08 دسمبر 2021
تازہ ترین

ملکی سلامتی اور نورا کشتی! ملکی سلامتی اور نورا کشتی!

انتخابی اصلاحات میں الیکٹرونک ووٹنگ مشین اور آئی ووٹنگ کو شامل کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ زندگی اور موت کا مسئلہ بنالیا گیا ہے، حکمران جماعت جیسے طے کرچکی کہ کچھ بھی ہوجائے، 2023 کے انتخابات ای وی ایم کے ذریعے ہی ہوں گے۔ وفاقی وزیر ریلوے کا جذباتی بیان ہو یا ترجمانوں کے ، اس باعث ملک کی خاموش اکثریت تشویش میں مبتلا ہوگئی ہے کہ یہ سب کیا ہورہا ہے۔ قابل غور پہلو یہ بھی کہ پارلیمان میں موجود حزب اختلاف اور پارلیمان سے باہر سیاسی و مذہبی جماعتیں ای وی ایم پر صرف لفاظی کررہی ہیں اور عملاً ایسا کچھ نہیں کیا جارہا، جس سے  اپنے تحفظات دور کراسکیں، گو پی ٹی آئی کی اتحادی جماعتوں نے موقف بدلا کہ وہ مشترکہ اجلاس میں قانون سازی ہونے کی صورت میں پہلے اپنے رہنمائوں سے مشاورت کریں گی، حالاں کہ یہ وہی قانون ہے جسے اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود حکومت اور اتحادی جماعتوں نے منظور کیا تھا، لیکن اب الیکشن کمیشن کی جانب سے غیر متوقع سٹینڈ لینے پر حزب اختلاف کو آکسیجن ملی اور حکومت شدید تنقید کی زد میں آگئی، حالاںکہ ایم کیو ایم پاکستا ن، مسلم لیگ (ق) اور گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس نے واضح کردیا تھا کہ 13ستمبر کے مشترکہ پارلیمانی اجلاس میں، صدر کی حکومت کے تین برس کی مدت مکمل ہونے کے بعد رسمی تقریر کے علاوہ کوئی دوسرا ایجنڈا نہیں، اگر آیا تو مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔ 
حزب اختلاف ای وی ایم اور آئی ووٹنگ پر اپنا جمہوری کردار ادا کررہی ہے یا نہیں، اس پر راقم نے تینوں بڑی جماعتوںسے واقف کار سنجیدہ سینئر رہنمائوں سے غیر رسمی گفتگو کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اپوزیشن جماعتیں نوراکشتی کررہی ہیں اور درپردہ وہ بھی ای وی ایم کے ذریعے الیکشن کی حامی ہیں، لیکن اوورسیز پاکستانیوں کو حق رائے دہی دینے میں انہیں تحفظات ہیں کہ انہیں شاید کم ووٹ پڑیں۔ حزب اختلاف کی جماعتیں بخوبی آگاہ ہیں کہ ای وی ایم کو چلانے والے کوئی اور نہیں بلکہ وہی لوگ ہوں گے جو ہمیشہ انہیں کسی نہ کسی طرح کامیاب یا ناکام کراتے رہے ہیں، لیکن یہاں اصل جنگ اقتدار کی ہے کہ اگلے 5 برس تحریک انصاف کو دو تہائی اکثریت کی صورت میں مزید ملنے سے ان کا سیاسی بیانیہ خطرے میں پڑسکتا ہے، موجودہ حالات میں اب حزب اختلاف کو عمران خان کی جیسی تیسی حکومت سے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ بیشتر اراکین چاہتے ہیں کہ وہ اپنی آئینی مدت بھی پوری کرلیں، لیکن اصل تحفظات یہ ہیں کہ اگر پی ٹی آئی بیساکھیوں کے بغیر دوبارہ آئی تو مخالف سیاسی جماعتوں کا بیانیہ سبوتاژ ہوسکتا ہے، ذرائع کے مطابق کوشش کی جارہی ہے کہ 2023 کے انتخابات بروقت ہونے چاہئیں، انتخابات میں تاخیر یا نظام کی تبدیلی کی افواہوں کی بازگشت پریشان کُن ہے۔
