05 دسمبر 2021
تازہ ترین

گرین بیلٹ سے براؤن بیلٹ تک۔۔۔ گرین بیلٹ سے براؤن بیلٹ تک۔۔۔

میرے ایک دوست نے چند ماہ قبل ایک پلاٹ خریدا، جو غالباً 10 مرلے کا ہے۔ انہوں نے اس پلاٹ پر چار دیواری کرواکر ایک عدد گیٹ لگوادیا۔ چند دنوں بعد ان کے دل میں جانے کیا آیا کہ انہوں نے اس پلاٹ پر کچھ سبزیوں کے بیج وغیرہ لگادئیے۔ انہوں نے مجھے بھی کہا کہ ساتھ چلیں اور دیکھیں کہ اب پلاٹ کتنا بھلا لگ رہا ہے۔ جب میں وہاں گیا تو اس دس مرلے کے پلاٹ میں ہریالی دیکھ کر دل باغ و بہار ہوگیا۔ حیرانی اس بات کی تھی کہ چند دنوں میں ہی وہ پلاٹ سرسبز اور خوش نما ہوچکا تھا۔ چاروں جانب سے مکانات میں گھرا یہ پلاٹ اب ایک چھوٹے سے کھیت کی شکل اختیار کررہا تھا، جس میں ٹماٹر، پیاز، بینگن اور دوسری سبزیوں کی افزائش شروع ہوچکی تھی۔ چند ہی دنوں بعد روزانہ کی بنیاد پر پیاز، بینگن، دھنیا، ٹماٹر وغیرہ ہمارے دوست کے چھوٹے سے مگر مہنگے ترین ’’کھیت‘‘ سے آنے شروع ہوگئے، جو وہ متواتر ہمارے گھر بھی بھیجتے رہے اور اس کا نام انہوں نے ’’کچن گارڈن‘‘ رکھ دیا کہ جب بھی کوئی سبزی آتی تو وہ اس میں سے کچھ ہمارے گھر بھیجتے اور ان کا بیٹا میرے بیٹے داؤد خان کو کہتا کہ ’’یہ سبزیاں ہمارے کچن گارڈن سے آئی ہیں۔‘‘ یہ تمام پراسیس نہایت دلکش تھا اور اس کے نتیجے میں نکلنے والی سبزیاں وغیرہ قدرت کے خوبصورت تحفے۔
چونکہ میرا بیک گراؤنڈ کسی زمیندار گھرانے والا نہیں تھا، اس لئے مجھے یہ تمام پراسیس بہت بھلا لگا اور میں نے جب اس پر تحقیق کی تو مجھ پر آشکار ہوا کہ چاروں جانب سے مکانوں میں گھرا ہوا پلاٹ اس لئے زرخیز ہے کہ پندرہ بیس سال قبل تک یہ علاقہ زرعی تھا اور یہاں کھیت ہی کھیت تھے، جس میں لوگ اپنی فصلیں اُگاتے تھے اور وہ فصلیں لاہور میں بیچی اور کھائی جاتی تھیں۔ دنیا بھر میں زرعی زمینوں پر صرف فصلیں ہی اُگائی جاتی ہیں اور ان پر کسی بھی کمرشل یا رہائشی استعمال کی قطعی اجازت نہیں دی جاتی۔ جب ہم یورپ وغیرہ میں قدرتی ہریالی اور سبزے کی تعریف کرتے ہیں تو بھول جاتے ہیں کہ پاکستان تو بنیادی طور پر زرعی ملک تھا۔ ’’تھا‘‘ میں نے اس لئے استعمال کیا کہ پچھلے تیس سال میں زرعی زمینوں کا قتل عام کردیا گیا۔ یہ حکومتوں کا اختیار و ذمے داری ہوا کرتی ہے کہ زرعی اور رہائشی؍ کمرشل کی حد بندیوں کی حفاظت کرے۔ ’’گرین بیلٹ‘‘ اور ’’براؤن بیلٹ‘‘ زمین کی اصطلاح کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حکومت کی جانب سے جو علاقہ ’’گرین‘‘ ڈیکلیئر کیا جاتا ہے، وہاں پر رہائشی و کمرشل تعمیرات کی ہرگز اجازت نہیں ہوتی اور تعمیرات و سوسائٹیوں کی اجازت صرف ’’براؤن‘‘  ڈیکلیئر کیے گئے علاقوں میں ہوتی ہے۔ یہ حد بندی کے مقاصد میں اول تو کسی بھی شہر کی آب وہوا کو پاک صاف رکھنا ہوتا ہے، اس کے علاوہ شہر کو فوری تازہ سبزیوں و پھلوں کی سستے داموں ترسیل ممکن ہوتی ہے، لیکن جب ہم پچھلے تیس سال پر نظر دوڑاتے ہیں تو معلوم پڑتا ہے کہ لاہور کے گردونواح میں واقع تمام زرعی زمین کو رہائشی سوسائٹیوں میں تبدیل کردیا گیا اور ’’گرین‘‘ اور ’’براؤن‘‘ زمین کا فرق مٹادیا گیا۔
