24 ستمبر 2021
تازہ ترین

گداگر مافیا اور لاہور پولیس گداگر مافیا اور لاہور پولیس

یوکرائن کے دارالحکومت کیئو میں، میں نے بوڑھی عورتوں اور مردوں کو کچھ نہ کچھ بیچتے دیکھا تو میں حیرت میں مبتلا ہوگیا کہ 80 اور 90 کے پیٹے میں یہ بزرگ بھی کچھ نہ کچھ بیچتے اور اپنا گھر چلانے کی جستجو میں مصروف عمل نظر آتے ہیں۔ آزادی کی مشہور یادگار ’’میڈان‘‘ کے سامنے سڑک کنارے قطار میں کچھ خوبصورت ریڑھیوں پر پرانا سامان رکھے بزرگ مردوخواتین کھڑے اپنا سامان بیچ رہے تھے۔ یہ منظر میرے دماغ میں نقش ہوگیا اور میرا خیال فوراً پاکستان میں چپے چپے پر پھیلے گداگروں کی جانب چلاگیا جو عوام کی زندگیاں عذاب بنائے رکھتے ہیں۔ دنیا کی مشہور ترین کریشیٹک سٹریٹ پر واک کرتے ہوئے میں نے ایک بڑے بینچ پر ایسی خاتون بیٹھی دیکھی، جس کے چہرے پر جھریاں تھیں۔ میں جب اس کے قریب گیا اور کہا کہ میں نے آپ کی تصویر اتارنی ہے تو اس نے اشارے سے بتایا کہ اسے انگریزی نہیں آتی۔ میں نے اشارے سے اسے بتایا کہ میں اس کی تصویر اتارنا چاہتا ہوں تو وہ ہنس دی اور اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔ تصویر کھینچنے کا مقصد صرف اس کا بے انتہا بوڑھا ہونا نہیں، بلکہ بینچ پر بیٹھ کر چھوٹے چھوٹے سویٹر ہاتھ سے بُننا تھا اور جس بینچ پر وہ بیٹھی تھی، اس پر بوڑھے ہاتھوں سے بنائے چھوٹے چھوٹے سویٹر اور دستانے وغیرہ پھیلاکر رکھنا تھا۔ مجھے یاد ہے یہ 2020 کی بات ہے اور میں چند منٹ اس ضعیف خاتون کے پاس اس بینچ پر بیٹھا تھا اور اشاروں میں کچھ باتیں بھی کی تھیں کہ اس خاتون کو انگریزی نہیں آتی تھی۔ ویسے بھی یورپ اور قریباً تمام ہی مغربی ممالک میں خواتین کی اکثریت مختلف اداروں و دکانوں پر کام کرتی ہے اور اس تناظر میں وہاں بوڑھے اور ضعیف لوگ بھی کام کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کی ’’ہڈیوں میں کام کرنا‘‘ شامل ہوتا ہے۔ یورپ میں اکثر مقامات پر خواتین اور مرد سڑکوں پر میوزک کے آلات کے ساتھ گاتے نظر آتے ہیں اور میں نے خود ایسے سٹریٹ سنگرز کو مختلف سڑکوں اور گرجاؤں کے باہر گاتے سنا ہے، لیکن میں نے ان کو بھی کسی سے پیسے مانگتے کبھی نہیں دیکھا۔ یہ ضرور دیکھا کہ لوگ ان کی گائیکی سن کر ان کے آگے خود ہی پیسے پھینک جاتے ہیں۔ مجھے دبئی کے برجمان میٹرو سٹیشن کا ایک واقعہ یاد آگیا۔ رات قریباً 10 بجے کا وقت تھا اور میں دبئی میں اپنے ہوٹل سے نکل کر دبئی برجمان میٹرو سٹیشن کے بیرونی جنگلے سے جب اندر داخل ہورہا تھا تو کسی نے میری پینٹ کے پائنچے کو کھینچا۔ جب میں نے آگے، پیچھے اور دائیں بائیں دیکھا تو مجھے کوئی نظر نہیں آیا۔ دوبارہ پائنچے کو کھینچنے پر جب میں نے نیچے دیکھا تو ایک پاکستانی لوہے کے آہنی جنگلے کے ساتھ آدھا اندر اور آدھا باہر لیٹ کر ہاتھ پھیلائے بھیک مانگ رہا تھا۔ یقین جانئے جب میں نے اسے دیکھا تو میرے غصے کی انتہا ہی نہ تھی اور میرے منہ سے نکلا کہ ’’لعنت ہے تم پر دیار غیر میں بھی پاکستان کی عزت بیچتے ہو۔