05 دسمبر 2021
تازہ ترین

کرکٹ اور ٹک ٹاک میں اُلجھی قوم کرکٹ اور ٹک ٹاک میں اُلجھی قوم

نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی طرف سے دورہ پاکستان منسوخ کرنے کے بعد انگلینڈ کی طرف سے بھی مجوزہ دورہ پاکستان سے انکار کردیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں کئی گُل کھِلنے سے قبل ہی مرجھا گئے، بہاریں آنے سے قبل ہی روٹھ کر کسی اور طرف کا رُخ کرگئیں، انگلینڈ کی طرف سے یہ انکار صرف انکار نہیں بلکہ پاکستان کی خارجہ پرفارمنس کے ساتھ پاکستان کرکٹ کے منہ پر ایک زوردار حملہ بھی ہے، پاکستان کے اہم معاملات کی طرح کرکٹ معاملات اب راجہ گِدھ کے ہاتھ ہیں، یہ راجہ گِدھ مشہور زمانہ ناول کا کردار نہیں بلکہ کرکٹ میں موجود لاتعداد آکٹوپس میں سے ایک ہے، جس کی کرکٹ کے میدان میں پرفارمنس اب ریکارڈ کا حصہ ہے، جس کے مطابق اس نے 57 ٹیسٹ میچ کھیل کر بمشکل ایک سنچری بنائی، اُس کی اِس اکلوتی شہرۂ آفاق سنچری میں اس کا ذاتی کمال کم جب کہ لاغر بولرز اور کمزور فیلڈرز کا کمال زیادہ ہے، آج اصل چاچا کرکٹ رہ رہ کر یاد آرہے ہیں، وہ حیات ہوتے تو کرکٹ کا نظام کئی دوسروں سے بہتر چلالیتے، انہیں مرنا نہیں چاہیے تھا، وہ حیات ہوتے تو یقیناً کوئی واہیات فیصلہ نہ کرتے، ہمیں چاہیے ہم اپنی کوششیں کرکے انہیں زندہ کرلیں، پاکستان اور پاکستان کرکٹ کی بہتری اسی میں ہے، یہ کوئی مشکل کام نہیں، اگر ذوالفقار علی بھٹو اور کرونا دونوں مرنے کے بعد زندہ ہوسکتے ہیں تو چاچا کرکٹ کیوں نہیں؟ تجربہ تو یہی کہتا ہے کہ مُردوں اور قریب المرگ بیماروں کو زندہ رکھنے، انہیں صحت کی دولت سے مالا مال کرنے کا نسخہ دُنیا بھر میں صرف ایک ڈاکٹر کے پاس ہے، ہماری خوش قسمتی ہے کہ وہ ڈاکٹر پاکستان میں رہتا ہے میری مراد ڈاکٹرعدنان سے ہے، ڈاکٹر عدنان المعروف پلیٹ لیٹس سپیشلسٹ۔
کرکٹ ٹیم انگلینڈ کا دورۂ پاکستان سے انکار آقا کی طرف سے غلام کو اُس کی اوقات یاد دلانے کے لئے کافی ہے۔ یاد رہے کرونا عروج پر تھا، انگلینڈ کے کرکٹ کے میدان اُجڑ چکے تھے، انگلینڈ نے ہمیں سفری پابندیوں کے لحاظ سے ’’ سرخ فہرست‘‘ میں شامل کررکھا تھا، انہوں نے متعدد ممالک سے درخواست کی، کسی ملک نے اپنی ٹیم انگلینڈ بھیجنے کی ہامی نہ بھری، آخرکار آقا نے غلام کو حکم دیا غلام بھاگے بھاگے پہنچے، آداب بجالائے، صرف پاکستان ٹیم کے دورۂ انگلینڈ کے لئے سفری پابندیاں نرم کی گئیں، ہماری کرکٹ ٹیم نے دورہ کیا اور یوں عظیم خدمت انجام دی، ہم خوش فہمی میں مبتلا 
ہوگئے کہ اُدھر سے بھی جذبۂ خیرسگالی کا مظاہرہ کیا جائے گا، یوں اوقات سے باہر ہوتے ہوئے فرمائش کی گئی کہ اب آپ آئیں اور ہمارے کرونا کے سبب اُجڑے ہوئے میدانوں کو آباد کریں، انگلینڈ کا انکار توقع کے عین مطابق ہے، انگریز کو جاننے کے لئے تاریخ پڑھنا ضروری ہے، پھر ان کا مکروہ کردار سمجھ آتا ہے، ان کے ساتھ گلچھرے اُڑا کر سوچ لیا جائے کہ انہیں سمجھ گئے تو یہ فقط احمقانہ سوچ ہے، اس کے سوا کچھ نہیں۔
معاملہ کرکٹ کے عالمی فورم پر جائے یا کرکٹ کے آسمان کو اپنے ہاتھوں پر اٹھائے ہوئے لوگوں کے سامنے پیش ہو، جو ہونا تھا وہ ہوچکا، اب کچھ نہیں ہوگا، جس ازالۂ نقصان کے لئے بین ڈالے جارہے ہیں، اُس حوالے سے ایک چونّی بھی نہیں ملے گی، اب مرضی سرکار ہے وہ چاہے تو ملک کی اقتصادی تباہی یا آنے والے ایام میں زرمبادلہ کے ذخائر انتہائی کم ہوجائیں اور ملک بھر کی سٹاک مارکیٹیں کریش کرجانے کی وجہ نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیموں کے دورے منسوخ ہونے کو قرار دے دے تو اسے کوئی نہیں روک سکتا، وہ عوام کے مینڈیٹ سے جیت کر حکومت میں آئے ہیں جو چاہے ان کا حُسن کرشمہ ساز کرے۔
نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی طرف سے دورہ منسوخ کرنے پر ہوش کھوکر جوش میں فیصلہ کیا گیا جو مزید جگ ہنسائی کا موجب بنا، ذرا قسمت پر نظر ڈالئے، ہم جن کے فون کے منتظر ہیں وہ ہمیں فون نہیں کرتے، جنہیں ہم فون کرتے ہیں وہ ہماری ایک نہیں سنتے، اب جائیں تو کہاں جائیں۔
کہتے ہیں اس کھیل میں اربوں روپے کا کاروبار ہوتا ہے، بالکل درست، اگر ہم اس کھیل پر تین حرف بھیج کر کسی اور کھیل کی سرپرستی کرنے کا فیصلہ کرلیں تو یہ اربوں روپے کا کاروبار کسی اور کھیل کے نام پر جم جائے گا، ہم اس قدر دیوانے کیوں بنے ہیں، دنیا بھر کے پونے دو سو ملکوں میں کرکٹ صرف انہی چند ملکوں میں کھیلی جاتی ہے جو برطانیہ کے غلام رہے، دُنیا کے جدید ترین اور ترقی یافتہ ممالک میں کرکٹ کس گرگٹ کا نام ہے کسی کو اس سے کوئی سروکار نہیں، معاشی اعتبار سے دُنیا میں نامور ملک، دُنیا کی بڑی طاقتوں کے یہاں کرکٹ کا وجود ہی نہیں، اس حوالے سے امریکہ، چین، جرمنی، جاپان، فرانس، روس، تیل کی دولت سے مالا مال مڈل ایسٹ کے ملک مثال ہیں۔
جن کھیلوں میں ہم نے دُنیا بھر کو پچھاڑا اور مسلسل کئی دہائیوں تک نمبر ون رہے، ان میں سرفہرست سکواش ہے جب کہ ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے، جس میں متعدد مرتبہ عالمی چیمپئن، اولمپک چیمپئن اور ایشین چیمپئن رہے، ہمارے یہاں جس طرح مختلف کمرشل بینک، پی آئی اے، ریلویز اور صوبائی و شہری سطح پر سب حکومتیں کرکٹ کی سرپرستی کرتی رہی ہیں، اسی طرح سکواش اور ہاکی کی سرپرستی کریں تو کوئی وجہ نہیں ہم ان میدانوں میں ایک مرتبہ پھر ناقابل تسخیر نہ بن جائیں۔
دُنیا بھر میں سب سے مقبول کھیل فٹ بال ہے، ہمارے یہاں ٹیلنٹ، کھلاڑی اور فٹ بال کے گرائونڈ موجود ہیں، علاوہ ازیں دُنیا کا بہترین فٹ بال ہمارے ملک میں تیار ہوکر دُنیا بھر کو برآمد کیا جاتا ہے، اِدھر ہمارا دھیان کیوں نہیں جاتا۔ سکواش، ہاکی یا دوسرے کھیلوں کو پروموٹ کرنے میں۔
ہمارے راستے کی ایک بڑی رکاوٹ سپانسر اور میچ فکسر مافیا ہے، لیکن اس کا علاج موجود ہے، جب حکومتی سطح پر کرکٹ کے علاوہ کسی اور کھیل کی سرپرستی کی پالیسی بنے گی تو تمام کمرشل ادارے اِدھر آئیں گے، میچ فکسر مافیا یہاں بھی اپنا راستہ نکال لے گا۔ کرکٹ میچ فکس کرنے کے لئے تین افراد سے معاملہ ہوتا ہے کپتان، بہترین بولر اور بلے باز، کبھی کبھار بہترین فیلڈر کو بھی شامل کرلیا جاتا ہے، تاکہ جب کھیل کا پانسہ پلٹنا ہو تو وہ انتہائی قیمتی کیچ ڈراپ کرکے اپنا حق خدمت وصول پائے، اس کے لئے ریڈی میڈ بہانہ ہر وقت موجود ہوتا ہے، میچ دن کو ہو تو وہ کہتا ہے سورج میری آنکھوں میں گھس گیا، رات کو ہو تو کہہ دیتا ہے فلیش لائٹ کے سبب گیند نظر نہیں آئی، یوں وہ دُنیا بھرکی آنکھوں میں نہایت کامیابی سے مرچیں ڈالتا اور پھر ہیرو کا ہیرو بنا رہتا ہے، کرکٹ اب کھیل نہیں رہا، اب تو اس کھیل کی آبروریزی ہورہی ہے، اجتماعی آبروریزی، اس کام کا پیسہ دیا جاتا ہے اور دل کھول کر دیا جاتا ہے، کرکٹ اور ٹک ٹاک میں الجھی قومیں زندگی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جائیں گی۔