05 دسمبر 2021
تازہ ترین

معافی نامہ… معافی نامہ…

افغانستان کے امریکی سہولت کار اور سابق صدر اشرف غنی نے اپنے بھاگنے کی وضاحت کے ساتھ قوم سے معافی بھی مانگ لی، ان کا دعویٰ ہے کہ وہ قوم کے اعلیٰ ترین مفادات میں خونریزی اور خانہ جنگی نہیں چاہتے تھے، اس لئے انہوں نے اقتدار چھوڑنے اور ملک سے جانے کا فیصلہ کیا، یہ مرحلہ یقیناً مشکل، پھر بھی اجتماعی مفادات میں انتہائی ضروری تھا، یعنی اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا، انہوں نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ 15 اگست کو غیر متوقع کابل میں طالبان کی آمد پر صدارتی محل کے سکیورٹی ذمے داروں کے مشورے پر گئے، کیونکہ خدشہ تھا 1990 کی طرح خانہ جنگی نہ شروع ہوجائے، سڑکوں پر لڑائی چھڑ جاتی، لہٰذا میں نے عوام کو خونی ہولی سے بچانے، بندوقوں کو خاموش رکھنے اور کابل کے 60 لاکھ شہریوں کی زندگی کو محفوظ بنانے کے لئے ایک مشکل ترین فیصلہ کیا، کیونکہ میں اپنے لوگوں اور نظریے کو چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا، اسی لئے میں نے 20 سال ریاستی بقا، جمہوریت اور قوم کی فلاح کے لئے وقف کیے۔ ان کا کہنا ہے کہ مناسب وقت پر قوم کو تمام تر حقیقی صورت حال سے آگاہ کروں گا، مجھ پر قوم کے لاکھوں ڈالر لے جانے کا الزام بے بنیاد ہے، میں اور میرے اتحادی اقوام متحدہ یا کسی بھی معتبر ادارے سے اپنا سرکاری آڈٹ اور معاشی تحقیقات کرانے کے لئے تیار ہیں اور ایسا ہی سابق سینئر حکام اور سیاسی شخصیات کو بھی کرنا چاہیے، میں بخوبی جانتا ہوں بدعنوانی ایسا طاعون ہے جس نے ہمارے ملک کو دہائیوں سے جکڑ رکھا ہے، بحیثیت صدر میری توجہ بھی ورثے میں ملنے والی اسی بیماری پر تھی، لیکن اسے شکست دینا آسان ہرگز نہ تھا، میں افغانوں اور خاص طور پر افغان فوجیوں کی 40سالہ قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، جنہوں نے ہر ممکن قربانی دی، لیکن افسوس کہ یہ باب بھی اسی المیے پر ختم ہوا جو ماضی کے حکمرانوں نے دیکھا اور افغانستان کو قربانیوں کے باوجود استحکام نہیں مل سکا۔
اشرف غنی نے قوم سے معافی مانگ کر شاید اپنا غم کم کرنے کی کوشش کی، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ قوم بھی ان کے گناہوں کو معاف کرے گی یا نہیں، موجودہ حالات میں تو حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ کو بھی فوری معافی مانگنی چاہیے، کیونکہ شاید اس وقت ’’عام معافی‘‘ کے اعلان میں انہیں بھی بری الذمہ قرار دے دیا جائے، اگر تاخیری حربے اور مصلحت پسندی اختیار کی گئی تو معاملہ بگڑسکتا ہے، اس لئے کہ ان دونوں شخصیات نے بھی آخری لمحات سے کچھ پہلے تک ناصرف اشرف غنی کا بھرپور ساتھ دیا، بلکہ اپنی قوم پر مفرور سابق صدر اشرف غنی سے کم ستم نہیں ڈھائے، آج طالبان پاکستان کی مدد اور برادرانہ خدمات کا اعتراف کررہے ہیں، لیکن حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ نے ہمیشہ امریکہ کی خوشنودی اور بھارت کے اشارے پر الزامات لگائے، لہٰذا انہیں افغانستان، افغان قوم کے ساتھ اپنے مخلص ہمسائے پاکستان سے بھی معافی مانگنی ہوگی، جس نے الزامات کی پروا کیے بغیر ہر مشکل دور میں اپنا اصولی موقف دہرایا کہ کابل کا امن و استحکام حقیقت میں اسلام آباد کا استحکام ہے۔
طالبان ایک حقیقت ہیں، آہستہ آہستہ وہ اپنی ریاستی گرفت بھی مضبوط کرلیں گے، جب پیچیدہ صورت حال کھلے گی تو پھر ان کا عام معافی کے اعلان پر بھی نظریہ تبدیل ہوسکتا ہے، اس لئے کہ امریکہ اور اتحادیوں نے سہولت کاروں کی مدد سے ظلم و ستم ہی ایسا کیا، جس کا حقیقی حساب تو ممکن نہیں، لیکن کسی حد تک تو کہا جاسکتا ہے، ’’پاکستان‘‘ بھی عالمی تناظر میں امریکہ کا اتحادی تھا، لیکن اس نے ہر بات نہیں مانی، کوئی تو ایسا رویہ تھا جس پر اسے ’’بار بار ڈومور‘‘ کا مطالبہ کرنا پڑا، اب دنیا کی سپرپاور کو پسپائی ہوچکی، امریکہ و اتحادیوںکی ناکامی کسی سے پوشیدہ نہیں، لہٰذا معافی ان طاقتوں کو بھی مانگنی ہوگی، یہی نہیں موجودہ امریکی صدر جوبائیڈن کو اپنی جلدبازی، بش جونیئر کو غلط فیصلے اور بارک اوباما کو سوچے سمجھے بغیر غلط حکمت عملی پر امریکیوں، اتحادیوں اور پاکستان سے اپنی غلطی اور ناحق خون بہانے پر معافی مانگنی ہوگی، تاکہ دنیا بھر میں امریکہ اور اتحادیوں کی گرتی ہوئی ساکھ کو بہتر کرکے امن و سلامتی، ترقی و خوش حالی کی فضا قائم کی جاسکے۔ امریکی حکومت کو اپنے شہریوں سے بھی ہاتھ جوڑکر معافی مانگنی ہوگی، کیونکہ اس افغان ایڈونچر پر سرمایہ کاری ان کی دولت سے کی گئی، بلکہ اپنے ’’اَن بیلنس‘‘ کو بیلنس کرنے کے لئے عوامی جمہوریہ چین سے 
