30 نومبر 2021
تازہ ترین

قلم کا سپاہی قلم کا سپاہی

اس کی تحریر میں پاکستانیت، دھرتی سے محبت اور یکجہتی کا پیغام انتہائی سادہ انداز میں ملتا تھا، پھر بھی ایسی کاٹ، طنز اور تنقید ہوا کرتی تھی کہ ’’دشمن‘‘ اپنے زخم چاٹنے پر مجبور ہوجاتا، شخصیت ایسی کہ اس کے قلم کی معرکہ آرائی جھوٹ محسوس ہوتی تھی، لیکن حقیقت یہی ہے کہ دھیمے لہجے وہ سب کچھ ہر دور اور ہر جگہ کہنے سے نہیں رکتے تھے، بلکہ کوئی روک بھی نہیں سکتا تھا، بحیثیت ناول نگار، ڈرامہ نویس بہت شہرت حاصل کی، پھر بھی ’’خودنمائی‘‘ کبھی نہیں کی، لالی وڈ کے لئے فلم سلاخیں اور سیلوٹ بھی لکھ کر داد لی، لیکن وہ ایک وضع دار صحافی تھے، جو آج کے دور میں نہ ہونے کے برابر ہیں، ان کی حقیقی پہچان قلم اور صحافت ہی تھا۔ دنیا میں چھپے دشمن کرونا نے بڑی دھوم مچائی، قسمت سے ہی کوئی محفوظ رہا، ورنہ رپورٹ یہی ہے کہ انسانیت کے اس دشمن نے ہر انسان پر وار ضرور کیا، کسی کو محسوس نہیں ہوا، یا بچ گیا تو یہ اس کی قسمت،66 سالہ اس قلم کے سپاہی کو حقیقی اور ازلی دشمن بھارت تو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکا، لیکن کرونا سے بخشش نہ ہوسکی، ان کی توانائیاں دم آخر بھی جواں تھیں، وہ ایک نئے پراجیکٹ پر کام کرنے کے لئے پُرعزم تھے، پھر بھی دشمن جاں کرونا نے زندگی سے سانس کا رشتہ توڑ دیا، اس قلم کے سپاہی کا نام نامی طارق اسماعیل ساگر تھا، عظیم شخص تھا، اللہ اس کی لغزشوں کو معاف فرمائے اور اس کے درجات بلند کرتے ہوئے جوار رحمت میں جگہ دے، ان کی رحلت سے ادبی، ثقافتی اور صحافتی حلقے گہرے رنج وغم میں مبتلا ہیں، لیکن نظام قدرت یہی ہے کہ زندگی کی سب سے بڑی سزا موت ہے۔
اگر ان کی زندگی کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو انہوں نے اپنی 66 سالہ زندگی میں 72کتب تحریر کیں، زیادہ عرصہ قومی روزنامے ’’نوائے وقت‘‘سے وابستہ رہے، ان کے شہرۂ آفاق ناولوں کا زیادہ تر موضوع ازلی دشمن بھارت رہا، جس میں انہوں نے بھارت، بھارتی حکمرانوں اور ان کی خفیہ ایجنسیوں کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا، ان کی تحریروں میں تحقیق کے ساتھ مقصد اور معلومات کو بنیاد بنایا گیا، لیکن ’’ناول‘‘ کہانی اور ڈرامے میں کبھی بھی واعظ کا پہلو نظر نہیں آیا، اسی لئے ان کے تمام ناول دلچسپی سے ذوق مطالعہ رکھنے والوں کی توجہ کا باعث رہے، طارق اسماعیل ساگر نے اپنی ہر تحریر میں محنت، وضاحت اور تحقیق کو بنیاد بناکر معاشرے کی فلاح وبہبود کی کوششیں بھی کیں، پھر بھی ان میں کسی جگہ فضول بحث کا سہارا نہیں لیا، یہی ان کی تحریر کو منفرد بنانے کا جواز تھا، وطن سے محبت قومی یکجہتی اور دھرتی سے پیار میں اگر انہوں نے ازلی دشمن بھارت کو قلم سے فتح کرنے کی کوشش کی تو اس کے پس پشت ان کا بھارت میں قیدی بن کر قیدوبند کی صعوبتیں برداشت 
کرنے کا تجزیہ اور مشاہدہ تھا، یہی وجہ ہے کہ جب اس پس منظر میں پہلا ناول ’’میں ایک جاسوس تھا‘‘ منظرعام پر آیا تو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا، کیونکہ یہ تجربات اور مشاہدات کی بھٹی میں کندن بن کر نکلا تھا، انہوں نے دو درجن ڈرامہ سیریز بھی تحریر کیے، جن کے تمام کردار جیتے جاگتے اس لئے تھے کہ وہ معاشرے میں پائے جانے والے مختلف طبقات کے نمائندہ تھے اور ان کی زبان انتہائی سادہ اور عام فہم تھی، کیونکہ وہ مشکل الفاظ کے برتاؤ سے اس لئے گریزاں تھے کہ وہ اپنے پرستاروں کو کسی امتحان میں ڈالنے یا اپنی قابلیت جھاڑنے کے قائل نہ تھے۔
