05 دسمبر 2021
تازہ ترین

نظام اصلاحات پر مبنی سرجری کا متقاضی نظام اصلاحات پر مبنی سرجری کا متقاضی

اس میں دورائے نہیں کہ اگر کسی شعبے میں بگاڑ پیدا ہوجائے تو اسے درست کرنے میں کچھ وقت لگتا اور اگر یہ بگاڑ کئی دہائیوں پر محیط ہو تو اس کے لئے سرجری کی ضرورت ہوتی ہے۔ تحریک انصاف حکومت کا نعرہ ہی اصلاحات تھا اور وزیراعظم عمران خان کو معلوم تھاکہ وہ جس بگاڑ پر ہاتھ ڈالنے کی بات کررہے ہیں، وہ ڈسپرین سے ٹھیک نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لئے سرجری ناگزیر ہے۔ جب آپ سرجری کی طرف جاتے ہیں تو آپ کی پوری تیاری ہوتی ہے اور بگاڑ کا باعث بننے والے ٹیومر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی صلاحیت والا سرجن بھی موجود ہونا چاہیے۔ ویسے تو اگر ہم مجموعی طور پر اپنے نظام کے بارے میں یہ کہیں کہ ’’آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے‘‘ تو غلط نہ ہوگا، لیکن پولیس اور اس کے بعد محکمۂ صحت دو ایسے شعبے ہیں، جن میں ترجیحی بنیادوں پر سرجری پر مشتمل اصلاحات کی ضرورت تھی، لیکن بدقسمتی سے ڈسپرین اور اتائیوں کے ذریعے اس کام کا آغاز کیا گیا اور یہی وجہ ہے کہ تین سال گزرنے کے باوجود کوئی بہتری نظر نہیں آئی، مرض کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہا ہے۔ محکمۂ صحت کی کارکردگی خصوصاً سرکاری ہسپتال آنے والے غریب مریضوں کے بارے میں پہلے بھی کئی بار لکھ چکا اور ایک بار پھر جب ایک سرکاری ہسپتال میں جانے کا اتفاق ہوا تو اس نظام پر ماتم کرنے کو دل چاہا۔
سرکاری ہسپتالوں کے پروفیسر اور سینئر ڈاکٹرز تو بہت بڑی چیز ہوتے ہیں، یہاں پر نیچے والا عملہ ہی شمار نہیں۔ ڈاکٹرز کے آنے پر وارڈز کومریضوں کے ساتھ آئے ہوئے اٹینڈنٹ سے خالی کرالیا جاتا ہے، صفائی ستھرائی ہوتی اور فرش خوب چمکائے جاتے ہیں، نرسز بھی بھاگ دوڑ کرتی نظر آتی ہیں، لیکن جب ڈاکٹرز واپس چلے جائیں تو ان کا سارا زور صرف مریضوں کے ساتھ آنے والے اٹینڈنٹ کی ناک سے لکیریں لگوانے پر ہوتا ہے۔ جب پروفیسر صاحب نے وارڈز کا رائونڈ کرنا ہو تو ان کے ساتھ ٹرینی ڈاکٹرز کی فوج ظفر موج ہوتی ہے، جس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ یہ ٹرینی ڈاکٹرز سیکھنے کے مراحل سے گزر رہے ہوتے ہیں اور انہوں نے آگے سینئرز کی جگہ سنبھالنی ہوتی ہے، لیکن پروفیسر صاحب کے آنے سے پہلے سکیورٹی گارڈز اور دیگر عملے کا ہٹو بچو کا شوروغا ہوتا ہے۔ اگر پروفیسر 
صاحب سکواڈ کے بجائے عاجزی سے معمول کے دورے پر آئیں، مریضوں سے ان کے بیڈ پر جاکر ان کی صحت سے متعلق پوچھیں، انہیں تسلی دیں تو ٹرینی ڈاکٹرز بھی اسی کی پیروی کریں گے۔ 
محکمہ پولیس میں بھی انتہائی پڑھے لکھے نوجوان آرہے ہیں، لیکن ان کے رویوں میں کسی طرح کا بدلائو نہیں دیکھا جارہا، کیونکہ محکمہ پولیس کا ماحول ہی ایسا بن گیا کہ آپ وردی کی وجہ سے بااختیار ہیں اور سرکاری ہسپتالوں میں بھی حالات اس سے مختلف نہیں۔ سینئر ڈاکٹرز اور پروفیسرز کو تو چھوڑیں جو ٹرینی ڈاکٹرز ہیں، ان میں سے بھی اکثریت کا رویہ مریضوں اور اٹینڈنٹ کے ساتھ انتہائی تضحیک آمیز ہوتا ہے، یہ غریب لوگ اپنی تضحیک پر اندر ہی اندر رو رہے ہوتے ہیں۔ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کے حقوق کے لئے تو قانون بن جاتے ہیں، کیا غریب عوام جن کے ٹیکسز سے یہ سرکاری ہسپتال چلتے ہیں، جن کے ٹیکسز کے پیسے سے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف تنخواہیں لیتا ہے، ان کے حقوق کے لئے کوئی قانون موجود ہے کہ اگر کسی مریض یا اس کے ساتھ آئے اٹینڈنٹ کوعملے سے کوئی شکایت ہوتو وہ کہاں شکایت کریں، کیا مریض اکٹھے ہو کر ہڑتال کر سکتے ہیں، ہیلتھ کیئر کمیشن مریض کی سنتا ہے؟ یہاں جس کی 
لاٹھی اس کی بھینس والا قانون رائج ہے۔ پروٹوکول والے اتنے مریض آتے ہیں کہ عام مریض ان کے پروٹوکول کے نیچے روندے جاتے ہیں۔ 
محکمہ صحت پنجاب کے نظام میں اصلاحات کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ آج بھی انتہائی تشویش ناک حالت کے مریضوں کو بیڈ میسر نہیں ہوتا اور اٹینڈنٹ مریض کو بینچ پر بٹھاکر ہاتھ میں ڈرپ پکڑے ہوتے ہیں، کیا یہ اصلاحات ہیں، کیا یہ گڈ گورننس ہے؟ جو مریض اوپر سے فون کراکے آتے ہیں، ان کے ساتھ ہسپتال کے دو سے تین ملازمین مامور کردئیے جاتے ہیں، جو متعلقہ ڈیپارٹمنٹ سے ان کا چیک اپ، ان کے ٹیسٹ اور اگر انہیں ادویہ درکار ہیں تو اس کا بھی انتظام کرکے دیتے ہیں اور اگر غریب مریض نے ٹیسٹ بھی کرانے ہوں تو اسے صحیح طرح سے گائیڈ نہیں کیا جاتا۔ خدارا اضلاع کی سطح پر جدید ہسپتال بنائے جائیں، تاکہ بڑے شہروں کے ہسپتالوں پر بوجھ کم ہوسکے۔ لاہور کی اپنی آبادی اتنی بڑھ گئی ہے کہ موجودہ سرکاری ہسپتال کی اتنی استعداد نہیں کہ وہ بوجھ برداشت کرسکیں اور یہاں پر ناصرف دوسرے اضلاع، بلکہ دوسرے صوبوں سے بھی مریض لاہور کا رخ کرتے ہیں۔ 
حکومت سے اپیل ہے کہ تمام اضلاع میں ہسپتال بنانے پر توجہ دی جائے اور وہاں پر متعلقہ شعبوں کے ماہر ڈاکٹرز بٹھائے جائیں۔ جو ڈاکٹرز بننے آتے ہیں وہ زیادہ تر امیر گھرانوں کے ہوتے ہیں، وہ غریب کی مشکلات سے آگاہ نہیں ہوتے۔ میں ہرگز یہ نہیں کہتا کہ وہ ظالم ہوتے ہیں، لیکن انہیں غریب کی پریشانی اور سب سے بڑھ کر ان کے پڑھے لکھے نہ ہونے کی مشکل کو سمجھنا چاہیے، ان سے پیار، محبت اور اخلاق سے پیش آنا چاہیے، ناکہ غریب ہونے کی وجہ سے انہیں نظرانداز کیا اور دھتکارا جائے۔ جہاں ڈاکٹروں کو کئی کئی کلو کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں، وہیں انسانیت سے پیار کا ایک کتابچہ بھی اس کا حصہ بنایا جائے اور اسے بھی امتحان کا حصہ بنایا جائے۔ سینئر ڈاکٹرز اور پروفیسرز مریضوں سے شفقت اور عاجزی سے پیش آنے کا خود عملی مظاہرہ کریں، تاکہ جونیئرز بھی ان کی پیروی کریں۔ حکومت مانیٹرنگ کا نظام بہتر کردے، میڈیکل کے شعبے میں آنے والے پہلے اور دوسرے سال کے طلبہ کو ہسپتالوں میں کائونٹرز بناکر دئیے جائیں جو مریضوں کو رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیں اور اس کے بھی نمبر رکھے جائیں، خدارا پروٹوکول کو ممنوعہ قرار دیا جائے جو پروٹوکول کے لئے آتے ہیں، وہ نجی ہسپتالوں میں بھی اپنا علاج کراسکتے ہیں، سرکاری ہسپتالوں میں پروٹوکول پر سختی سے پابندی عائد کی جائے اور واضح کیا جائے کہ یہاں صرف غریب کو پروٹوکول دیا جائے گا۔ حتمی بات یہی کہ نظام کی بہتری کے لئے اصلاحات پر مبنی سرجری کی ضرورت ہے۔