آئی ووٹنگ اور ای وی ایم اتنا بڑا ایشو نہیں، اس پر جو تحفظات اور اعتراضات ہیں، وہ سب ایک اِن کیمرا میٹنگ کی مار ہیں، اس کے بعد ملکی مفاد میں محمود و ایاز سب ایک صف میں کھڑے ہوجائیں گے، تشویش ناک صور تحال یہ ہے کہ عوام کو معاشی مرگ انبوہ کا سامنا ہے، اس کا مداوا کسی بھی جماعت اور ادارے کے پاس نہیں کہ اس سے کس طرح نمٹا جائے۔ افغانستان میں تبدیل ہوئی صورت حال کے بعد ریاستی اداروں کی مکمل توجہ ملکی سلامتی اور سازشی عناصر پر ہے، بالخصوص بھارتی وزیراعظم مودی کے 22 تا 27ستمبر دورۂ امریکہ میں صدر جوبائیڈن سے ملاقات کے بعد، پاکستان بابت کیے جانے والے فیصلے اہمیت کے حامل ہوں گے، حالاں کہ امریکہ کے اعلیٰ سطح کے حکام وزیراعظم عمران خان اور چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقاتیں کررہے ہیں، اہم ممالک کے سفارتی وفود بھی پاکستان کے دورے پر ہیں، اہم ملکوں کی قیادت سے ٹیلی فونک رابطے بھی ہوئے، لیکن امریکی صدر کی مکمل خاموشی کو بھارتی میڈیا کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت کرانے پر تلا ہوا ہے، ان حالات کا ادراک تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو بھی ہے کہ امریکہ اس وقت تو خاموش ہے، لیکن اپنی ہزیمت کا بدلہ پاکستان سے لینے کی ضرور کوشش کرے گا اور بھارت کو استعمال کرسکتا ہے۔
متعصب بھارتی میڈیا جس طرح پاکستانی ریاستی اداروں اور افغان عبوری حکومت کے خلاف یک آواز ہوکر منفی اور جھوٹا پراپیگنڈا کرکے عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہا ہے، اس کے نتائج سے پاکستان اتنا ضرور متاثر ہوا ہے کہ ایک نئے بلاک کا حصہ بن گیا جو امریکہ کی منشا کے مطابق نہیں، ان حالات کا فائدہ اٹھا کر بعض سیاسی جماعتیں اپنے لئے ریلیف حاصل کرنا چاہتی ہیں، تاکہ 2023 میں ہی سہی، لیکن انہیں اقتدار میں حصہ ملے ۔ چین ، ایران ، روس ،  قازقستان ،  تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے انٹیلی جنس چیفس کی پاکستانی حساس ادارے آئی ایس آئی کے چیف کی میزبانی میں اجلاس کا عالمی برادری نے گہری دلچسپی سے مشاہدہ کیا۔ اس کے آفٹر شاکس بھارت میں بری طرح محسوس کیے گئے، نائن الیون کے موقع پر جس طرح بھارتی میڈیا نے دشنام طرازی اور الزام تراشیوں کے ساتھ بدکلامی کے ریکارڈ توڑے، اس کی دنیا بھر میں مثال نہیں ملتی، صحافتی اقدار کو جس طرح پامال کیا گیا اور بھارتی میڈیا نے پنج شیر کی جھڑپ میں پاکستانی فوج کے خلاف جس قسم کی بے بنیاد رپورٹنگ کی، اس پر حیرت ہے کہ جھوٹ کا پردہ فاش ہونے کے باوجود ’’میں نہ مانوں‘‘ کی ضد لئے، کس طرح اخلاقیات کو پامال کرکے چانکیہ سیاست اور آر ایس ایس کے نازی نظریے کا ترجمان بنا ہوا ہے۔
ای وی ایم اور آئی ووٹنگ اتنا بڑا مسئلہ نہیں، جتنا رائی کا پہاڑ بنایا جارہا ہے، الیکشن کمیشن کا اس وقت جو کردار ہے، اس پر عدم برداشت کی پالیسی کو اپناکر انتخابات کو پہلے ہی سے متنازع بنادیا، مملکت کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ حزب اقتدار، اختلاف اور عوام کو ایک صفحے پر رہ کر کرنے کی ضرورت زیادہ ہے، درحقیقت یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے نازک موڑ ہے، ملکی سلامتی پل صراط پر ہے اور بعض سیاسی جماعتیں فروعی مفادات کے لئے اُس کھیل کا حصہ بنتی جارہی ہیں، جس کے خطرناک نتائج سب کو بھگتنا ہوں گے۔ سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ ملک میں ہر الیکشن میں جس قسم کی دھاندلی ہوتی رہی ہے، اس کا سلسلہ جاری و ساری رہے گا۔ چاہے ای وی ایم ہو یا نہ ہو۔