05 دسمبر 2021
تازہ ترین

نئی صف بندیاں… نئی صف بندیاں…

یہ طے ہے کہ جب تک متاثرہ علاقوں افغانستان، کشمیر، فلسطین، لبنان، شام، عراق اور یمن میں انصاف کے ساتھ عوام کو ان کے حقوق نہیں ملتے تو امن عالم قائم نہیں ہوسکتا۔ ان مسائل کی موجودگی میں امن عالم کا خواب دیکھنے والے احمقوں کی جنت میں رہیں گے اور اس کی ذمے دار وہ قوتیں ہیں جو یہاں اپنے مفادات کے کھیل کھیل رہی ہیں۔ افغانستان میں شکست کھانے کے باوجود امریکہ ہٹ دھرمی پر اُترا ہوا ہے اور طالبان حکومت کو تسلیم کرنے میں لیت و لعل سے کام لے رہا ہے، دوسری طرف اس کے فنڈز منجمدکرکے طالبان کے لئے مسائل کھڑے کررہا ہے۔ اس دوران چین کے عالمی افق پر بھرپور طریقے سے ابھرنے کے بعد اب امریکہ چین کے درپے ہے اور ہر صورت چاہتا ہے کہ چین کے مسلسل بڑھتے ہوئے قدموں کو روکا جائے، چین کے عالمی اثررسوخ کو کم کیا جائے، چین کی ترقی کو معکوس کرنے کے لئے اسے دوسرے معاملات میں گھسیٹا جائے۔ اس مقصد کے لئے نئی امریکی حکومت ہر ممکن اقدامات کررہی اور اس حکومت نے ابتدا میں اپنا انحصار بھارت پر کرتے ہوئے، ایک طرف بھارت کو بے جواز نوازنا شروع کیا اور دوسری جانب پاکستان پر اپنا دباؤ مسلسل بڑھایا، تاکہ بھارت چین کو الجھاسکے اور پاکستان اپنی مخدوش معاشی صورت حال کے پیش نظر حسب روایت امریکی آلہ کار بن کر چین کے ترقیاتی منصوبوں پر یکسوئی کے ساتھ عمل پیرا نہ ہوسکے۔
بہرکیف امریکہ اپنے دونوں مقاصد میں بری طرح ناکام نظر آیا اور ناصرف بھارت چین کو کسی بھی محاذ پر الجھانے میں کامیاب ہوسکا، بلکہ الٹا اپنا ایک بڑا رقبہ چین کے سپرد کر بیٹھا ہے، وہ رقبہ جہاں سے بھارت امریکی خواہشات کے مطابق بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کو سبوتاژ کروانا چاہتا تھا، چین نے براہ راست اقدام کرتے ہوئے بھارت کی بالادستی کی بنیاد ہی ختم کردی اور سی پیک پر کام تیزی سے جاری ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ کرۂ ارض پر حکمرانی کا خواب دیکھنے والے جنگجو اتحاد بنانے پر زور دیتے رہے ہیں، تاکہ مختلف محاذوں پر باآسانی کامیاب ہوسکیں جب کہ موجودہ دور میں امریکہ کی یہ شدید تر خواہش ہے کہ وہ اقوام عالم پر اپنی حکمرانی قائم رکھے۔ اس مقصد کے لئے امریکہ دوسری عالمی جنگ کے بعد انتہائی کامیابی کے ساتھ اپنے مقاصد کو حاصل کرتا رہا اور بالخصوص سوویت یونین کے افغانستان میں شکست کھانے اور حصے بخرے ہونے کے بعد، امریکہ بلاشرکت غیرے اقوام عالم پر حکمرانی کرتا رہا ہے، لیکن اب اس کی حکمرانی داؤ پر لگی ہے اور امریکہ اس کے دوام میں کوشاں ہے۔ اپنی ان کوششوں میں امریکہ کبھی اپنے زیر اثر ممالک کو چین کے مقابل کھڑا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے تو دوسری جانب روس اور چین کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوششیں بھی جاری رکھے ہوئے ہے، بعینہ تقسیم کرکے حکمرانی کرنے کے قدیم فارمولے پر عمل پیرا ہے۔ دوسری طرف اب تک چین اور روس ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے، شانہ بشانہ امریکی چالوں کو ناکام کرتے نظر آتے ہیں کہ اسی میں ان کی بقا ہے، البتہ گزشتہ دنوں فیس بک پر ایک اینیمیشن میں روس کو چین کی پیٹھ میں چھرا گھونپتے بھی دیکھا تھا، جو ایک طرف ان چالوں کا حصہ لگتا ہے تو دوسری جانب ریاستی مفادات کے عین مطابق بھی دکھائی دیتا ہے، واللہ اعلم بالصواب۔