چند سال قبل ٹھوکر نیاز بیگ لاہور کی حد سمجھا جاتا تھا جب کہ اگر نہر کی دوسری جانب آئیں تو مغل پورہ کے بعد لال پل سے آگے دونوں جانب کھیت ہوا کرتے تھے اور لوگ شام کے بعد اس جانب جانے سے گھبرایا کرتے تھے۔ جب جلو پارک بنا تھا تو لوگ وہاں سے سرشام ہی واپسی کے لئے نکل پڑتے تھے کہ واپسی پر یہ تمام راستہ دونوں جانب کھیت ہونے کی وجہ سے ’’سنسان‘‘ ہوا کرتا تھا۔ اسی طرح جی ٹی روڈ پر داروغہ والا سے آگے مناواں اور بارڈر تک سب کھیت ہی کھیت تھے۔ اب صورت حال نہایت مختلف ہے اور رائے ونڈ روڈ و ملتان روڈ پر بھی کھیت ختم ہوچکے اور ہر طرف رہائشی سوسائٹیوں کی بھرمار نظر آتی ہے۔ نوے کی دہائی میں اُس وقت کے حکمرانوں نے جب اپنا محل رائے ونڈ روڈ (جاتی عمرہ) میں بنایا اور اس کے گردواطراف میں حکومتی فنڈز کا ’’وحشیانہ استعمال‘‘ کرتے ہوئے ڈویلپمنٹ کروائی تو عوام میں یہ تاثر پھیلادیا گیا کہ نیا لاہور اس جانب بن رہا ہے، تو رہی سہی زرعی زمینوں کے مالکان نے بھی اپنے کھیت رہائشی پلاٹوں میں تبدیل کرنے شروع کردئیے۔ آج بھی جاتی عمرہ کے محل کے مکمل ہونے کے بعد اس کے اطراف میں تمام زمین کو حکومت پنجاب نے ’’گرین‘‘ قرار دیا ہوا ہے، تاکہ وہاں پر شریفوں کے محل کے آس پاس کوئی رہائشی تعمیرات نہ ہوسکیں۔
خیر بات ہورہی تھی زراعت کو نقصان پہنچانے کی۔ اب لاہور کو ہی لے لیں تو لاہور شیخوپورہ، رائیونڈ، واہگہ بارڈر، قصور، گوجرانوالا وغیرہ سے مل چکا ہے اور ان شہروں اور لاہور کے درمیان جو کھیت کھلیان آتے تھے، وہ ختم ہوکر رہائشی تعمیرات میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ یہ ایک ایسی خطرناک صورت حال ہے، جس نے اول تو عوام کی زندگیوں کو آلودہ کردیا، دوسرا لاہور کی غذائی ضروریات کے حصول کو مشکل اور مہنگا ترین کردیا۔
لاہور کے گردونواح کے علاقوں کو زرعی (گرین بیلٹ) سے رہائشی؍ کمرشل (براؤن بیلٹ) میں منتقل کرنے کی کہانی اتنی سادہ نہیں۔ اس مجرمانہ، مکروہ عمل کے لئے ایل ڈی اے جیسے حکومتی ادارے کو مجرمانہ طریقے سے استعمال کیا گیا اور اس کا دائرہ کار شیخوپورہ، قصور اور گوجرانوالا تک بڑھایا گیا۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ کچھ عرصہ قبل تک ایل ڈی اے کا دائرہ اختیار صرف لاہور تک ہوا کرتا تھا اور جائیداد سے متعلقہ تمام معاملات حل کرنے میں اتنی زیادہ مشکلات نہیں ہوا کرتی تھیں، لیکن جب ایل ڈی اے کے دائرہ اختیار کو لاہور سے باہر کے علاقوں تک بڑھایا گیا تو پھر جائیداد سے متعلقہ تمام معاملات کا حل ہونا مشکل ترین بن گیا۔ زرعی زمینوں کو رہائشی میں تبدیل کرنے کی کھلی چھوٹ پچھلے دو تین ادوار میں دی گئی اور اس میں طاقتور لینڈ مافیاز کی حکومتوں سے ملی بھگت صاف دکھائی دیتی ہے۔
