05 دسمبر 2021
تازہ ترین

ہے کوئی جو ان سے پوچھ سکے؟ ہے کوئی جو ان سے پوچھ سکے؟

اوورسیز پاکستانیوںکی زمینوں اور سرکاری اراضی پر قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی کے بعد ضروری ہے کہ حکومت تجاوزات مافیا کے خلاف بھی کارروائی کرے۔ اس وقت ملک کا کوئی شہر ایسا نہیں جہاں تجاوزات کی بھرمار نہ ہو۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی بھی غیر قانونی کام متعلقہ محکموں کی مبینہ ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں۔ عوامی فلاح وبہبود کے اداروں میں اوپر سے نیچے تک کرپشن کا دور دورہ ہے۔ شہریوں کا پیدل چلنا محال ہوچکا، لیکن متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ ایک زمانے میں محنت مزدوری کرنے والوں کا کراچی مرکز ہوا کرتا تھا، اب شہرِ قائد کے بجائے راولپنڈی، اسلام آباد ان لوگوں کے مسکن ہیں۔ وفاقی دارالحکومت کے گردونواح میں جائیں تو معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی کسی منڈی میں آگیا ہو۔ بڑی بڑی سڑکوں کے دونوں اطراف ریڑھی بانوں اور خوانچہ فروشوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ ترنول سے کشمیر ہائی وے کی طرف آئیں تو لوگوں نے قبرستانون میں ریت اور بجری کا کاروبار شروع کر رکھا ہے۔ سی ڈی اے کی زمینوں پر مویشی منڈیاں بن چکی ہیں۔ ہے کوئی جو ان سے پوچھے؟ پنڈوڑہ چونگی سے آئی جے پی روڈ کی طرف آئیں تو سڑک کے کنارے جانوروں کی خریدو فروخت کا سلسلہ جاری ہے۔ پنڈی اسلام آباد کے سنگم پر واقع فیض آباد میں غیر قانونی بسوں کے اڈے اور غیر قانونی تعمیرات نے سرکاری جگہیں گھیر رکھی ہیں۔ کھنہ پل جو گذشتہ دور میں اربوں روپے کے اخراجات سے بنایا گیا تھا، کے نصف حصے پر چھابے والے اور ہتھ ریڑی والے قابض ہیں۔ راولپنڈی شہر اور سیٹلائٹ ٹاؤن کی تو بات ہی نہ کریں، جہاں دُکان داروں نے 15سے 20 ہزار روپے ماہوار کے عوض فٹ پاتھ کرایوں پر دے رکھے ہیں۔ ایک مرتبہ لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس عبادالرحمٰن لودھی نے بہ نفس نفیس شہر کا دورہ کرکے تجاوزات کو ہٹانے کا حکم دیا۔ میونسپل ایڈمنسٹریشن کے افسران کو عدالت میں طلب کرکے تجاوزات کے خاتمے کے احکامات دئیے، لیکن دولت کی چمک کے آگے عدالتی احکامات کی متعلقہ ادارے کہاں پروا کرتے ہیں۔ جج صاحب کے دورے کے چند گھنٹوں بعد تجاوزات کی شہر میں بھرمار ہوگئی۔ بھئی جہاں لاکھوں روپے ماہانہ جمع ہوں، وہاں عدالتی احکامات کھوہ کھاتے میں چلے جاتے ہیں۔ اگر کھنہ پل کے قریب منڈی بہت ضروری ہے تو سی ڈی اے کو چاہیے کہ ترلائی کی طرز پر کھنہ پل کے قریب گزرنے والی سروس روڈ اور ایکسپریس وے کے درمیان سومیٹر خالی گرین بیلٹ پر سبزی اور پھل منڈی بنائے۔ تاسف کہ جب کبھی متعلقہ ادارے تجاوزات ہٹانے کے لئے دورہ کرتے ہیں تو دُکان داروں اور خوانچہ فروشوں کو اس کی قبل ازوقت اطلاع دے دی جاتی ہے، جس کے بعد وہ اپنا سامان اٹھالیتے ہیں۔ چنانچہ جیسے ہی تجاوزات ہٹانے والے واپس جاتے ہیں، حسب معمول فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر دکانیں سجادی جاتی ہیں۔ جب تک سی ڈی اے اور میونسپل کمیٹی کے ان بدعنوان افسران اور ملازمین پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا، تجاوزات کا خاتمہ خواب ہی رہے گا۔ ہمیں وزیراعظم کی نیت پر شک نہیں، وہ ملکی نظام درست سمت میں کرنے کی طرف رواں دواں ہیں، لیکن جہاں معاشرے کی اکثریت کرپٹ لوگوں پر مشتمل ہو، نظام کی درستی کے لئے خاصا وقت درکار ہے۔ توجہ طلب پہلو کہ تجاوزات مافیا کا زیادہ تر تعلق کے پی کے کے علاقوں باجوڑ اور مہمند سے ہے، جہاں کے لوگوں کی اکثریت سڑک کنارے چھابے اور کھوکھے لگائے ہوئے ہوتی ہے۔ متعلقہ اداروں کے ملازمین اگر ان لوگوں سے ماہانہ وصول نہ کریں تو محنت مزدوری کرنے والے ازخود ایسا نہیں کرسکتے۔ کوئی شام کے اوقات میں کھنہ پل جاکر دیکھے تو پل سے گزرنا دشوار ہوجاتا ہے۔ عمر رسیدہ افراد اور خواتین گھروں کے اندر مقید ہوکر رہ جاتے ہیں۔ اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے کے متعلقہ شعبے سے کوئی پوچھے کہ کھنہ پل سے لہتراڑ روڈ کے دونوں اطراف کوڑا کرکٹ کے ڈھیر کس کو اٹھانے ہیں۔ کھنہ پل راولپنڈی کے مشرقی جانب واقع ہے، راولپنڈی کی میونسپل حدود کا اختتام یہیں ہوتا ہے، بلدیہ راولپنڈی اور سی ڈی اے دونوں کوڑا کرکٹ اور تجاوزات کو ہٹانے کی ذمے داری قبول کرنے کو تیار نہیں۔ وفاقی دارالحکومت کے گردونواح کے بعض قبرستانوں میں لوگوں نے کاروباری سرگرمیاں شروع کرکے نئی مثال قائم کردی ہے۔ حکومت سیاست دانوں کی کرپشن کے خلاف سربہ کف ہے، اس کے ساتھ عوامی فلاح و بہبود کے اداروں میں ہونے والی کرپشن کی طرف توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ اگر حکومت عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکام رہتی ہے تو آئندہ انتخابات میں اس کو کامیابی کی توقع نہیں رکھنی چاہیے، لہٰذا حکومت کو چاروں صوبوں میں تجاوزات کے خاتمے کے لئے ازسرنو حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ وفاق کی سطح پر اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے اور پنجاب میں وزیراعلیٰ عوامی اداروں کے بدعنوان ملازمین کی گوشمالی کرکے ہی عوام میں سرخرو ہوسکتے ہیں۔ جڑواں شہروں کے باشندے وزیراعظم اور پنجاب کے وزیراعلیٰ سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ تجاوزات کے خاتمے کے لئے فوری اقدامات کریں گے۔ متعلقہ اداروں کے افسران اور ملازمین، جو برسوں سے ایک ہی سیٹ پر براجمان ہیں، انہیں فوری عہدوں سے ہٹایا جائے۔ قریباً دو سال پہلے سپریم کورٹ کے حکم پر وفاقی دارالحکومت کے علاقوں سے سرکاری اراضی پر قائم مارکیوں کو گرایا گیا تھا۔ اگر اعلیٰ عدالتوں نے ہی غیر قانونی تجاوزات اور قبضوں کو ہٹانا ہے تو پھر سی ڈی اے اور دیگر متعلقہ محکموں کی ضرورت کیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت عوام کو تجاوزات کے عذاب سے جلد از جلد نجات دلائے، تاکہ شہری سکھ کا سانس لے سکیں۔ اگر حکومت تجاوزات کو مستقل طور پر ختم کرنے میں کامیاب ہوگئی تو نئے انتخابات میں حکومت کی کامیابی یقینی ہے۔ عوام امید کرتے ہیں کہ وزیراعظم اپنی اوّلین فرصت میں تجاوزات ختم کرنے کے احکامات دیں گے۔