24 ستمبر 2021
تازہ ترین

سماجی اقدار اور روایات کا فقدان سماجی اقدار اور روایات کا فقدان

اللہ پاک نے اس روئے زمین کو انسانوں سے آباد کیا، ان کے آپس میں رشتے ناتے قائم کیے، ایک دوسرے کے ساتھ ضرورتیں وابستہ کیں، باہم تعارف کے لئے خاندانوں اور معاشروں کا سلسلہ جاری کیا اور حقوق و فرائض کا ایک کامل نظام عطا فرمایا۔ یہ سب چیزیں ظاہر کرتی ہیں کہ انسان باہم مربوط بھی ہے اور ان کے درمیان کچھ فاصلے بھی ہیں۔ انسان بہت سی سماجی اقدار و روایات کا پابند بھی ہے اور اپنی نجی زندگی میں بہت حد تک آزاد بھی، یہ دونوں اوامر توازن کے ساتھ ہوں تو گھر اور معاشرہ جنت نظیر بن جاتا ہے اور توازن بگڑ جائے تو وہی گھر اور سماج جہنم کا نمونہ بن جاتا ہے۔ انسان اجتماعیت اور معاشرت پسند اس لئے ہے کہ اللہ نے اس کے اندر ایسے مختلف عناصر کو جمع کر رکھا ہے، جس وجہ سے وہ اکیلا رہ سکتا اور نہ اسے پسندکرتا ہے۔ اللہ نے انسان میں جو محبت کا عنصر رکھا، اس وجہ سے بھی انسان دوسرے کے دُکھ درد میں شریک ہوتا ہے، قرآن کریم میں ارشادِ ہے: ہم نے تمہارے اندر محبت و الفت پیدا کردی۔ (سورۃ الروم) رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں بازپُرس ہوگی۔ (صحیح بخاری)۔ والدین اور اولاد دو مختلف طبقے ہیں، مگر اسلام نے دونوں کے مراتب کا مکمل لحاظ رکھتے ہوئے قانونی ہدایات دی ہیں، ایک طرف والدین کا اتنا عظیم حق بتایا گیا کہ ان کے سامنے اُف تک کہنے کی اجازت نہیں، قرآن کریم میں ہے: ’’اور والدین کے ساتھ حُسن سلوک کرو، اگر ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اُف تک نہ کہو اور نہ جھڑکو۔ دوسری طرف والدین کو اپنی اولاد کے حقوق کی طرف توجہ دلائی گئی اورانسان پر اولاد کی تعلیم و تربیت کی پوری ذمے داری ڈالی گئی، کہا گیا کہ اس سلسلے میں اللہ کے دربار میں انہیں جواب دہی کا سامنا کرنا ہوگا، ایک حدیث کے الفاظ ہیں: ’’مرد اپنے گھر والوں کا نگراں ہے، اس سے اس کی رعیت کے بارے میں بازپُرس ہوگی۔ اولاد کو انسان کی سب سے بڑی پونجی اور صدقہ جاریہ قرار دیا گیا۔ میاں اور بیوی گھریلو زندگی کے بڑے ستون ہیں، ازدواجی زندگی میں دونوں کو الگ الگ ہدایات دی گئیں، شوہر سے کہا گیا کہ تمہاری یک گونہ فضیلت کے باوجود ان کے حقوق کے معاملے میں تم اسی طرح جواب دہ ہو جس طرح کہ وہ تمہارے معاملے میں جواب دہ ہیں: (ترجمہ) عورتوں کا مَردوں پر اتنا ہی حق ہے، جتنا مردوں کا ان پر ہے، البتہ مَردوں کو عورتوں پر فضیلت حاصل ہے۔ جو لوگ اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھے طور پر رہتے ہیں، انہیں معاشرے کا اچھا آدمی قرار دیا گیا۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں بہتر شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لئے تم سب سے بہتر ہوں۔ عورتوں کی دل داری کا اس قدر خیال رکھا گیا کہ ان کی جبری اصلاح سے بھی روکا گیا۔ ایک حدیث میں ہے: کوئی مومن مرد کسی مومن عورت سے نفرت نہ کرے، اس لئے کہ اگر ایک بات ناپسند ہوگی تو دوسری کوئی بات ضرور پسند آئے گی۔ شوہر کی رضامندی کو عورت کے لئے جنت میں داخلے کا وسیلہ قرار دیا گیا۔ یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ خاندان کچھ افراد سے مل کر بنتا ہے اور یہ افراد ایک ہی چھت تلے مل جُل کر مختلف رشتوں میں جڑ کر اپنی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ عموماً یہ خاندان والدین کی سرپرستی میں ہوتے ہیں۔ ہر ماں باپ کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنا گھر بنائے، جس میں ان کے بچے محفوظ اور آرام دہ زندگی بسر کریں۔ دنیا کی دھوپ چھائوں اور ماحول کی سردی گرمی سے سائبان ان کے بچوں کو محفوظ رکھیں۔ اس سائبان کی تمام تر بنیادیں گھر کے تمام افراد کے اتحاد و اتفاق سے جڑی ہوتی ہیں۔ یہ اُس وقت تک ہی مضبوط رہتا ہے جب تک اس میں رہنے والے افراد خلوص اور اپنائیت کے ساتھ رہتے ہیں۔ دنیا کی سطح پر معاشرہ دو خاندانی نظام میں بٹ چکا۔ ایک اتحاد و اتفاق سے عاری خاندان جسے عرف عام میں الگ تھلگ کا نام دیا جاتا ہے، خاندانی غم و خوشی سے دُور ایک الگ دنیا ہوتی ہے۔ ایک یا دو افراد اپنے بچوں کے ساتھ باقی خاندان سے کٹ کر زندگی بسر کرتے ہیں۔ عموماً انہیں آزاد زندگی سمجھا جاتا ہے، جس کی شرح وقت کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے۔ دوسرا خاندان وہ ہے، جس میں سب گھر کے بزرگ، بچے، نوجوان مل جُل کر رہتے ہیں۔ سب کا اپنا مقام و مرتبہ ہوتا اور اپنی اپنی حدود و قیود میں وہ آزاد بھی ہوتے ہیں۔ اگر ہم بیتے وقتوں میں گھروں کا مطالعہ کریں تو ان خاندانوں کو ایک چھت کے نیچے ہنسی خوشی زندگی گزارتے ہوئے پائیں گے۔ جہاں ڈھیروں افراد ایک خاندان کی طرح ایک چھت تلے سکون اور مزے سے زندگی بسر کرتے نظر آتے تھے، مگر جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، ویسے ویسے ہم اس اتفاق و اتحاد کی نعمت سے محروم ہورہے ہیں۔ اب یوں لگنے لگا ہے کہ جیسے ہم اکیلے ہوکر رہ گئے ہیں۔ خاندانی محبت اور خلوص کا شیرازہ ہم نے مغرب کی تقلید میں بکھیر کر رکھ دیا ہے۔ الگ تھلگ گھر کی سوچ ہمیں سمندر پار سے ملی ہے۔ مغرب زدہ معاشرے نے اپنے عزت و احترام کے قابل والدین اور بڑے بزرگوں کو گھر کے لئے ناکارہ قرار دے کر ان کی خاطر ’’اولڈ ہوم‘‘ بنائے اور پھر انہیں وہاں کوڑے کے ڈھیر کی طرح پھینک آئے۔ اس میں کوئی شک نہیں یہ دور جدت کی انتہاؤں کو چھورہا ہے۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون کے اس دور میں بچے نوجوان سب ایڈوانس ہوگئے ہیں۔ کسی کے پاس بھی دوسرے کے لئے وقت نہیں۔ آج ہمارے گھروں میں بچوں کو بہلانے، لوریاں سنانے، کلمے یاد کرانے اور انہیں اخلاق آموز قصے کہانیاں سنانے کے لئے بوڑھی دادیوں کا قحط ہے۔ افسوس کہ آج ہماری معاشرتی اور ثقافتی قدریں ناصرف بدل گئی ہیں، بلکہ سماجی اقدار اور روایات کا فقدان ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام آج کے دور میں نہ ہونے کے برابر ہے، آج اس جدید دور کے لوگ الگ الگ زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں، اسی لئے ان میں عدم برداشت اور تنہائی کا احساس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ مل جُل کر رہنے میں برکت سمیت دیگر بہت سے فائدے پنہاں ہیں۔ یہ وہ بے لوث رشتوں سے بندھا خاندانی نظام ہوتا ہے کہ جو ہماری زندگی کی رفتار کو سہل بناتا ہے۔ ہمارے غموں اور پریشانیوں کو بانٹ کر ہمیں مایوسی جیسے ماحول میں جانے سے بچاتا ہے۔ اس خاندانی نظام سے بچوں کی تعلیم و تربیت اچھی ہوتی ہے۔ ماں باپ سارا دن اپنے حصے کی ذمے داری نبھاتے اور بچوں کی طرف سے غافل ہوجاتے ہیں۔ بچوں کو توجہ اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے، اگر ان کو مناسب محبت اور توجہ نہ ملے تو بچے دوسری غیر اخلاقی سرگرمیوں میں پڑجاتے ہیں۔ یاد رہے یہ خاندانی نظام بچوں کے لئے بہترین تربیت گاہ اور توجہ کا مرکز ہوتے ہیں، اپنے مرکز کو نظرانداز کرنے والی اقوام ہمیشہ گم نامی کی دھول بن جایا کرتی ہیں۔