

بے چینی کی وجہ… بے چینی کی وجہ…

آج کا انسان بے چَین کیوں ہے؟ آج ہم صرف پاکستانیوں کی بے چینیوں کی وجہ تلاش کرتے ہیں۔ دنیا کے ہر ملک، قوم کی بے چینی اپنی اپنی قسم کی ہیں، ہماری بے چینیاں خاص قسم کی ہیں۔ آئیں ہم اپنا حال جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہماری پہلی پریشانی سیاسی وابستگیوں کی ہے، تمام سیاسی جماعتوں نے قوم کو پاگل بنا رکھا ہے، ہر جگہ ان پارٹیوں کی لڑائی ہے۔ لڑائی تو خیر ہر گھر میں ہے، حالانکہ ہماری سیاست دھوکے کے سوا کچھ نہیں، نہ جانے عوام کیوں سیاسی رہنماؤں کے لئے پریشان ہوتے ہیں، دوسرا ہمارا سب سے بڑا مسئلہ فرقہ واریت ہے، دوسری قومیں اس سے فائدہ اٹھاتی ہیں، پریشانیاں ہم نے خود پیدا کی ہیں کہ پہلی بات ہم جھوٹ بہت بولتے اور جھوٹا کبھی پُرسکون نہیں ہوسکتا۔
ہمارے ہاں آدھی سے زیادہ قوم بہت جھوٹی ہے، باقی آدھی قوم کے درجے ہیں، 20 فیصد درمیانے درجے کے جھوٹے ہیں، 20 فیصد کم جھوٹ بولتے ہیں، 5 فیصد ضرورت کے وقت جھوٹ بولتے ہیں، 4 فیصد سوچ سمجھ کر جھوٹ بولتے ہیں، ایک فیصد سچے لوگ ہیں۔ اندازہ کریں سکون کہاں سے آئے گا؟ جھوٹ تو انسانیت کا زوال ہے۔ بددیانتی عام ہے، یہی تعداد دیانت میں پائی جاتی ہے، بددیانت انسان سکون کہاں سے لائے گا، بددیانتی خود بے سکونی کا نام ہے۔ بددیانت کبھی سکون والا نہیںہوسکتا، وہ حرام کھاتا اور حرام کھانے والا ہر وقت کوے کی طرح ڈرتا رہے گا، حرام انسان کو بے چین کردیتا ہے۔ ہم دوسروں سے تعاون نہیں کرتے۔ ہر فرد اپنی ذات کے لئے زندہ ہے، روڈ پر کوئی کسی کو راستہ نہیں دیتا، اکثر لوگ دوسروں کا حق ان کو نہیں دیتے، خودغرضی کی انتہا ہے، ہمارا معاشرہ جنگل کے جانوروں سے ملتا جلتا ہے اور ہماری رشتے داریاں بھی خوب ہیں، ساس بہو کے فساد، جائیداد کے مسئلے اور اپنی انا کے فساد، یہاں کوئی ایک مسئلہ ہے۔ ہم ہر کام میں دوسروں سے تعاون نہیں کرتے، سرکاری ادارے عوام کو کھانے کو پڑتے ہیں، کوئی فرد کسی کا کام آسانی سے نہیں کرتا، پاکستان میں ہر فرد رشوت لیتا اور دیتا ہے، مجھے ایک آدمی نے کہا کہ فلاں کام کرادو۔ میں نے کہا، جناب آپ تو بہت بڑے افسر اور آدمی ہیں، آپ کا کام تو ایک اشارے سے ہوسکتا ہے، ان صاحب نے کہا، میں چھوٹے لوگوں کے منہ نہیں لگتا، آپ کچھ دے کر کام کرالیں۔ میں اگر آپ کو اس کا عہدہ بتادوں تو آپ کی حیرت گم ہوجائے گی، اس افسر سے وزیر بغیر اجازت مل نہیں سکتے تھے۔ کیا یہ پاکستانیوں کی پریشانیوں کی وجہ نہیں۔
