01 دسمبر 2021
تازہ ترین

کتابیں زندہ رہتی ہیں کتابیں زندہ رہتی ہیں

 دورِ حاضر میں معلومات کے بہت سے ذرائع وجود میں آچکے، لیکن کتاب کی اہمیت پھر بھی اپنی جگہ قائم ہے، مطالعہ کے رجحان میں کمی نہیں آئی۔ شائقین کتب آج بھی مطالعہ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ نت نئے موضوعات پر کتابیں آج بھی چھپ رہی ہیں، پی ڈی ایف فارمیٹ کی صورت انٹرنیٹ کی دنیا میں گردش کررہی اور شائقین تک پہنچ رہی ہیں۔
گزشتہ دنوں اہل قلم نے چند علمی، ادبی اور معلوماتی کتابیں بڑی محبت کے ساتھ ہمیں بھجوائیں۔ پہلی کتاب حیات عبداللہ کے کالموں کا مجموعہ ’’اندھیروں کا تعاقب‘‘ ہے۔ مصنف گزشتہ دو دہائیوں سے قلمی جہاد میں مصروف ہیں۔ اشعاراور محاورات کے غلط استعمال پر معروف قلم کاروں کی گرفت کرتے ہوئے خوب اصلاح کرتے اور ان کے ایسے ادبی کالم بہت پسند کیے جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ان کے مختلف موضوعات پر لکھے 50 سدابہار کالموں کا مجموعہ ہے۔ 192صفحات پر مشتمل کتاب قلم فائونڈیشن نے شائع کی ہے۔
افتخار الدین بھٹہ کا شمار بائیں بازو کے دانش وروں میں ہوتا ہے، وہ مزدور کسان پارٹی گجرات کے متحرک رہنما رہے۔ انہوں نے رسائل و جرائد میں ترقی پسند موضوعات پر خاصے مضامین لکھے۔ ان کی کتاب ’’میرے فکری سفر کے 50سال‘‘ کے عنوان سے حال ہی میں شائع ہوئی۔ مذکورہ کتاب میں انہوں نے اپنے فکری سفر کی دلچسپ رُوداد بیان کی اور اپنے بہت سے کامریڈ دوستوں کی یادیں تازہ کی ہیں۔ کتاب میں ان قلم کاروں کے مضامین بھی شامل ہیں جو انہوں نے بھٹہ صاحب کی شخصیت، خدمات اور ان کی پہلی کتاب ’’انسان، سماج اور معاش‘‘ پر لکھے۔ کتاب 311 صفحات پرمشتمل اور کتاب ورثہ غزنی اسٹریٹ اردو بازار لاہور نے شائع کی ہے۔
انگریزی زبان میں شاعری کا ایک مجموعہ ’’Dark Sircles‘‘ کے عنوان سے خوبصورت گیٹ اپ کے ساتھ ’’پاکستان ادب پبلشرز میانوالی‘‘ نے شائع کیا ہے۔ اس میں ڈاکٹر ظہور حسین، محمد وقاص گل، محمد سعید طاہر، لہر نیازی (گلستان خان) اور سمیع اللہ خان کی شاعری شامل ہے۔ کتاب میں ان شعراء کا تعارف بھی پیش کیا گیا ہے۔ انتساب خواجہ سرائوں اور دیگر اقلیتوں کے نام ہے۔ 
سینئر صحافی سید اعجاز گیلانی کا قلمی سفر چار عشروں پر محیط ہے۔ انہوں نے 1983 میں صحافت میں قدم رکھا اور اپنا جریدہ ماہنامہ ’’گلستان‘‘ نکالا۔ 1987 میں ماہنامہ ’’ساحل رنگ‘‘ جاری کیا، جو2002 تک باقاعدہ شائع ہوتا رہا۔ اعجاز گیلانی دی نیوز، فرنٹیئر پوسٹ، امروز، مشرق، جرأت، نوائے وقت اورفیملی میگزین میں بھی کام کرتے رہے۔ کچھ عرصہ قبل ان کی کتاب ’’سرزمین خاک وخون‘‘ شائع ہوئی، یہ ایران اور عراق کا دلچسپ سفرنامہ ہے۔ حال ہی میں ان کی چار نئی کتابیں بیک وقت شائع ہوئی ہیں۔
پہلی کتاب کینیڈا کے مشاہدات پر مشتمل ہے اور یہ ’’دُور کے ڈھول سہانے‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی۔ مصنف ایک عرصہ سے کینیڈا میں قیام پذیر ہیں۔ انہوں نے وہاں جو کچھ دیکھا اور جن تجربات سے گزرے وہ سب اس کتاب میں محفوظ کردیا۔ کینیڈا کے اڈے اور محکمہ موسمیات، ڈاکٹرز کی قابلیت پر سوالیہ نشان، کینیڈین کرنسی کا اتار چڑھائو، زبردستی شادی کا بہانہ، کینیڈا کی بس سروس اور دیگر مضامین دلچسپ اور معلوماتی ہیں۔ اعجازگیلانی کی دوسری کتاب ’’باتوں کے رنگ‘‘ کے عنوان سے منصۂ شہود پر آئی ہے۔ یہ ان دلچسپ انٹرویوز پر مشتمل ہے جو مصنف نے اپنے مختلف صحافتی ادوار میں کیے۔ کتاب کو چھ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ پہلا حصہ ادیبوں اور شاعروں کے انٹرویوز پر مبنی ہے۔ دوسرے حصے میں ماہرین تعلیم کے انٹرویوز ہیں۔ تیسرے حصے میں حکماء کے انٹرویوز ہیں اور چوتھے، پانچویں، چھٹے حصے میں سماجی کارکنوں، ٹی وی، فلم آرٹسٹ اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ لوگوں کے انٹرویوز شامل ہیں۔ کتاب کی ضخامت 184 صفحات ہے۔ 
ان کی تیسری کتاب ’’منتخب مضامین اور اداریے‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی۔ صفحات کی تعداد 184 ہے۔ اعجاز گیلانی کی چوتھی کتاب کا عنوان ’’دنیا کی امید،پاکستان‘‘ ہے۔ یہ مختلف ادوار میں لکھے مضامین کا مجموعہ ہے۔ ابتدائی چند صفحات پر مصنف نے ’’خواب کی تعبیر سے آگے‘‘ کے زیر عنوان اپنے صحافتی سفر کی روداد بیان کی ہے۔ سیاسی تجزیوں اورمختلف سماجی مسائل پر مضامین لائق مطالعہ ہیں۔ کتاب 208صفحات پر مشتمل ہے۔