24 ستمبر 2021
تازہ ترین

معاشی دہشت گردی کا خاتمہ کیسے؟ معاشی دہشت گردی کا خاتمہ کیسے؟

ہم بھی کیا کریں، ہم بدلتے ہیں نہ ہمارے حالات اور ہمیں انہی مسائل کی بار بار تکرار کرنی پڑتی ہے، جس میں ہماری اکثریتی آبادی مبتلا ہے اور ہمارے حقیقی مسائل ہیں بھی یہی، جن پر ہم جیسے قلم اٹھاتے ہیں، باقی سب کہانیاں ہیں یا ٹھٹے۔ قسمت کی ستم ظریفی دیکھئے جن عوام کے لئے آزادی جیسی نعمت ہزاروں جانوں، مال ومتاع اور دنیا کی سب سے بڑی ہجرت کے نتیجے میں حاصل ہوئی، وہ آج 74 برس بعد بھی اپنے بنیادی حقوق کے لئے رُسوا ہورہے ہیں۔ ایک الگ مملکت کی ضرورت کا بنیادی مقصد ایسا خطہ حاصل کرنا تھا، جہاں خوش حالی، امن و سکون کے ساتھ آزاد فضا میں اپنے تمام افعال آزادی سے ادا کیے جاسکیں۔ بانیٔ پاکستان کے پیش نظر یہی عوام کے مسائل تھے، لیکن بانیٔ پاکستان کی زندگی اور ان کی رحلت کے فوری بعد ایسے گروہ اس ملک کے اقتدار، پالیسی سازی کے اداروں اور تعلیم کے شعبے پر قابض ہوگئے، جنہوں نے عوام کو ایسے ’’نظریات کے خوش نما باغ‘‘ دکھائے کہ وہ باغ اُگ سکے اور نہ ہریالی نظر آئی مگر ملک ہر لحاظ سے بنجر بنتا گیا، اس وقت ہم ذہنی بنجر پن کا اعلیٰ نمونہ بن کر رہ گئے ہیں، جہاں عقل اور شعور کے سوتے نہیں پھوٹتے، بلکہ ذہنی وصوتی آلودگی کے نظارے اور مظاہرے بہرحال ہر جگہ نظر آتے ہیں۔ جس ملک کے 60فیصد عوام کو روزگار کے مسائل، 40 فیصد سے زائد کو صحت اور نصف سے زیادہ آبادی کو تعلیم اور آدھی ہی آبادی کو رہائش کے مسائل نے جکڑ رکھا ہو، وہاں کسی ’معاشی و اقتصادی نظریے‘ کے احیاء کا دُور دُور تک نشان نظر نہیں آتا جب کہ اس کے برعکس ان نظریات کا فروغ روز افزوں ہے، جو ان سب مسائل کی جڑ ہیں۔ عوام کے مسائل کے دفاع یا حل کے بغیر ’’تبدیلی‘‘ کے اکٹھ کے اکٹھ گلی گلی محلے محلے، سمجھ سے بالاتر ہیں۔ خوشی جیسی انمول نعمت (جو کئی لوازمات کا مجموعہ ہے) سے ہم محروم کردئیے گئے ہیں۔ کسی بھی قوم کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں ’’خوشی اور اطمینان‘‘ کا اہم کردار ہے۔ اور یہ خوشی اور اطمینان وژنری قیادت میں قائم حکومتیں عوام کو مہیا کرسکتی ہیں، جو منصوبہ بندی کرتے ہوئے عوام کی خوشی کو خصوصی اہمیت دیتی ہیں، فنون لطیفہ کے اداروں کا جال بچھایا جاتا ہے، جدید تعلیم کا فروغ اور بہتر ہیلتھ کی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں، اس کے برعکس یہاں تعلیم، صحت اور فنون لطیفہ کا کیا حال ہے، یہ کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں۔ بے بسی اور مایوسی کا عالم دیکھئے کہ ہماری قوم خوشی اور تبدیلی بھی چاہتی ہے تو کیسی؟ ’’بس اتنا ہی چاہتے ہیں کہ پانی کے کولر اور مٹکے کے ساتھ رکھا گلاس زنجیروں میں جکڑا نہ ہو، سجدہ کرتے ہوئے دھیان جوتوں کی چوری کی طرف نہ ہو، دو وقت کی روٹی کی خاطر کسی کو اپنی عصمت نہ بیچنی پڑے، کسی معصوم کے کاندھے پہ بوٹ پالش کا باکس نہ ہو، کوئی بڑا انقلاب، کوئی بڑی تبدیلی نہیں چاہتے۔‘‘ 74 برس بعد بھی صورت حال یہ ہے کہ عوام بجلی، گیس، پینے کے صاف پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں، اپنی چھت کاتو خواب بھی نہیں دیکھ سکتے، انسانی جان و مال عدم تحفظ کے شکار ہیں، روزگار کے دروازے بند ہیں، مہنگائی کے باعث خودکشیوں اور جرائم میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جب کہ معاشی دہشت گردی ایک اضافی بوجھ بن کر ملک اور معاشرے پر مسلط ہے، جس کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں عوام ہی ہار رہے ہیں، مگر قومی سطح پر ابھی تک ہم معاشی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے بھی کوئی متفقہ لائحہ عمل نہ بناسکے، یوں لگتا ہے جیسے یہ جنگ صرف غریب عوام کی اور انہیں ہی لڑنی ہے اور وہی اس کا لقمہ بن رہے ہیں۔ آزادی کے بعد 74 برس سے حکمراں ملک سے غربت کا خاتمہ کرنے کے لئے سیکڑوں سکیمیں، پروگرام اور منصوبے لاچکے، صورت حال میں کچھ تبدیلی ضرور آئی لیکن غربت کی جو مجموعی صورت حال تھی، وہ کم و بیش آج بھی پہلے کی طرح اپنی جگہ ہے، گزشتہ 74 سال میں تمام سکیموں، حکومتی پالیسیوں اور پروگراموں کے باوجود ملک کے 70 فیصد عوام غریب ہی رہے۔ اسی مدت میں، انڈونیشیا، ملیشیا، چین، کوریا اور تھائی لینڈبلکہ بنگلادیش جیسے ایشیائی ملکوں نے غربت کے خاتمے میں زبردست کامیابی حاصل کی اور اب ان کا دنیا کے کامیاب ملکوں میں شمار ہورہا ہے۔ آزادی کے بعد سیاست پر شہروں کے امیر طبقے اور گاؤں کے زمیندار، جاگیرداروں، وڈیروں اور پیروں کی مکمل اجارہ داری قائم ہوگئی۔ سیاست اس طبقے کے ذاتی مفاد کی تکمیل کا ذریعہ بن گئی۔ پاکستان میں ایک نیا سیاسی حکومتی طبقہ بادشاہوں اور انگریزوں کے سامراجی دور سے بھی زیادہ طاقتور اور دولت مند بن گیا۔ ریاستی اور قومی سطح کے کئی سیاسی رہنما اتنے طاقتور اور دولت مند ہوچکے کہ ماضی میں بڑے بڑے شہنشاہوں کے پاس اتنی طاقت اور دولت نہیں ہوتی تھی۔ نئی نسل کے ان نئے سیاسی بادشاہوں نے جمہوری نظام کا سب سے زیادہ استحصال کیا۔ ملک کا سیاسی نظام اب ایک ڈگر پر ہے۔ ملک کی بے چین اکثریت ایک طویل عرصے سے موثر جواب دہ، فیصلہ کن طرز کے نظام کی خواہاں ہے، جس کی امید انہیں کہیں نظر نہیں آتی، پی ٹی آئی ہو یا کسی بھی پارٹی کی جمہوری حکومت، ایسا کوئی غیر معمولی کام نہیں کیا گیا، جس سے عوامی مسائل کے خاتمہ یا انسانی وسائل میں کوئی ترقی ہوتی نظر آئی ہو۔ جمہوری حکمرانوں،سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو مستقبل کا پاکستان کیسا ہونا چاہیے، کے بارے میں چنداں فکر نہیں۔ حالانکہ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ عوام کی تمناؤں اور خوابوں کی نمائندگی کررہے ہیں، لیکن کسی کو بھی نہیں معلوم کہ وہ مستقبل کے چیلنجز کا کامیابی کے ساتھ سامنا کرنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں، بدلتی ہوئی دنیا کے جدید تقاضوں کا انہیں فہم و ادراک ہے یا نہیں۔مہنگائی، بے روزگاری، صحت عامہ کی بدترین صورت حال، تعلیم کی جگہ پر جہالت، گھر گھر قیامت برپا کررہی ہے، جمہوری حکومتیں عوام کو ریلیف دینے کے طریقے ڈھونڈتی ہیں مگر یہ جمہوری حکمران عوام سے ریلیف بھی چھین رہے ہیں۔ مہنگائی کا یہ عفریت غریبوں کا خون خشک کررہا ہے، مہنگائی کا گراف بہت ہی بلند ہے، اشیاء خورونوش قوت خرید سے باہر ہوچکی ہیں، غریب کی پریشانیاں انتہا کو پہنچ چکی ہیں، لوگوں کو ابھی دو وقت کا کھانا نصیب نہیں ہورہا، عوام کی محرومیاں بڑھتی جارہی ہیں۔ لاکھوں خاندان غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں۔مہنگائی کے باعث ایک کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچے محنت مزدوری کرتے ہیں۔ ملک میں لاکھوں محنت کش بے روزگار ہیں، ملک کا 45 فیصد پڑھا لکھا طبقہ بے روزگار ہے، اگر مہنگائی کو قابو نہیں کیا جاسکتا تو پھر تنخواہیں اس قدر بڑھائی جائیں تاکہ غریب عوام زندہ رہ سکیں۔ المیہ دیکھیں 74 برس بعد بھی ہماری بے حسی میں کوئی فرق نہیں آیا اور ہم آج بھی سوچ کے اس گنبد پر کھڑے ہیں جہاں ماضی میں تھے، ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ کیا ہم نے ملک حاصل کرنے کا مقصد پالیا ہے؟ سعید ابراہیم کے اشعار موجودہ حالات کی عکاسی کرتے ہیں: غربت نے میرے ہاتھ کو کشکول کردیا اور دوستوں نے اس کو تسلی سے بھردیا جیسے میں کوئی بھیک میں دینے کی چیز تھا آئی جو موت اس کی ہتھیلی پہ دھر دیا لپٹے ہیں جس کی چھت سے ہزاروں ہی وسوسے پُرکھوں نے میرے رہنے کو کیسا یہ گھر دیا