ایک اور مسئلہ، ہم اپنی بات کو سب سے بڑی بات سمجھتے ہیں، دوسروں کی بات ہماری نظرمیں فضول ہوتی ہے۔ پاکستانی امیر لوگوں کو غریب نظر ہی نہیں آتے، حالانکہ اس دنیا کی تمام تعمیر و ترقی غریب سے ہے، ہر صاحب اختیار دوسروں کو بے وقوف سمجھتا ہے، حالانکہ زیادہ بے وقوف صاحب اختیار ہی ہوتے ہیں۔ سکون کیسے حاصل ہوگا۔ پہلی بات آپ سیاسی وابستگیاں کم کریں، دوسری بات جھوٹ بولنا چھوڑ دیں، سچ آپ کی تمام پریشانیوں کو ختم کردے گا، آپ کے سر سے پریشانیوں کا بوجھ کم ہوجائے گا، آپ اپنے آپ حل محسوس کریں گے، جیسے کوئی بوجھ اُتار گیا ہے اور جب آپ دیانت کا راستہ اختیار کریں گے تو پھر پُرسکون ہوجائیں گے،
 ہر دودھ والا دودھ میں پانی ڈالتا ہے پھر سکون مانگتا ہے، ہر کوئی رشوت لیتا، پھر کہتا ہے حلال کھاتا ہوں، جب وہ کہتا ہے میں حلال کھاتا ہوں تو اندر سے بے چین ہوجاتا ہے، پھر اس کے چہرے سے بے سکونی ظاہر ہوتی ہے۔ آپ اپنی اصلاح کریں پھر دیکھیں سکون کیسے آتا اور نیند کیسے آتی ہے۔ دولت کی طلب، خواہش انسان کو ہر وقت بے چین رکھتی ہے۔ چھوٹی گاڑی، چھوٹا مکان، کم دولت کوئی بُری بات نہیں، شکر انسان کو اللہ کا برگزیدہ بنادیتا ہے مگر ہم شکر اور قناعت کہاں کریں گے؟ مسلمان تو دنیا کی اعلیٰ مخلوق ہیں، ان کو دنیا میں ایک خاندان کی طرح زندہ رہنا چاہیے، ایک دوسرے کے کام آنا چاہیے، سچ بولنے کی عادت اپنانی چاہیے، دیانت دار ہونے کی ضرورت ہے، صبر، بھلائی، محبت کی ضرورت ہے، دوسروں کو معاف کرنے کی ضرورت ہے، خود پر رحم کرنے کی ضرورت ہے، دوسروں کو معاف کریں۔ آخرمیں کچھ پریشانی کم کرنی ہے تو باتوں کے لئے موبائل کا استعمال بہت کم کریں، کمپیوٹر علم کی خاطر ہی استعمال کریں، بُری چیزیں دل و دماغ سے دورکریں، خواہشوں کے سمندر سے باہر آئیں، اچھے دوستوں سے ہر روز ملیں، ایک دوسرے کے دکھ درد میں کام آئیں، لالچ کا دروازہ بند کرکے قناعت کا گیٹ کھول لیں، آپ انسان ہیں، یہ جہاں آپ کا ہے، جب تک آپ زندہ ہیں دوسروں کو جینے کا حق دیں، دنیا کوئی مشکل مقام نہیں، یہ آپ کی ہے اور آپ دنیا سے ہیں، آپ تو مسلمان، پاکستانی ہیں، آپ کا بہت بڑا مقام ہے، آپ کو اللہ نے اعلیٰ مذہب میں پیدا کیا ہے۔
 اپنی پریشانیوں کے ہم ذمے دار ہوتے ہیں
 بلاوجہ کی باتوں سے ہم بے قرار ہوتے ہیں
 ہم نے خود سے خود کا ہی چَین چھین رکھا ہے
  مسئلہ کچھ نہیں ہوتا مسئلے ہزار ہوتے ہیں
آپ کے پاس سکون کی بہت وسعت ہے، سکون کا راستہ تلاش کریں اور یہ مشکل نہیں، خود کو انصاف دیں، تاکہ دوسروں کے ساتھ انصاف کرسکیں۔