24 ستمبر 2021
تازہ ترین

ہمالیہ سر ہوگا…؟ ہمالیہ سر ہوگا…؟

70 برسوں میں پاکستانی سیاست کا المیہ رہا کہ کبھی آزادانہ انداز میں سیاست نہیں ہوئی، بلکہ اشاروں، پیغام رسانی، کُہنی مار کر آگے نکلنے کی کوشش سب نے ہی کی۔ حکمراں جماعت کے مخالفین نے کئی ادوار میں تحریکیں چلائیں، لیکن اوّل تو نتیجہ نہیں نکلا اور اگر نکلا بھی تو آمریت کے نفاذ کی صورت۔ پی ڈی ایم کی تشکیل میں مولانا فضل الرحمان، بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کو ہی بہت جلدی تھی۔ انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ دوچار جلسے کرنے کے بعد حکومت اپنا بوریا بستر لپیٹ لے گی۔ سیاسی جماعتوں نے جن کے دست شفقت کی وجہ سے اقتدار حاصل کیا، اپنا کام نکلنے کے بعد غرّانے بھی لگے۔ بھٹو نے کیا کیا نہیں کیا۔ محمد خان جونیجو بھی آنکھیں دکھاتے رہے۔ نواز شریف انگلی پکڑ کر آئے، لیکن  بعد میں ’’میری سیاست میری مرضی‘‘ کرنے لگے۔ زرداری اینٹ سے اینٹ بجانے نکل کھڑے ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پی ڈی ایم ٹوٹنے کا ذمے دار پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو پیشکش بلاول کو ہوئی وہ ہمیں بھی ہوئی، ہم نے قبول نہیں کی۔ استعفوں کا آپشن پی ڈی ایم کے اعلامیے میں موجود تھا، پیپلز پارٹی ہماری بات مانتی تو آج یہ حکومت ختم ہوچکی ہوتی، ہم بہت کچھ جانتے ہیں، بہت کچھ ہمارے نوٹس میں آیا، ہم محاذ نہیں کھولنا چاہتے۔ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کسی کا نام لئے بغیر کہا کہ جب آپ میں میر جعفر اٹھیں گے تو کچھ بھی فرق پڑے گا، نام لینے کی ضرورت نہیں لوگ بہت ہوشیار، سمجھ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے اعلامیے میں استعفوں کا آپشن موجود ہے، اس کا انکار کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم دونوں اتحادی ہیں، جب مل کر کام کریں گے تو اثر ہوگا اور جب ہم تقسیم ہوجائیں گے تو اثر اور ہوگا۔   مولانا اس ’’بچوں‘‘ کے مقابلے میں بہت زیادہ تجربہ کار ہیں۔ وہ ان بچوں کے ہاتھوں میں کھلونا کیوں بن گئے۔ کیا انہیں بھی کسی بات کی جلدی تھی۔ کیا مولانا بھول گئے تھے کہ سینیٹ کے چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد کیوں ناکام ہوئی تھی؟ انہوں نے (ن) لیگ اور پی پی سے زیادہ قوت اکٹھا کی، جسے (ن) لیگ نے ’’کیش‘‘ کیا۔ مریم کو خود بھی جلدی ہے کہ (ن) لیگ کا اقتدار بحال ہو۔ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما میاں جاوید لطیف کہتے ہیں کہ نواز شریف اسی سال پاکستان آئیں گے، انہیں منتیں کرکے لایا جائے گا، جنہوں نے نواز شریف کو نااہل کیا انہیں بھی اندازہ ہوگیا کہ نواز شریف کے علاوہ کوئی آپشن نہیں، چوتھی مرتبہ وزیراعظم بننے دیں گے۔ یہ مریم نواز کی زبان ہے۔ سپریم کورٹ نے انہیں نااہل کیا ہے، لیکن مریم کو جلدی ہے اسی لئے سب ہی انہیں مطمئن کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ بلاول کو خود وزیراعظم بننے کی جلدی ہے۔ اسی جلدی نے انہیں پی ڈی ایم جیسی ابھرتی ہوئی سیاسی طاقت کو کمزور ہی نہیں، بلکہ ختم کر دیا۔ پی ڈی ایم کی کمزوری پاکستانی سیاست میں ایسا شگاف ڈالنا ہے جس کے بعد جمہوریت نام نہاد ہی رہے گی۔ اب تو بات اتنی آگے چلی گئی ہے کہ مولانا، مریم اور بلاول کو فی الحال تو ایک چھت کے نیچے نہیں بیٹھنا۔ بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں کہ (ن) لیگ کی پالیسی مزاحمت یا مفاہمت نہیں منافقت ہے، وہ کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی دوستوں پر نہیں جیالوں پر بھروسہ کرے گی۔ ایسا ہو تو بہت اچھا ہوگا، لیکن ایسا ہونا نہیں ہے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ انہیں اسٹیبلشمنٹ سے پیشکش ہوئی اور نہ وہ ایسی پیشکش کو مانتے ہیں، مولانا خود اسٹیبلشمنٹ سے رابطے میں ہیں اور ان کا اٹھنا بیٹھنا کسی کے اشاروں پر ہوتا ہے۔ یہ سیاسی رہنما تو ماضی میں ایک دوسرے کو بہت کچھ کہتے رہے ہیں۔ میر جعفر تو معمولی بات ہے، لیکن میر جعفر وہ کردار ہے، جسے آج تک غدار کی حیثیت سے اس لئے یاد کیا جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے نواب سراج الدولہ نے شکست کھائی اور ان کی شکست کے بعد انگریز برصغیر پر مکمل قابض ہوگیا تھا۔ ایوب حکومت ہو یا بھٹو حکومت، ہر ایک کے اپنے اپنے میر جعفر تھے۔ ان میر جعفروں کی وجہ سے حکومتیں ختم ہوگئیں۔ ضیاء کی موت کی ذمے داری بھی کسی میر جعفر پر عائد ہوتی ہے۔ بلاول پنجاب ’’فتح‘‘ کرنے نکلے ہیں۔ انہوں نے دو سابق وزرائے اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کو پنجاب سے اہم سیاسی و انتخابی شخصیات کو پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل کروانے کے لئے ذمے داری سونپی ہے۔ پنجاب میں کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات کچھ اور بتارہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا یہ کہنا حقیقت ہے کہ ملک میں جمہوریت نہیں، چند خاندانوں کی بادشاہت ہے، جنہوں نے سیاست کو گھر کی لونڈی بنایا ہوا ہے، ملک میں مارشل لا ہو یا جمہوریت یہ ہمیشہ اقتدار میں رہتے ہیں۔ پاکستان کے 22 کروڑ عوام کو چند خاندانوں نے غلام بنایا ہوا ہے، انہی عناصر نے ہمیں ایک امت اور قوم نہیں بننے دیا۔ عام لوگوں کو اس غلامی سے نجات دلانا ہمالیہ سر کرنے کے برابر ہوگا۔