24 ستمبر 2021
تازہ ترین

 پولیس، جرائم اور وسائل پولیس، جرائم اور وسائل

چند دن پہلے کی بات ہے کہ ہمارے ایک قریبی عزیز اپنی اہلیہ کے ساتھ دعوت پر گئے تھے۔ واپسی پر انہیں نامعلوم نمبر سے کال آئی اور جب انہوں نے فون اٹھایا تو پتا چلا، ان کا دوست بات کررہا ہے، جو لاہور سے باہر رہتا ہے۔ ان کے دوست نے انہیں بتایا کہ اس کی والدہ کو دل کا دورہ پڑا ہے اور اسے 25 ہزار روپے کی ضرورت ہے۔ ہمارے عزیز نے رکشہ رکواکر اسے فوراً 25 ہزار روپے جاز کیش کے ذریعے بھیج دئیے۔ ابھی وہ میاں بیوی اسی پریشانی کی حالت میں گھر پہنچے ہی تھے تو اس نمبر سے دوبارہ کال آگئی۔ اس بار اس نے ادویہ خریدنے کے لئے 20 ہزار روپے مانگے۔ ہمارے عزیز نے انہیں پھر سے 25 ہزار روپے بھیج دئیے۔ جب انہوں نے واپس اپنے دوست کو کال کی تو اس کا نمبر بند ملا۔ خیر وہ رات کو اس کی والدہ کے لئے دعا کرکے سوگئے کہ دوبارہ صبح 9 بجے اسی نمبر سے کال آئی اور اس بار اس نے کہا کہ میں رات کو دوا لینے نکلا تو مجھے پولیس نے پکڑلیا اور ساری رات جیل میں بند رکھا، بڑی مشکل سے میں نے ان سے فون مانگا ہے، یہ لوگ میری رہائی کے لئے 20 ہزار روپے مانگ رہے ہیں، ابھی اس بندے نے یہ بات کی ہی تھی کہ اچانک محسوس ہوا کہ کسی دوسرے بندے نے آکر اس سے فون چھینا اور مارنا شروع کردیا۔ وہ دوسرا بندہ خود کو اس تھانے کا ایس ایچ او بتاتا اور کہتا ہے کہ آپ کے بندے نے رات کو لڑکی کو چھیڑا ہے، اب اگر آپ چاہتے ہیں کہ اس کی جان چُھوٹ جائے تو 20 ہزار روپے فوراً بھیج دیں۔ اس سارے مکالمے کے دوران ان کو ان کے دوست کی رونے اور چلاّنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ انہوں نے دوبارہ باہر جاکر اس نمبر پر20 ہزار روپے بھیج دئیے۔ ہمارے عزیز دوپہر دو بجے اپنے دفتر روانہ ہوئے اور سوچا جاتے ساتھ میں اپنے کولیگ کی خیریت دریافت کروں گا۔ جب وہ دفتر پہنچے تو انہوں نے اپنے دوست کو آرام سے کرسی پر بیٹھے ہوئے پایا۔ جب انہوں نے ان کی والدہ کی طبیعت کے بارے میں دریافت کیا تو آگے سے جواب ملا کہ وہ تو بالکل ٹھیک ہیں، انہیں کیا ہوا؟ جب ہمارے جاننے والے نے انہیں ساری بات بتائی تو اس نے کہا، آپ کے ساتھ فراڈ ہوگیا ہے۔ یہ سن کر ان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہاں دفتر میں سب نے ان کو مشورہ دیا کہ آپ ایف آئی اے سائبر کرائم کے دفتر چلے جائیں، وہ اسی وقت گلبرگ پہنچ گئے۔ جب وہ وہاں پہنچے تو کسی نے ان کی کوئی بات نہیں سنی اور اسی دوران شام کے پانچ بج گئے اور انہیں سپاہی نے کہا، اب کل آنا۔ اب اگلے دن وہ صبح گیارہ بجے سائبر کرائم کے تھانے دوبارہ پہنچ گئے۔ وہاں پھر وہی کام ہوا، جو ان کے ساتھ پچھلے دن ہوا تھا۔ ایک بجے تک ان کی شکایت بھی درج نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے کسی کو کہہ کر کال کروائی اور پھر آفیسر نے انہیں اپنے کمرے میں بلایا اور کہا، یہ ہمارا کیس نہیں، آپ اپنے علاقے کے تھانے میں شکایت درج کرائیں۔ اب وہ جب متعلقہ تھانے میں پہنچے تو پولیس نے بھی کیس لینے سے انکار کردیا۔ پہلے تو انہوں نے بڑا مذاق اڑایا، پھر کہا کہ یہ ایف آئی اے کا کیس ہے، ان کے پاس جاؤ، یعنی وہ فٹ بال کی طرح مختلف تھانوں میں گھومتے رہے اور پھر وہی ہوا کہ کسی بڑے آدمی سے واقفیت نکال کر سفارش کرانے کا سوچا اور سفارش کام آگئی اور پرچہ لکھا گیا۔ مضحکہ خیز بات کہ پرچہ درج کرنے کے بعد اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ یوں لگا جیسے کیس سردخانے کی نذر کردیا گیا ہے۔ لمبے عرصے تک چکر لگانے اور پولیس کی بے حسی دیکھ کر ایک بار پھر تگڑی سفارش کرائی تو مشکل سے کچھ ہل جل شروع ہوئی، یہ ایک ایسا کیس تھا، جس میں بروقت کارروائی کرکے ناصرف مجرموں بلکہ پورے گینگ کو پکڑا جاسکتا تھا۔ میڈیا میں خبریں عام ہیں اور خود پولیس والے بتاتے ہیں کہ ان دنوں لوگوں کو اس طرح کے فون کرکے لوٹنے والے کئی گینگ متحرک ہیں۔ کمال ہے جب ان کو پکڑنے کا موقع آتا ہے تو پولیس اور متعلقہ ادارہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ جرائم میں اضافے کی خبریں ان دنوں عام ہوگئی ہیں۔ شاید ہی کوئی دن جاتا ہو جب آپ کو کسی گلی، محلے، شہر سے کوئی ایسی اطلاع نہ ملتی ہو کہ کسی کے ساتھ کوئی واردات ہوگئی ہے۔ اس کی ویسے تو کئی وجوہ ہوسکتی ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا غیر فعال ہونا ہے۔ ویسے تو جب اعلیٰ حکام نے ہی اپنے فرائض بخوبی سرانجام نہیں دینے تو ان سے کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ پولیس والے کام کرنے کو تیار ہیں نہ ہی ایف آئی اے متحرک نظر آتا ہے۔ سائبر کرائم کی آڑ لے کر سائلین کو خوار کیا جاتا ہے۔ حکومت کو بھی ہوش نہیں کہ کہاں کتنے فنڈز درکار ہیں اور محکموں کی کارکردگی کیوں متاثر ہورہی ہے۔ جب بھی کسی پولیس آفیسر کو ملیں تو وہ آگے سے یہی کہتا ہے کہ ہمارے پاس فنڈز نہیں، اسی لئے ہم محدود وسائل کا استعمال کرتے ہوئے کام کرتے ہیں۔ پچھلے سال پیش آنے والے سانحہ موٹروے کے بعد جب ڈی این اے ٹیسٹ ہونا تھے تو تب بھی فرانزک لیب پنجاب کے پاس فنڈز نہیں تھے۔ ڈولفن فورس کو بنانے کا صرف ایک ہی مقصد تھا کہ ان کے ہونے سے سٹریٹ کرائم میں بہت حد تک کمی آئے گی۔ یہ بھی سچ ہے کہ شروع کے دنوں میں ان کی کارکردگی قابل تعریف تھی، لیکن اب شکایات ہیں کہ یعنی اہلکار دھونس جماکر لوگوں سے پیسے مانگتے ہیں۔ یہ لوگ سڑک کنارے اپنی بائیکس لگاکر آنے جانے والے موٹر سائیکل سواروں کو روکتے ہیں اور ان پر کوئی نہ کوئی الزام تھوپ کر پیسے مانگتے ہیں۔ حکومت کے لئے بہتر ہوگا کہ پولیس اصلاحات کا ڈرامہ چھوڑ کر پہلے سے ہی موجود قوانین پر صحیح طرح عمل درآمد کرالیا جائے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوبہ فنڈز صحیح وقت پر فراہم کیے جائیں، تاکہ امن وامان کے قیام کے حوالے سے کسی قسم کا عذر تراشنے کا جواز باقی نہ رہے۔