08 دسمبر 2021
تازہ ترین

امیدوں پر ڈاکوؤں کا راج امیدوں پر ڈاکوؤں کا راج

کام قانون کے دائرہ اختیار میں ہو تو آپ کو سرکاری اداروں کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے، یہ ادارے بنائے ہی اس کام کے لئے گئے ہیں کہ عوام کی رہنمائی کریں، لیکن سول اداروں میں موجود کرپٹ عناصر غیر قانونی کاموں کو بھی قانونی سمجھ رہے ہیں۔ قانونی سزا سے بے خوف ہوکر اپنے کام کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اداروں کا کام حکومتی احکامات کی پیروی کرنا اور عوام سے عمل درآمد کروانا ہے۔ سروے کریں تو ساری حقیقت کھل کر واضح ہوجائے گی کہ بغیر رشوت کے کوئی کام ممکن نہیں رہا۔ وفاق اور صوبوں میں قائم اینٹی کرپشن اداروں نے اپنے اختیارات کا استعمال بند کیا ہوا ہے، جس کی وجہ سے سول سرکاری ادارے جس طرح مرضی چاہیں عوام پر چھری چلارہے ہیں، کوئی باز پرس نہیں ہوتی، سندھ پولیس میں کوئی 30 ایس ایچ اوز کو ایک سال کی سزا دی گئی ہے، اگر دوسرے تمام اداروں میں بھی اس طرز پر کرپٹ افسران کو چارج نہ دیں تو یقیناً بہتری ممکن ہے۔ 
چند سال سے عوام پر مہنگائی کا دباؤ زیادہ رہا اور گزشتہ دور میں کراچی میں ہونے والی قتل و غارت نے عوام کا جینا مشکل کیا ہوا تھا۔ اس دور میں کوئی بھی فرد محفوظ نہیں تھا، کاروباری برادری ہو یا پھر ٹھیلا لگانے والا غریب، ظلم کا شکار تھا۔ ظلم کی اندھیری رات کے بعد اب دوبارہ کراچی کے عوام کو مارا جارہا ہے، ظلم کی شکل تبدیل ہوگئی ہے۔ کوئی ترقیاتی کام نہیں ہورہے، سول اداروں میں رشوت کھلے عام مانگی جارہی ہے۔ لینڈ مافیا غریبوں کو لوٹ رہا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر لوگ اپنی رقوم کی واپسی کے لئے بلڈرز کی منت کررہے ہوتے ہیں، کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ 
کراچی سب کے لئے سونے کی چڑیا بنا ہوا ہے۔ وفاق بھی سندھ کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا۔ گھروں، پلاٹوں کے دو نمبرز کاغذات بنائے جاتے ہیں، شریف لوگوں کو تنگ کیا جارہا ہے۔ قبضہ گروپ کیوں اتنے بہادر ہیں، کیا صوبائی حکومتیں چند افراد کے آگے بے بس ہوچکی ہیں۔ لینڈ مافیا سمجھ بیٹھا ہے کہ عدالتوں میں کسی کیس کا فیصلہ جلدی نہیں ہوتا اور یہ گروپس اس کا ناجائز فائدہ اٹھارہے ہیں، کراچی میں حالات پہلے سے زیادہ خراب ہوچکے، زمینوں پر قبضے اور لوٹ مار عام ہوچکی، چھینا جھپٹی پر گولی ماری جارہی ہے۔ کراچی میں دوبارہ رینجرز کو متحرک کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ شہریوں کے گھروں کے دو نمبر کاغذات اور لوٹ مار کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کی طرف کراچی کے عوام دیکھ رہے ہیں۔ ہر علاقے میں چند سرگرم مافیا گروپس ہیں، ایک مضبوط نیٹ ورک پر کام چلایا جارہا ہے، ایک دوسرے کے علاقے کا کام تقسیم کیا جاتا ہے، چھوٹے گروپس اپنے علاقے کی مخبری بڑے گروپس کو دے رہے ہیں، اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔ سندھ رینجرز کو متحرک کرنا ضروری ہے۔ اگر ان افراد کو کنٹرول نہیں کیا گیا تو پھر خدانخواستہ کراچی دوبارہ بدامنی کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ شرپسند عناصر آہستہ آہستہ دوبارہ اسی ڈگر پر چلنے کی کوشش میں ہیں، اس دفعہ طریقہ واردات تھوڑا مختلف ہے، عمران خان کو مہنگائی کے ساتھ ان مافیاز کے خلاف دوبارہ رینجرز کو اختیارات دینے چاہئیں، تاکہ کراچی میں ہونے والی لوٹ مار کم ہوسکے، عوام لٹ رہے ہیں اور سیاست دانوں کو اپنی سیاست کی پڑی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر مہنگائی بڑھتی جارہی ہے، کوئی شنوائی نہیں۔ ہر جماعت سیاست کررہی ہے۔ عوام میں مایوسی بڑھتی جارہی ہے۔ 
افغانستان میں حالات کو بہتر کرنے کے لئے پوری دنیا کی نظریں پاکستان کی طرف ہیں۔ پاکستان بھی مکمل امن کا خواہاں ہیں۔ اگر ہمسایہ ممالک میں امن نہیں ہوگا تو پاکستان میں بھی کسی صورت امن نہیں ہوگا۔ پاکستان کو ہمیشہ ہمسایہ ممالک سے دہشت گردی کے خطرات کا سامنا رہا۔ حالیہ دنوں میں ایران نے پاکستان کے افغانستان میں امن کی کوشش پر تنقید کی، جس کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ بھارتی حکومت کو سانپ سونگھ گیا ہے، میڈیا پراپیگنڈا جاری ہے، اس وقت پاکستان خود معاشی مشکلات میں گھرا ہے۔ سیاسی قیادت کا کوئی عوامی فلاحی کارنامہ نظر نہیں آیا۔ آٹا، چینی، چاول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ کوئی بھی ادارہ کنٹرول میں نہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ صوبہ سندھ ہو یا پھر پنجاب، ہر جگہ افراتفری ہے۔ سرمایہ کار نے سب سے زیادہ منافع موجودہ دور میں بنایا، دوسری طرف لینڈ مافیا کی چاندی ہوگئی ہے، خصوصاً شہری علاقوں میں عوام کا جینا دوبھر کیا ہوا ہے۔ حکومتی رٹ کو سرعام چیلنج کیا جارہا ہے۔ کنٹونمنٹ بورڈ الیکشن میں حکومتی جماعت کو کامیابی ملی ہے۔ عوام نے ایک دفعہ پھر عمران حکومت کا ساتھ دیا، لیکن حکومتی جماعت سے عوام کو جو توقعات ہیں، وہ پوری نہیں ہورہیں۔ حکومت بنیادی مسائل پر اپنی توجہ مرکوز کرے۔ آزادی اظہار رائے پر قدغن لگانے سے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ پاکستان اور اس کے اداروں کے حقوق کا تحفظ کرنا ضروری ہے، لیکن سرکاری اداروں میں موجود کالی بھیڑوں کی کارکردگی پر سوال کرنے کا اختیار بھی قانون نے دیا ہے۔ میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے معاملے پر اپوزیشن بہت متحرک ہے، حالانکہ سب سے زیادہ آزادیٔ صحافت پر حملے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے دور میں ہوئے ہیں۔