اگر ان کی انفرادیت دیکھی جائے تو حضرت نے ہر موضوع کو چھیڑا اور اس کی اچھائیوں کے ساتھ برائیوں کا تذکرہ کر کے ایسی سوچ پیدا کرنے کی کوشش کی، جس سے کسی نہ کسی طرح اصلاح معاشرہ ممکن ہو، ان کی خواہش تھی کہ وہ اپنی تحریروں سے لوگوں کو دھرتی کی محبت میں ہی نہیں، حقوق و فرائض کا پابند بناکر مملکت میں فلاحی معاشرہ قائم کرنے کے لئے تیار کریں، اس لئے کہ ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ ہمارے بزرگوں نے بابائے قوم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں قربانیوں سے حاصل کیا، کسی نے یہ دھرتی ہمیں تحفے میں نہیں دی، اس لئے اسے سنوارنا اور ترقی و خوش حالی کی راہ پر گامزن کرنا ہر پاکستانی کا فرض ہے۔ طارق اسماعیل ساگر نے ہر محاذ پر ایک قلم کے سپاہی کی طرح بے خوف جنگ لڑی۔ مذہبی، سیاسی، 
قومی اور بین الاقوامی موضوعات پر دلیری اور بہادری سے وہ کچھ لکھا، جن پر بہت سے لکھاریوں نے قلم اٹھانے کی زحمت نہیں کی، ڈرون حملے ہوں یا کہ اسامہ بن لادن، افغانستان پر کیا گزری؟ امریکہ رے امریکہ، شملہ کا سوامی، بھارت ٹوٹ جائے گا؟، بلوچستان کے آتش فشاں، یلغار، پھندا، تم کتنے بھٹو مارو گے؟ چناروں کے آنسو، بلیک واٹر، بے نام سی عقیدت، اے راہ حق کے شہیدو، جاسوس کیسے بنتے ہیں؟، کورٹ مارشل، آپریشن بلیوسٹارز، دہشت گرد، دیوتاکی موت، لال مسجد، مسافت، کفارہ، جب دشمن نے للکارا، کرپشن کا بھوت یہ تمام تحریر کسی دعوت فکر سے کم نہیں، لیکن ان تمام کی کہانیاں بامقصد ہونے کے باوجود یکسانیت کا شکار نہیں، آج کتب بینی کا رواج نہیں پھر بھی لائبریریوں میں یہ کتابیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ لکھاری طارق اسماعیل ساگر زندگی کی بازی ہارنے کے باوجود دنیا میں زندہ ہے۔
ہم ترقی پذیر ہونے کے باوجود فیس بک، موبائل اور لیپ ٹاپ کے مرہون منت ہیں، ہمیں اپنی آگاہی کے لئے یہی جدید ہتھیار اچھے اور کافی لگتے ہیں جب کہ حقیقت یہی ہے کہ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں آج بھی بہترین دوست کتاب ہی کہلاتی ہے۔ سوچنے کی بات کہ ہم جو ابھی تک ترقی کے خواہش مند ہیں، وہ کتاب سے بے زار ہیں اور سب کچھ ایجاد کرکے دنیا میں حکومت کرنے والے ابھی تک ’’کتاب‘‘ سے جڑے ہوئے ہیں۔ 
طارق اسماعیل ساگر نے قلم کے سپاہی کی حیثیت سے اردو صحافت میں کالم نویسی سے بھی اپنا منفرد مقام بنایا، انہوں نے پاکستان کے مسائل کی نشان دہی کے ساتھ سیاست دانوں کی سیاسی سرگرمیوں پر قلم اٹھایا، دوغلی سیاسی پالیسی، غلاظت اور گندگی کا بھی پردہ چاک کیا، وطن دوستی اور حب الوطنی کے جذبے سے کبھی کبھار سخت الفاظ بھی استعمال کیے، لیکن ان کی تنقید برائے تنقید نہ ہوتی تھی، کیونکہ ان کے کالموں کی بنیاد بھی ان کی تحقیق اور حقائق پر مبنی مواد ہوتا، اس لئے کبھی کوئی تنازع پیدا نہ ہوپاتا، موجودہ دور میں پرنٹ میڈیا بلکہ پورا میڈیا زوال پذیر ہے، ماضی کے حوالے سے اس کی قدر و منزلت بڑھنے کے بجائے کم ہوئی ہے، پھر بھی حقائق پر مبنی صحافت، کتب، ڈرامے اور افسانے لوگوں کو متاثر کیے بغیر نہیں رہتے، لہٰذا دنیائے ادب و صحافت اور ثقافتی دنیا میں طارق اسماعیل ساگر کے تحریری شاہکار انہیں برسوں زندہ رکھنے کے لئے ایک خزانے سے کم نہیں، وہ اپنے کردار سے ہر شعبے میں اپنا ایک علیحدہ انداز رکھتے تھے، اس لئے اگر یہ کہا جائے کہ وہ منفرد تھے اور منفرد ہی رہیں گے، ویسے بھی ہمارے ہاں زندگی ہارنے کے بعد پذیرائی کا رواج ہے، یقیناً زندہ قوموں کا یہ انداز نہیں ہوا کرتا، پھر بھی ہم ابھی تک اپنی عادت نہیں بدل سکے، ادب و ثقافت اور اس سے وابستہ قومی ادارے بھی اسی انداز کے قائل ہیں، حالانکہ ان کے پاس ایسے وسائل ہیں کہ وہ ایسے منفرد لوگوں کی زندگی میں ہی ان کی خدمات کو تسلیم کریں، انہیں پوشیدہ اور محدود سرگرمیوں سے نکال کر منظرعام پر لائیں، لیکن جو بھی صاحب منصب بنا، اس کے پاس خدمات کے اعتراف کا وقت تب ہی نکلا، جب قابل فخر، تاریخی اثاثہ قرار پانے والی شخصیات جاں سے گزر گئیں، اسے ’’ہم اور آپ‘‘ بے حسی کا نام دے سکتے ہیں۔