امریکی کاوشیں بہرحال اس امر کی غماز ہیں کہ وہ اس خطے میں کیا کھیل کھیلنا چاہ رہا ہے، چند ہفتے قبل تک اس نے یہاں چار ملکی اتحاد ’’کواڈ‘‘ (امریکہ، بھارت، جاپان اورآسٹریلیا) بناکر چین کے بڑھتے قدم روکنے کی سعی کی تھی، لیکن اس سے متوقع نتائج کا حصول ممکن نہیں ہوا کہ ایک طرف بھارت اپنے بلندبانگ دعووں میں ناکام ہوا تو دوسری جانب جاپان بھی خاطرخواہ نتائج دینے میں ہچکچاہٹ کاشکار رہا۔ بظاہر آسٹریلیا بھی اس اتحاد میں امریکی توقعات پر پورا نہیں اترا کہ آسٹریلیا کی تجارت کا بڑا حصہ چین کے ساتھ ہے اور آسٹریلیا اس کو کھونے کا متحمل نہیں ہوسکتا، ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکہ نے پینترا بدل لیا ہے اور اب اس کا محور بھارت اور جاپان سے ہٹ کر آسٹریلیا ہوگیا ہے، اس مقصد کے لئے امریکہ نے جو چال چلی، اس سے یورپ امریکہ کے خلاف ہوتا نظر آرہا ہے۔ آسٹریلیا کو ساتھ ملانے کی غرض سے امریکہ نے آسٹریلیا کو نیوکلیئر آبدوزیں مع ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا معاہدہ کیا ہے، قبل ازیں آسٹریلیا فرانس سے ڈیزل آبدوزیں خریدنے کا معاہدہ کرچکا تھا، فرانس اس صورت حال پر انتہائی ناخوش اور اس کا اظہار سخت طریقے سے کررہا ہے۔ فرانس نے پہلی بار امریکہ سے اپنا سفیر واپس بلالیا ہے اور اس اتحاد کے دوسرے فریق برطانیہ سے بھی اپنے سفیر کو واپس بلالیا ہے۔ یوں یورپ کی نمائندگی کرنے  والے فرانس نے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار تو کردیا، لیکن کیا یہ ناپسندیدگی امریکہ پر کوئی اثر ڈال سکتی ہے؟ 
حقیقت تو یہ ہے کہ ملکی مفادات کے حصول میں کوئی ضابطے، کوئی اصول وغیرہ نہیں ہوتے اور کل تک یورپ، جو اندھے مقلد بن کر امریکہ کے آلۂ کار تھے، پر یہ حقیقت آشکار ہوچکی کہ امریکہ کے لئے اصول کوئی حقیقت نہیں رکھتے اور وہ کسی بھی وقت اپنے کسی بھی حلیف کو دغا دے سکتا ہے۔ اس صورت حال کا سامنا اس وقت بھارت کو بھی ہے کہ بھارت بھی اندھا دھند امریکی خواہشات کی تکمیل میں جُتا، علاقائی صورت حال سے بے خبر بَنا، خطے کے دیگر ممالک سے لاتعلق ہوچکا ہے، لیکن وہ وقت دُور نہیں جب امریکہ بھارت کو بھی دغا دے جائے گا، بلکہ اس نئے ’’آکوس‘‘ اتحاد میں شامل نہ کرکے بھارت کو ایک طرح سے ڈسٹ بن میں پھینک چکا ہے۔ 
اقوام عالم پر اقتدار کی خواہش میں امریکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ نئے اتحاد تشکیل دے رہا ہے، لیکن کیا اقوام عالم پر اس کی حکمرانی کو دوام مل سکتا ہے؟ یا اس کے مدمقابل قوت (چین اور روس) اتنی آسانی سے امریکہ کو اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب ہونے دیں گی؟ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ چین جیسا ملک، جو اتنے عرصے سے بالکل خاموش رہا اور خود کو مضبوط کرتا رہا ہے، امریکہ کی ان چالوں پر کیا ردّعمل دے گا؟ یا چین واقعتاً اس حد تک مضبوط ہوچکا کہ امریکہ سمیت اس کے اتحادیوں سے نبردآزما ہوسکتا ہے؟ بظاہر اس وقت چین کسی بھی دوسرے ملک کے ساتھ عسکری اتحاد میں شامل نہیں اور نہ ہی اس نے ایسا کوئی لائحہ عمل ترتیب دے رکھا ہے، کہیں یہ اس کا خود پر ضرورت سے زیادہ اعتماد تو نہیں؟ صرف بھارت جیسے ملک کے خلاف عملاً کامیابی حاصل کرنا، امریکہ کے مدمقابل آنے کے لئے کافی ہے یا چین کو بھی عسکری اتحاد کی ضرورت ہے؟ یقیناً چینی رہنما اس سے بے خبر نہیں ہوں گے اور ممکنہ طور پر اس کا سدباب کر رکھا ہوگا، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کرۂ ارض ایک بار پھر ایک بڑی جنگ کے دھانے پر کھڑا ہے اور فریقین نئی صف بندیاں کررہے ہیں، پاکستان ان نئی صف بندیوں میں کہاں کھڑا ہے؟