05 دسمبر 2021
تازہ ترین

ٹیکس وصولی کا معاملہ… ٹیکس وصولی کا معاملہ…

حکومت نے ٹیکس ادائیگی کے دائرے کو وسیع کرنے کی غرض سے ایک آرڈیننس جاری کیا ہے، جس کے ذریعے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو بااختیار کیا گیا ہے کہ وہ ٹیکس ادا کرنے والوں کی فہرست میں موجود نہ ہونے والوں کے موبائل فون، بجلی اور گیس کے کنکشن کاٹ سکتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے، جو ٹیکس ادا کرنے کی حیثیت رکھتے، لیکن ٹیکس جمع نہیں کراتے ہیں۔ قومی شناختی کارڈ بنانے والے ادارے نادرا کو بھی اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ ٹیکس چوری کرنے والوں وغیرہ کو شک کی بنیاد پر ایف بی آر کو معلومات فراہم کرسکے گا۔ پروفیشنل شعبوں سے وابستہ نان فائلرز پر 5 سے 35 فیصد اضافی ٹیکس کے بعد بجلی اور گیس کے غیر رجسٹرڈ کمرشل اور صنعتی صارفین کے گرد بھی گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ غیر رجسٹرڈ صنعتی و کمرشل صارفین کے بجلی و گیس کے بلوں پر 17 فیصد تک اضافی ٹیکس عائد کردیا گیا ہے۔ ماہانہ 10ہزار تک کے بل پر 5 فیصد، 20 ہزار پر 7 اور30 ہزار پر 10فیصد اضافی ٹیکس لگے گا۔ غیر رجسٹرڈ بجلی اور گیس کے کمرشل اور صنعتی صارفین پر ٹیکسوں کا اضافی بوجھ ڈال دیا گیا، غیر رجسٹرڈ صنعتی اور کمرشل صارفین کے لئے بجلی اور گیس مزید مہنگی کردی گئی۔ نان فائلرز صنعتی و کمرشل صارفین کے بجلی اور گیس کے بلوں پر 5 سے 17 فیصد اضافی ٹیکس عائد کردیا گیا، نوٹیفکیشن کے مطابق ماہانہ دس ہزار روپے تک کے بل پر 5 فیصد، 10 سے 20 ہزار روپے کے بل پر 7 فیصد اور 20 سے 30 ہزار روپے کے بل پر 10 فیصد اضافی ٹیکس لگے گا۔ اسی طرح ماہانہ 30 سے 40 ہزار روپے کے بل پر 12 فیصد، 40 سے 50 ہزار روپے کے بل پر 15 فیصد جب کہ غیر رجسٹرڈ کمرشل صارفین کے ماہانہ 50 ہزار روپے سے زیادہ کے بجلی اور گیس کے بلوں پر 17 فیصد اضافی ٹیکس عائد ہوگا۔ دیگر بھی بہت سارے اقدامات کیے گئے ہیں، تاکہ ٹیکس وصولی اور ٹیکس ادا کرنے والوں کا دائرہ کار وسیع کیا جاسکے۔ 
سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے مستعفی ہونے کے بعد انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے ایف بی آر کو پاکستان ریونیو سروس میں بدلنے کا کہا، میری بات نہ مانی گئی تو میں نے چیئرمین شپ سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ریونیو سروس بنانے کی بیوروکریٹ ارباب شہزاد اور عشرت حسین نے مخالفت کی تھی۔ ان کے بقول انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے کہا تھا کہ پرچون فروشوں پر سیلزٹیکس عائد کردیں، مجھ سے کہا گیا کہ وہ ہڑتال کردیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزیراعظم سے کہا کہ پرچون فروش ہڑتال کرتے ہیں تو کرنے دیں، یہ 20 دن بعد ٹیکس ضرور دیں گے۔
پاکستان میں ڈائریکٹ ٹیکس ادا کرنے کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے، جو لوگ یا ادارے آسانی سے ٹیکس ادا کرسکتے ہیں وہ بھی کسی نہ کسی بہانے ٹیکس ادا نہیں کرتے یا پھر چوری کرتے ہیں۔ وزیر خزانہ شوکت ترین نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ دارالحکومت میں موجود اشرافیہ کے ہسپتال اور لیبارٹریاں جو علاج معالجہ کی ناقابل برداشت سہولتوں کے نام پر مجبور عوام سے اربوں روپے کمارہی ہیں، ٹیکس کی ادائیگی میں دھوکا دہی سے کام لیتی اور مونگ پھلی کے دانے کے برابر ٹیکس کی مد میں صرف ایک ارب روپے جمع کراتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیکس جمع کرنے کی فضول اور ناکارہ مشینری کے ساتھ دھوکا دہی کی ہے کہ ٹیکس کی مد میں صرف ایک ارب روپے جمع کرائے ہیں جو صرف اشک شوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نجی ہسپتالوں اور لیبارٹریوں نے 2021 میں 83 کروڑ 60 لاکھ روپے اور 44 کروڑ 90 لاکھ روپے سیلز ٹیکس کی مد میں جمع کرائے تھے۔