قرض حاصل کیا گیا، جس کو ’’سود‘‘ کے ساتھ نئی امریکی نسل بھگتے گی، ان حالات میں شرمندہ تو پینٹاگون اورخفیہ ادارے سی آئی اے کو بھی ہونا چاہیے، جن کی منصوبہ بندی ناقص رہی اور امریکہ کو اپنے آلات حرب و ضرب چھوڑ کر افغانستان سے دوڑ لگانی پڑی، بلکہ افغانستان میں چودھراہٹ کی خواہش مند بھارتی حکومت، مودی سرکار کو بھی اپنی جَنتا اور افغان قوم کے ساتھ ہمسائے پاکستان سے بھی معافی مانگنی ہوگی۔
افغانستان میں طالبان کی واپسی اور امریکہ کے فرار سے سب سے زیادہ نقصان بھارت سرکار کا ہوا، جس کی تمام تر ذمے داری وزیراعظم مودی پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ ان کی غلط اور نامناسب حکمت عملی سے خطیر رقم افغانستان میں محض اس لئے خرچ کی گئی کہ پاکستان کے کردار کی نفی کرکے زبردستی خطے کا چیمپئن بنا جاسکے، آج بھارتی میڈیا، سیاست دانوں اور مبصرین کی چیخیں اس بات کا ثبوت ہیں، یہ چیخیںقابل توجہ ہیں، بے کار سرمایہ کاری کا الزام مودی جی پر عائد کیا جارہا ہے جب کہ امریکہ پر الزام لگ رہا ہے کہ ان کی اتحادی فوجیں جو بھاری بھر کم اسلحہ، بارود اور جدید سامان چھوڑ کر بھاگی ہیں، وہ طالبان کے استعمال میں نہیں، بلکہ پاکستان کے لئے مال غنیمت ثابت ہوگا، کیونکہ طالبان انہیں استعمال کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔ دلچسپ بات کہ ایک تجزیہ کار تو اون کیمرا روپڑا کہ کتنا غضب ہے کہ دو سو لڑاکا طیارے اور جدید ترین ہیلی کاپٹرز کسی بھی ملک کی فضائیہ کو مضبوط کرنے کے لئے کافی ہوتے ہیں۔
پاکستان نے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے لئے بین الاقوامی رائے عامہ کے انتظار کا فیصلہ کیا ہے، اگر یک دم امارات اسلامی افغانستان کو حکومت پاکستان تسلیم کرلیتی تو الزام درست مانا جاسکتا تھا، لیکن بھارت اور اس کے حکمران ہی نہیں، ان کا میڈیا بھی صورت حال پر بے پَر کی اُڑا رہا ہے، دنیا امریکی آمریت، افغانستان میں ظلم و درندگی کے بعد وہاں پُرامن اور کثیرالمقاصد مستحکم حکومت کی خواہش مند ہے، لیکن بھارت ہر صورت وہاں خانہ جنگی دیکھنے کی خواہش رکھتا ہے، جس کی راہ میں پاکستان کا مثبت کردار رکاوٹ بنا ہوا ہے، تمام ممالک اور عالمی ادارے پاکستان کی اہمیت سے واقف ہیں، اسی لئے، وزیر خارجہ اور وزیراعظم پاکستان سے رابطے میں ہیں، قطری وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے اسلام آباد میں ملاقات کرکے پاکستان کے ساتھ مل کر افغانستان میں تعمیری کردار ادا کرنے پر اتفاق کیا، اسی طرح سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم جوزف برنر نے بھی ایک اہم ملاقات آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے کرتے ہوئے غیر ملکیوں کے انخلا کے لئے پاکستان کی خدمات کو سراہا ہے، اس موقع پر پاکستان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ امن اور افغان عوام کا مستقبل مستحکم و خوش حال بنانے کے لئے عالمی شراکت داروں سے تعاون جاری رکھے گا، بلکہ مالی معاملات اور موجودہ بحران کے خاتمے کے لئے چین کے اشتراک سے امداد دے گا، لیکن موجودہ صورت حال کا تقاضاہے کہ طالبان اپنی جائز حیثیت تسلیم کرانے کے لئے محنت اور افہام و تفہیم سے کام کریں، تاکہ ان کے بارے میں غلط فہمیوں کا خاتمہ ہوسکے۔ ترکی، جرمنی، جاپان اور اسلامی ریاستوں نے بھی ملا جُلا ردّعمل ظاہر کیا ہے، امید ہے کہ طالبان اپنی حکومت کے استحکام کے لئے انتہاپسندوں سے تعلقات ختم کرکے تعاون کرنے والے ممالک سے ہاتھ ملائیں گے اور عام معافی کے اعلان پر سختی سے عمل کرکے صورت حال میں بہتری لائیں گے۔