لاہور جیسے شہر میں ہی قریباً 90 فیصد ایسی ہاؤسنگ سوسائٹیز کام کررہی ہیں جو ایل ڈی اے سے ابتدائی اجازت ملنے کے بعد غیر قانونی طور پر زمینیں بیچنے کے مکروہ کاروبار میں ملوث ہیں، لیکن ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی نہ ہونے پر عوام الناس کے کھربوں روپے ہر گزرتے دن کے ساتھ ڈوب جاتے ہیں اور ان کا کوئی بھی ’’والی وارث‘‘ نہیں بنتا۔ جگہ کی تنگی کے باعث تفصیلات لکھنی ممکن نہیں، وگرنہ رئیل اسٹیٹ کے نام پر جو کچھ عوام کے ساتھ ہورہا اور جس طرح سے ایل ڈی اے اور دوسرے اداروں نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں، وہ نہایت افسوس ناک اور مجرمانہ ہے۔ آج لاہور کی آبادی ایک کروڑ پچاس لاکھ تک پہنچ چکی جب کہ اس شہر کی منصوبہ بندی قریباً چالیس لاکھ لوگوں کے لئے تھی۔ پچھلے ادوار میں ’’کاسمیٹک ترقیاتی‘‘ کام کروائے جاتے رہے، جن کا مقصد صرف عوام کو بے وقوف بنانا اور پھر ’’کاسمیٹک ترقی کے کاموں‘‘ کو دکھاکر ووٹ کا حصول ہوا کرتا تھا جب کہ حقیقی ترقیاتی کاموں پر کبھی توجہ ہی نہیں دی گئی۔ لاہور میں بدترین سیوریج سسٹم ہے، جو پرانے لاہور کے لئے بنا تھا لیکن اب آبادی کے بے تحاشا اضافے کے بعد چھوٹی سی بارش کے بعد بھی لاہور کے تمام علاقوں کا سیوریج ابل پڑتا ہے۔ 
دنیا بھر میں گرین اور براؤن بیلٹ لینڈ کی حد بندی کو نہیں چھیڑا جاتا اور شہروں میں آبادی بڑھنے کے بعد ’’ہائی رائز بلڈنگز‘‘ پر کام کیا جاتا ہے نہ کہ شہروں کے اطراف میں موجود زرعی اراضی کی حیثیت تبدیل کرکے اس پر رہائشی تعمیرات کی اجازت دی جائے۔ 90 کی دہائی میں لاہور کے نئے ایئرپورٹ کی تعمیر سے قبل جس طرح اپنے حواریوں کو نواز کر زرعی زمینوں کی اونے پونے فروخت کا بندوبست کیا گیا، قارئین کو یاد ہوگا اور پھر اس منصوبے سے قبل ان ’’نیک‘‘ سیاستدانوں کی بنائی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی مہنگے داموں فروخت بھی کوئی بہت پرانی بات نہیں۔ اسی طرح مشرف دور میں فیروزپور روڈ پر لاہور، قصور روڈ بننے سے پہلے جس طرح زرعی زمینوں کے مالکان سے اونے پونے اس وقت کے حاکم اعلیٰ کے فرزند نے زمینیں ہتھیائی تھیں، وہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ تلخ باتیں اور ایسی حقیقتیں تو بہت ہیں مگر کیا کیا جائے تنگی داماں کالم۔ اس وقت صورت حال نہایت تشویشناک ہے اور لاہور کے باسی جو ماضی میں غذائی ضروریات میں خودکفیل تھے، درآمد شدہ اجناس اور سبزیاں مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہیں۔ کچھ ایسا ہی معاملہ پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں دیکھا جاسکتا اور زرخیز ترین سونا اگلتی ’’گرین بیلٹ زمینوں‘‘ کو ’’براؤن بیلٹ زمین‘‘ میں تیزی سے تبدیل کیا جارہا ہے اور یہ عمل اگر اب بھی نہ روکا گیا تو پاکستان جیسے ملک میں مستقبل میں ناصرف بدترین غذائی قحط آسکتا، بلکہ اس غیر فطری عمل کے نتیجے میں عوام کے کھربوں روپے بھی ڈوبتے ہی رہیں گے۔