ٹیکس جمع کرانے کا رجحان ہی نہیں اور اس کی تربیت بھی نہیں کی جاتی۔ کوئی کسی سے پوچھنے والا نہیں کہ آپ نے گزشتہ ماہ اپنے کاروبار سے جو بھی آمدن حاصل کی تھی، کیا اس پر ٹیکس جمع کیا تھا۔ کباب کے ٹھیلے سے جو آمدن کی، اس پر کتنا ٹیکس ادا کیا تھا۔ جواب میں وہ ٹالے گا۔ خواہ وہ حلیم فروخت کرنے والا، وہ قربانی کے جانور فروخت کرنے والا، وہ ضروریات زندگی کی اشیاء اور سامان فروخت کرنے والا، وہ بھاری ٹرانسپورٹ چلانے والا ہو، غرض دنیا جہان کا کاروبار کرنے والے تمام لوگ کسی نہ کسی بہانے ٹیکس ادا نہ کرنے کے ذمے دار ہیں۔ اگر ان سے پوچھا جائے تو یہ لوگ سادہ سا جواب دیتے ہیں کہ وہ یوٹیلٹی بلز ادا کرتے ہیں، وہ لوگ بالواسطہ (ان ڈائریکٹ) ٹیکس ادا کرتے ہیں، ایسے جواب تعلیم یافتہ لوگ بھی دیتے ہیں۔ 
معاملہ گنجلک یوں ہے کہ دُکان داروں میں باقاعدہ کیش میمو جاری کرنے کا رجحان ہی ختم ہوگیا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ دُکان سے جو بھی سامان خریدا جاتا، باقاعدہ کیش میمو جاری کیا جاتا تھا، جس کی نقل دُکان دار کے پاس ہوتی تھی۔ اب تو کیش میمو کا مطالبہ کرنے پر بھی جاری نہیں کیا جاتا۔ ایف بی آر کیوں نہیں پابند کرسکتا کہ فروخت کی جانے والی ہر چیز کا کیش میمو جاری کریں۔ ہر شہری کا ٹیکس نمبر اس کا قومی شناختی کارڈ نمبر ہو اور جو بھی خریداری وہ کرتا ہے، خواہ پٹرول ہو یا کوئی اور سامان، اس کا اندراج اس کے نمبر میں کردینے کا کوئی طریقہ وضع کیا جائے۔  اسی طرح ہر سطح پر ایسا ہورہا اور معاملہ اشرافیہ تک جاپہنچتا ہے۔ ٹیکس وصول کرنے اور جمع کرنے والوں کے لئے ایک فضول اور ناکارہ مشینری ہوگئی ہے۔ ٹیکس کا دائرہ اس لئے نہیں بڑھتا کہ تنخواہ دار طبقے سے جو ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے، وہ کاٹ لیا جاتا ہے۔ صنعتی اداروں سے جو ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، اس کے بارے میں عام قیاس آرائی یہی ہے کہ ٹیکس کی ادا کی ہوئی رقم درست نہیں ہوتی۔ ٹیکس وصول کرنے اور جمع کرنے کے پورے ڈھانچے کا تفصیلی جائزہ لیا جانا چاہیے اور ٹیکس جمع کرنے والے سوال نامے کو بہت زیادہ آسان ہونا چاہیے۔ بنیادی بات تو یہی ہے نا کہ کیا آمدن ہوئی، کیا اخراجات ہوئے، اسے کیوں الجھایا گیا ہے۔ یہ الجھائو کس کے مفاد میں تھا یا ہے؟ پاکستان میں ایک طبقہ جس شاہانہ طور پر زندگی گزارتا ہے، اس سے کون پوچھتا ہے کہ آپ کی ادا کی گئی ٹیکس کی رقم اور شاہانہ انداز زندگی کے درمیاں واضح فرق ہے۔ دولت مند طبقہ اپنی آنکھیں موندے ہوئے شاہانہ زندگی گزارنے میں مست ہے۔ گستاخی نہ ہو تو عرض ہے کہ ہمارے منتخب ایوان کے نمائندے بھی اس لحاظ سے ٹیکس ادا نہیں کرتے، جس لحاظ سے ان کی آمدن ہوتی ہے۔ پروفیشنل افراد کی اکثریت ٹیکس کی ادائیگی نہیں کرتی، انہیں اس کی فکر نہیں کہ اس ملک کی آبادی کا بہت بڑا حصہ اس کی بہت بھاری قیمت ادا کررہا ہے کہ اس کی بات سننے اور سمجھنے والا کوئی نہیں۔ یہ اس لحاظ سے خطرناک رجحان ہے کہ محروم لوگوں کی آواز نہ سنی جائے۔