‘‘ ایسا نہیں کہ دنیا بھر میں فراڈ یا غربت نہیں، لیکن مہذب معاشروں اور ترقی یافتہ ممالک میں بھیک مانگنا (گداگری) بہت برا فعل سمجھا جاتا ہے۔ حکومتیں گداگری کے تدارک کے لئے قانون سازی کے بعد ان قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرواتی ہیں۔ پاکستانیوں کی بدقسمتی کہ یہاں پر قانون کی موجودگی کے باوجود اس پر عمل درآمد کسی بھی دور میں نہیں ہوا۔ چند سال سے تو لاہور جیسے کاسموپولیٹن شہر میں ہر چوک، ہوٹل، ہسپتال، شاپنگ مال، پارکنگ لاٹ، غرض ہر پبلک مقام پر سورج طلوع ہوتے ہی ’’پروفیشنل گداگر‘‘ اپنے مورچے سنبھال لیتے اور یہ سلسلہ رات گئے تک جاری رہتا ہے۔ میرے اپنے مشاہدے کی بات ہے کہ ایک مقام پر وہی مرد و عورت آپ کو روزانہ صبح و شام بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ اگر ان پر تحقیق کی جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ بہت بڑے مافیاز کے ساتھ مل کر ایک ’’گداگری بھتہ‘‘ اکٹھا کرتے ہیں۔ اب تو صورت حال یہ ہوچکی کہ کہیں بھی گاڑی رکتی یا روکی جاتی ہے تو گداگروں کا جمگھٹا آپ کو گھیرلیتا اور یہ آپ کا جینا دشوار کردیتے ہیں۔ کسی بھی ٹریفک سگنل کی سرخ بتی پر گاڑی روکنا وبال جان بن چکا۔ ایسے میں لاہور میں نئے تعینات ہونے والے ڈی آئی جی آپریشن کیپٹن سہیل چوہدری نے پچھلے چار دنوں سے پروفیشنل بھکاریوں کے خلاف جو مہم شروع کی ہے، وہ واقعی قابل تحسین ہے،اس خصوصی مہم کے نتیجے میں 11 سے 14 ستمبر دوپہر 12 بجے تک ناصرف لاہور میں 776 پروفیشنل بھکاریوں کو گرفتار کرلیا گیا بلکہ ان کے خلاف750 ایف آئی آرز بھی درج کی گئی ہیں۔ ڈی آئی جی آپریشن کیپٹن (ر) سہیل چوہدری کے مطابق یہ خصوصی مہم اُس وقت تک جاری رہے گی جب تک ان پروفیشنل بھکاریوں کے پیچھے کام کرنے والے ’’مافیا ٹھیکیداروں‘‘ کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزاؤں کے لئے جیلوں میں بند نہیں کردیتے۔ لاہور پولیس کے آپریشن ونگ کے سربراہ کا یہ بہت مستحسن اقدام ہے، جس کی تعریف نہ کرنا ناانصافی ہوگی، اس سے قبل کیپٹن (ر) سہیل چوہدری نے روزانہ کی بنیاد پر لاہور کے مختلف تھانوں کے دورے بھی شروع کیے ہوئے ہیں، جن سے شاید تھانہ کلچر میں کوئی مثبت تبدیلی آسکے۔ عوام کا پولیس پر اعتماد ’’کمیونٹی پولیسنگ‘‘ کے ذریعے ہی ہوسکتا ہے اور تھانوں میں عوام سے جو رویہ اپنایا جاتا، اسے فوری بدلنے کی اشد ضرورت ہے کہ عوام میں کسی بھی فورس کے خلاف غم و غصہ اور نفرت خطرناک ہوا کرتی ہے۔ گداگروں کے خلاف کیپٹن (ر) سہیل چوہدری کی مہم کو کامیاب بنانے میں عوام اور میڈیا کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور لاہور پولیس کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا کہ گداگری کے حامل معاشرے پوری دنیا میں حقارت کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں، بالخصوص جب حکومت پاکستان نے غریبوں و لاچاروں کے لئے مختلف مقامات پر ’’پناہ گاہوں‘‘ کا زبردست انتظام بھی کیا ہوا ہے۔ قارئین جانتے ہیں کہ میں ہمیشہ ہی باقی سرکاری اداروں کے ساتھ پولیس کی کارکردگی اور عوام سے بدترین سلوک کا ناقد رہا ہوں، لیکن نئے آئی جی پنجاب نے چارج لیتے ہی ڈولفن فورس اور پیرو فورس سے متعلق جو احکامات جاری کیے، وہ قابل تعریف ہیں۔ آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان نے ڈولفن فورس اور پیرو فورس کو حکم دیا کہ وہ صرف پیٹرولنگ کریں گے اور کہیں بھی ناکہ لگاکر کسی کو چیک نہیں کریں گے۔ یاد رہے کہ ڈولفن فورس مغرب بالخصوص ترکی کی طرز پر فورس بنائی گئی تھی، جس کا مقصد صرف اور صرف پٹرولنگ تھا، لیکن بعد میں اس سے بھی روایتی پولیس والے تمام کام لئے جانے لگے، جس سے ڈولفن فورس کی افادیت بالکل ختم ہوگئی تھی۔ نئے آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان نے سڑکوں سے بے جا ناکوں کے فوری خاتمے کا حکم بھی جاری کیا اور فرمایا کہ اگر ناکہ لگانے کی ضرورت بھی ہوگی تو سب انسپکٹر سے کم عہدے کا افسر ناکے پر کھڑا نہیں ہوگا۔ آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان کے یہ احکامات بھی دل کو لگتے ہیں کہ کوئی پولیس اہلکار عوام کی بے جا تلاشی اور منہ سونگھنے جیسی حرکت کرتے پایا گیا تو اسے پولیس فورس سے فارغ کردیا جائے گا۔ کاش کہ ایسا ہوپائے۔ پچھلے ایک سال سے زیادہ عرصہ سے لاہور پولیس نے قبضہ گروپوں کے خلاف ’’زیروٹالیرنس‘‘ کا موٹو اپنا رکھا ہے، لیکن افسوس ناک حقیقت یہ کہ یہ مافیاز بہت مضبوط ہیں اور ان کے روابط تمام سرکاری اداروں (انصاف فراہم کرنے والے) سے بہت قریبی ہیں۔ سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر بھی قبضہ مافیاز کے خلاف فوری کارروائی کے احکامات جاری کرتے ہیں اور لاہور میں پچھلے ایک سال میں حفیظ بگتی نامی نوجوان ایس پی نے نہایت دلیری سے عوام کی پراپرٹیز قبضہ مافیاز سے واگزار کروائیں، لیکن پھر کیا ہوا، پہلے پنجاب کے سابق ’’منصف اعلیٰ‘‘ نے حفیظ بگتی کو روزانہ کی بنیاد پر حاضری کا پابند بنایا اور پھر حفیظ کا تبادلہ فیصل آباد کردیا گیا۔ آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان، سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر اور ڈی آئی جی آپریشن کیپٹن (ر) سہیل چوہدری سے گزارش ہے کہ حفیظ بگتی جیسے افسر کو لاہور میں دوبارہ تعینات کیا جائے کہ لاہور میں قبضہ گروپوں کا اثررسوخ بہت زیادہ ہے اور لاہور کو ایسے مجاہد پولیس افسروں کی ضرورت ہے، جو غریب عوام کی دادرسی کے لیے خود میدان عمل میں سرگرم نظر آئیں۔ کاش آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان مقدمات کے اندراج میں غیر معمولی تاخیر پر فوری نوٹس لیں اور اندراج مقدمات پر بنائے گئے غیر ضروری ایس او پیز کا خاتمہ کریں۔ آئی جی راؤ سردار علی خان نے جو ’’کمیونٹی پولیسنگ‘‘ کی بات کی، کاش وہ اس پر عمل کرسکیں اور پنجاب پولیس کو ’’کمیونٹی پولیس‘‘ میں تبدیل کر سکیں۔