01 دسمبر 2021
تازہ ترین

ثقافتی تعلقات اور نوآبادیاتی نظام ثقافتی تعلقات اور نوآبادیاتی نظام

اس کالم میں ہم ریاست کے ارتقاء اور قیام کا ذکر کریں گے، جو Tribe،Band، Clan اور Chiefdom کے مرحلوں سے گزر کر تشکیل ہوئی۔ ریاست کے وسائل کی بنیاد زراعت اور تجارت ہوتی تھی۔ اس کے انتظامی ادارے وجود میں آتے تھے اور سماج میں مختلف طبقات کی تشکیل ہوتی تھی، جو سماجی طور پر ایک دوسرے سے افضل یا کم تر ہوتے تھے۔ حکمران ریاست کا سربراہ ہوتا تھا، جو امرا کی مدد سے لوگوں پر حکومت کرتا تھا اور اس کے پاس اختیارات کی کمی نہیں ہوتی تھی، اس کے احکامات کی تعمیل کرنا رعایا پر فرض تھا۔ ریاست کی ابتدائی شکل شہری ریاست تھی، جیسے سومیرین تہذیب میں اڑک شہر کی ریاست ہوا کرتی تھی یا یونان میں ایتھنز اور سپارٹا کی شہری ریاستیں تھیں، جب کوئی ایک شہری ریاست فوجی لحاظ سے طاقتور ہوجاتی تو وہ ہمسایہ ریاستوں پر حملے کرکے ان کو اپنے ساتھ شامل کرکے ایک بڑی سلطنت کی تشکیل کی جاتی تھی، جیسے میسوپوٹامیہ میں کلدانی، اسیرین اور بابل کی ریاستوں نے سلطنتیں بنائیں تو شہری ریاستیں بڑی بڑی سلطنتوں میں تبدیل بھی ہوتی رہی ہیں۔ قومی ریاست کا تصور بہت جدید ہے، اس کا مطلب ہے کہ کسی ریاست کی جغرافیائی حدود میں رہنے والے لوگوں کا تعلق ایک کلچر سے ہو، جو انہیں آپس میں ملاتا ہو تو اس سے قوم کی تشکیل ہوتی ہے۔ یورپ میں قومی ریاست کی ابتدا فرانسیسی انقلاب 1789 کے بعد سے ہوئی، جب یورپ مختلف قوموں میں تقسیم ہوگیا اور قومی ریاست کے ساتھ ہی قومی زبان، قومی ترانہ اور قومی جھنڈا وجود میں آیا۔ اس کے نتیجے میں قوموں میں جنگیں بھی ہوئیں اور اپنی برتری کے لئے معاشی اور سماجی طور پر ترقی بھی کی۔ جب ہسپانوی لوگ جنوبی امریکہ گئے تو وہاں تین بڑی تہذیبیں اور سلطنتیں تھیں، جن میں مایا، ایزٹیک اور انکا شامل تھیں۔ مادّی طور پر یہ تینوں تہذیبیں خوش حال تھیں، لیکن جب ہسپانوی یہاں پر آئے، مقامی باشندوں کی کمزوری یہ تھی کہ لوہانہ ہونے کی وجہ سے ان کے ہتھیار ہسپانویوں کی طرح نہیں تھے۔ دوسرے یہ لوگ توپوں اور بارود کے استعمال سے ناواقف تھے۔ گھوڑوں کا بھی ان کے ہاں کوئی وجود نہیں تھا، اس لئے ہسپانویوں نے اپنے توپ خانے کے ذریعے ان کو باآسانی شکست دے دی۔ یہ اپنے ساتھ تربیت یافتہ کتوں کو بھی لائے تھے۔ جنہیں مقامی باشندوں پر چھوڑا گیا تھا، ان کتوں نے لوگوں کو بھنبھوڑ کر رکھ دیا۔ ہسپانویوں نے جنوبی امریکہ کو فتح کیا اور یہاں سے ٹنوں کے حساب سے سونا چاندی لے کر چلے گئے۔ چونکہ جنوبی امریکہ کی تاریخ یورپی مفسروں نے لکھی ہے۔ اس لئے اس میں ان کا یہی نقطۂ نظر ہے۔ مقامی باشندوں کے ساتھ جو ظلم ہوا، ان سے سونے اور چاندی کی کانوں میں زبردستی کام کرایا گیا۔ ان کے کلچر اور مذہب کو بدل کر انہیں عیسائی بنایا گیا۔ چونکہ یہ تاریخ مقامی باشندوں نے نہیں لکھی، اس لئے ہم اہل یورپ کے ظلم و ستم اور مقامی کلچر کی بربادی کے بارے میں بہت کم واقف ہیں اور یہی کچھ یورپی اور امریکیوں نے ہوائی میں کیا۔ اسے امریکہ کی ایک ریاست بناکر اس کے کلچر اور شناخت کو ختم کردیا۔