05 دسمبر 2021
تازہ ترین

بھارت کا اصل چہرہ… بھارت کا اصل چہرہ…

بھارت دنیا کا وہ ملک ہے، جہاں روزانہ 80 سے 90 زنا کے مقدمے درج ہوتے ہیں۔ ریپ اس وقت بھارت میں خواتین کے ساتھ ہونے والے مظالم میں چوتھا بڑا ظلم ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی ایک رپورٹ کے مطابق 2018 میں زنا کے 30165 کیس رجسٹرڈ ہوئے، جو اوسطاً 91 کیس روزانہ کے بنتے ہیں۔ اسی طرح 2019 کی رپورٹ کے مطابق 32033 کیس رجسٹرڈ ہوئے، جو اوسطاً 88 کیس روزانہ کے بنتے ہیں۔ ان میں 27 سے 30 فیصد کیس نابالغ لڑکیوں اور بچیوں کے ہیں۔ اور ایسے میں یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ ریپ کرنے والوں میں بھی کئی نابالغ ہی ہوتے ہیں۔ یہ ہے بھارت کا اصل چہرہ، جو اپنے میڈیا پر پاکستان میں ہونے والے واقعات کو مرچ مسالہ لگاکر پیش کرتا ہے مگر اپنے دیش کی صورت حال سے منہ موڑ لیتا ہے۔
بھارت جو خود کو لبرل اور سیکولر ملک کہتے نہیں تھکتا، وہاں اکثر اجتماعی زیادتی کے واقعات ہوتے ہیں اور عوامی مقامات پر زیادتی تو معمول کی بات بن چکی۔ شادی کا جھانسہ دے کر جنسی زیادتی عام بات ہے۔ صرف دہلی شہر میں 2019 میں 1253کیس رپورٹ ہوئے، یعنی روز تین سے چار کیس رجسٹرڈ ہوتے ہیں اور جو بے چاریاں عزت گنواکر بھی عزت کے ڈر سے گھر بیٹھ جاتی ہیں، وہ بھی اگر گنتی کریں تو معاملات کتنے گمبھیر ہیں، اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ جو ریاست اپنے لوگوں کو بیت الخلا کی سہولت تک 
فراہم کرنے سے محروم ہو،  غربت اور مہنگائی حد سے بڑھ چکی ہو، وہ صرف ڈینگیاں ہی مار سکتی، عملاً کچھ نہیں کرسکتی۔
اجمیر کا واقعہ سب سے بڑا ہے، جس میں سیکڑوں بچیوں کو 1992 میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ 2012 کا دہلی گینگ ریپ،  2013 کا ممبئی گینگ ریپ، جموں کشمیر کے واقعات کے ساتھ بھارت ان غیر ملکی خواتین کے لئے بھی محفوظ نہیں جو باہر کی دنیا سے بھارت کی تعریف سن کر آتی ہیں، ان کو کیا پتا انڈیا میں مذہب کے نام پر زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے، مگر ایک ہندو لڑکا بھی ایک نیچ ذات ہندو لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بناکر خود کو مجرم نہیں سمجھتا۔ کالج، یونیورسٹیوں میں تو ریپ کیس ہو ہی رہے ہیں مگر سکول تک نہیں بچے۔ مخلوط تعلیمی نظام میں بولی وڈ اور 18پلس ریٹیڈ موویز سے متاثرہ لڑکے لڑکیاں ماڈرنائزیشن کے چکر میں گھن چکر ہوجاتے 
ہیں۔ ایسے میں تھکا ہوا عدالتی نظام جہاں زیر سماعت کیس اپنی باری کے انتظار میں ہیں یا پھر فائلوں کو دیمک چاٹ رہی ہے۔ 
2021 میں بھی گنتی کچھ کم نہیں۔ دہلی کے پرساد نگر میں فیکٹری ورکر کی ٹافی دلوانے کے بہانے چار سالہ بچی سے زیادتی، گجرات کے راج کوٹ میں وکیل نے اپنی کلائنٹ کی دس سالہ بیٹی سے ہی زیادتی کر ڈالی، جب ماں نے اپنی بیٹی کو گھر کے قریب ہی وکیل کے آفس بھیجا کہ وہ زیر سماعت کیس کے کچھ پوائنٹس بنا دے۔ دہلی میں سپریم کورٹ میں ایک کیس زیر سماعت ہے، جس میں 16 سالہ لڑکے نے چودہ سال کی لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 30 سال میں انڈین آرمی کے ہاتھوں 11 ہزار خواتین کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ اس میں مزید انڈین لوکل اخبار کے مطابق یہ بھی لکھا گیا کہ 2334 خواتین ایسی تھیں، جن کو زیادتی کے بعد مار دیا گیا۔ اسی سال فروری میں کشمیر کے باندی پورہ ضلع کی پولیس نے تین آرمی آفیسرز کو گرفتار کیا، جنہوں نے 9 سالہ معصوم بچی سے زیادتی کی کوشش کی۔ بچی کی فیملی نے زیادتی کا الزام لگایا، مگر ایف آئی آر میں صرف اغوا کا لکھا گیا۔ سابقہ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے ٹویٹ کیا کہ اب فیملی پر ایف آئی آر واپس لینے کا بھی دبائو ہے۔ 
کشمیر میں زیادتی کے کیس ایسے دبائو کی وجہ سے سامنے ہی نہیں آتے، لیکن 1991کا واقعہ کون درد دل رکھنے والا بھول سکتا ہے، جب راجپوتانہ رائفلز کے چار جوانوں نے کونان اور پوشپورہ کی 23کشمیری خواتین سے زیادتی کی۔ ہیومن رائٹس نے 2012 میں رپورٹ شائع کی کہ ان لوگوں نے گائوں کے مَردوں کو زبردستی باہر نکال کر بھی یہ مجرمانہ اور بے شرمانہ فعل انجام دیا۔ ہٹ دھرمی، بدمعاشی اور کیس فائل نہ ہونے کی وجہ سے زیادتی کے کیس بھارت میں ہر روز بڑھ رہے ہیں اور کیس فائل ہوجائے تو بھی سالہا سال فیصلہ نہ ہوپانے پر عدالتی نظام پر انگلیاں اٹھتی رہتی ہیں۔ بھارت میں عورت، لڑکی اور بچی عوامی مقامات پر بھی خود کو محفوظ نہیں سمجھتی اور چلے ہیں یہ دنیا کو یہ بتانے کہ بھارت مہان دیش ہے۔ حالانکہ جنسی زیادتی کے واقعات کا سب سے بڑا گڑھ ہے۔