08 دسمبر 2021
تازہ ترین

کرونا کے خلاف اقدامات، پی ٹی اے کا کردار کرونا کے خلاف اقدامات، پی ٹی اے کا کردار

اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو انسانی اموات کی دو بڑی وجوہ سامنے آتی ہیں، ایک جنگ اور دوسری بیماریاں۔ تاریخ گواہ ہے کہ کرۂ ارض پر اتنی بڑی تعداد میں اموات جنگوں سے نہیں ہوئیں، جتنی مہلک بیماریوں خصوصاً وبائی امراض سے انسانی زندگیوں کا ناقابل تلافی نقصان ہوا۔ دنیا میں جب بھی کوئی وبا پھوٹتی ہے تو وہ ناصرف برق رفتاری سے ایک بڑی آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی، بلکہ اس کے اثرات طویل مدت تک کرۂ ارض پر رہتے ہیں۔ وبائی امراض سے نقصان کی بڑی وجہ لوگوں کی مرض سے عدم واقفیت اور معلومات تک رسائی کے سست نظام کا ہونا اور بروقت حفاظتی تدابیر کا اختیار نہ کرنا ہے۔ دور جدید میں ذرائع ابلاغ کے جدید نظام کی ترقی، معلومات کی بروقت اور تیز ترین رسائی نے لوگوں کی مشکلات میں بہت کمی کردی ہے۔ پہلے جب دنیا کے کسی حصے میں کوئی وبا پھیلتی تو دنیا کے باقی حصوں تک اس مہلک وبا کی بروقت خبر نہیں پہنچتی تھی، اس باعث جب وبا ان علاقوں میں پہنچتی تو بہت زیادہ نقصان ہوتا تھا، لیکن اب جدید ذرائع ابلاغ کے باعث چند منٹوں میں لوگ باخبر ہوکر حفاظتی اقدامات کے ذریعے خود کو محفوظ کرلیتے  ہیں۔ کرونا وائرس بھی ایسی ہی وبا ہے، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، لیکن دنیا بھر میں جس طرح سے وبا کا مقابلہ کیا گیا، وہ مثالی ہے۔ اس کامیابی کی بنیادی وجہ ذرائع ابلاغ ہے، جس کی بدولت موبائل فون کی دنیا میں انقلاب برپا ہوگیا، اب کوئی بھی شخص دنیا کے کسی بھی کونے میں ہونے والے کسی بھی واقعے سے صرف چند سیکنڈز میں واقف ہوجاتا ہے۔ پاکستان بھر میں کرونا وبا کے حوالے سے جس طرح فرنٹ لائن اداروں نے اپنا کردار ادا کیا، اسی طرح پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بھی بھرپور نبھایا۔ بنیادی طور پر پی ٹی اے ٹیلی کام سروسز؍ سیکٹر کو ریگولیٹ کرتا ہے۔ پاکستان میں آبادی کی کثیر تعداد موبائل فون کا استعمال کررہی ہے۔ کرونا وبا کے خلاف سب سے موثر قدم عوامی شعور کو بیدار کرنا تھا، یہ پیغام پی ٹی اے نے موبائل فون کے ذریعے عام آدمی تک پہنچایا اور پہلے قدم کے طور پر پی ٹی اے نے بروقت اقدامات کرکے اس بات کو یقینی بنایا کہ عمومی رنگ ٹون کے بجائے کرونا کی احتیاطی تدابیر پر مشتمل ریکارڈ شدہ پیغام پر مشتمل رنگ ٹون کے ذریعے لوگوں میں شعور بیدار کیا جائے۔ اس حوالے سے13کروڑ 17 لاکھ  (131.7 ملین) صارفین کے موبائل فونز پر کرونا آگاہی رنگ بیک ٹون (آر بی ٹی) کا آغاز کیا گیا۔ اس سلسلے کا دوسرا اہم قدم موبائل ایس ایم ایس کے ذریعے عوام میں کرونا الرٹ کے نام سے آگاہی مہم چلائی گئی، ایک محتاط اندازے کے مطابق پی ٹی اے کی طرف سے مارچ 2020 سے اب تک اردو، انگریزی اور علاقائی زبانوں میںدو ارب (2 بلین) پیغامات بھیجے جاچکے۔ اس کے علاوہ  بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کی بڑی تعداد (جن میں کرونا کے مشکوک اور غیر مشکوک افراد شامل تھے) کو کرونا وائرس سے بچائو کی احتیاطی تدابیر پر مشتمل ایس ایم ایس بھیجے گئے۔ اب تک ایسے ایک کروڑ چھتیس ہزار (1.036ملین) سے زائد پیغامات بھیجے جاچکے ہیں۔ پی ٹی اے نے کارکردگی اور خدمات کے معیار کو برقرار رکھتے ہوئے ٹیلی کام سیکٹر کو کامیابی کے ساتھ متحرک کیا اور رابطوں کی بحالی کو یقینی بنانے کے لئے فوری بین الاقوامی اور قومی بینڈوتھ کے رجحانات اور صلاحیتوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ تمام آپریٹرز کی استعداد کار میں اضافے، بیلنس کے لوڈ کو متوازن رکھنے اور ٹریفک کی اصلاح کے حوالے سے اقدامات کیے۔ ٹیلی کام آپریٹرز نے بے مثال پیمانے پر اس عالمی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے میں قابل ستائش کردار ادا کیا۔ آپریٹرز نے صارفین کی سہولت کے لئے ڈیٹا الاؤنس میں اضافہ کیا اور رعایتی بنڈل اور پیکیج (اضافی ڈیٹا اور آن نیٹ وائس منٹ) متعارف کرائے۔ پی ٹی اے کی جانب سے کرونا پر قابو پانے کے لئے کام کرنے والے سرکاری اداروں کو 16 مختلف شارٹ کوڈز اور 6 یو اے این (ٹول فری) نمبر بھی دئیے گئے۔ ٹیلی سکول جو طلباء کے لئے پاکستان کا پہلا تعلیمی چینل (پاکستان ٹیلی وژن لمیٹڈ اور وزارت تعلیم کا مشترکہ پراجیکٹ) ہے، کے حوالے سے آگاہی کے لئے 23 کروڑ (239ملین) ایس ایم ایس بھیجے گئے۔ خصوصاً طلباء، اساتذہ اور والدین کو احتیاطی تدابیر کے حوالے سے 24کروڑ ایس ایم ایس بھیجے گئے۔ پی ٹی اے نے موبائل صارفین سے ’’وزیراعظم ریلیف فنڈ 2020 برائے عالمی وبا کووڈ 19‘‘ میں عطیات جمع کرنے کے حوالے سے بھی اقدامات کیے۔ صارفین کو 16کروڑ 40 لاکھ 80 ہزار ایس ایم ایس بھیجے گئے۔ عطیات جمع کرنے کے لئے شارٹ کوڈ6677مختص کیا گیا۔ پی ٹی اے نے احساس پروگرام میں امداد کی رجسٹریشن کے لئے شارٹ کوڈ 8171 پر بھیجے جانے والے تمام ایس ایم ایس مفت کردئیے۔ ایس ایم ایس سروس کو فری کرنے کا یہ فیصلہ بعض ایسے صارفین کی مشکلات کے پیش نظر کیا گیا، جن کا بیلنس صفر تھا۔ مزید براں، پی ٹی اے نے موبائل ٹیکنالوجی کے ذریعے امداد کے منتظر لوگوں تک پہنچنے کی کوششوں میں، بغیر کسی مالی فائدے کے، پروگرام کو مکمل تعاون فراہم کیا۔ کرونا وبا کے باعث یہ ضروری تھا کہ لوگوں کے درمیان سماجی فاصلہ برقرار رہے، لیکن حکومتی نظام کو چلانے کے لئے دفتری کاموں کا جاری رہنا بھی ناگزیر تھا، اس سلسلے میں حکومت نے فیصلہ کیا کہ سرکاری دفاتر کے ناصرف اوقات کار میں واضع کمی کردی جائے، بلکہ 30سے50 فیصد تک حاضری کو بھی کم رکھا جائے، تاکہ لوگوں کے درمیان سماجی فاصلے کو یقینی بنایا جاسکے، اس حکمت عملی کو عملی جامہ پہنانے کے لئے حکومت نے دفتری اوقات میں روزانہ 2 گھنٹے کی کمی کی، اس کے ساتھ ملازمین کے لئے ’’گھر سے کام‘‘ کی پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا، اس پالیسی کی کامیابی کے لئے انٹرنیٹ کی بروقت اور معیاری فراہمی کو یقینی بنانا پی ٹی اے کی ذمے داری تھی، جس کو ادارے نے احسن طریقے سے سرانجام دیا۔ دیگر تمام سرکاری؍ غیر سرکاری ادارہ جات کے تعاون سے ناصرف اس مرض پر قابو پایا گیا، بلکہ ملک بھر میں کاروبار زندگی کو بھی رواں دواں رکھا۔ پی ٹی اے نے ایسے موبائل فون جو کسٹم ڈیوٹی ادا کیے بغیر استعمال کیے جارہے تھے، کو بلاک کرکے ڈیوائس آئی ڈینٹٹی فکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم (ڈی آئی آر بی ایس) کے ذریعے باقاعدہ رجسٹریشن کے عمل کا آغاز کیا، جس سے حکومتی خزانے میں اربوں روپے کا اضافہ ہوا۔ مذکورہ بالا تمام اقدامات بلاشبہ قابل تحسین ہیں اور ان تمام اقدامات کا سہرا پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے موجودہ چیئرمین میجر جنرل (ر) عامر عظیم باجوہ اور اتھارٹی ارکان نوید احمد (ممبر فنانس) اور خاور صدیق کھوکھر (ممبرکمپلائنس) کی قائدانہ صلاحیتوں کو جاتا ہے، جنہوں نے دوسرے تمام سرکاری؍غیر سرکاری اداروں اور ٹیلی کام کمپنیوں کے تعاون سے ناصرف اس مرض پر قابو پانے کے لئے اپنے حصے کا کردار بخوبی نبھایا، نتیجتاً ایسے مشکل حالات میں زندگی نئے معمولات کی جانب چل پڑی۔ امید ہے کہ موجودہ اتھارٹی کے اقدامات ناصرف دیگر سرکاری محکمہ جات کے لئے قابل تقلید ہوں گے، بلکہ کرونا کی چوتھی لہر پر قابو پانے کے لئے بھی ان اقدامات کا سلسلہ جاری و ساری رہے گا۔