24 ستمبر 2021
تازہ ترین

 عارف نظامی بھی چلے گئے عارف نظامی بھی چلے گئے

 21 جولائی 2021 کو پاکستانی صحافت کی بڑی شخصیت، صحافت میں موقر مقام کے حامل اور معتبر صحافتی خاندان کی سینئر نسل کے آخری نمائندے عارف نظامی قلیل علالت کے بعد خالق حقیقی سے جاملے، ان کے بھتیجے بابر نظامی کے مطابق انہیں دل کے شدید عارضے کی بناء پر دو ہفتے قبل لاہور کے نجی ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ اخبارات جہاں ایک طرف صحافت اور ابلاغ کے مخزن و مراکز ہوا کرتے ہیں، وہیں وہ ایک صنعت کے طور پر بھی کام کررہے ہوتے ہیں۔ ان میڈیا ہاؤسز کی کاروباری اور مالیاتی اہمیت و حیثیت کی وجہ سے ان کی ادارت، ملکیت اور شائع کیے جانے کے حقوق کا حصول یا ان کا چھن جانا بھی جہاں صحافتی حوالے سے اہم ہوتا ہے، وہیں مالی اعتبار سے بھی اہم ہوتا ہے۔ اس حوالے سے وراثت اور ملکیت کے مسائل بھی اس اخباری صنعت سے جڑجاتے ہیں۔ تحریک پاکستان کے عروج کے زمانے میں اُس وقت کے مسلم لیگ (یوتھ) کے سرگرم قائد اور نامور صحافی حمید نظامی مرحوم نے مارچ 1940 کے ایک تاریخ ساز دن کے موقع پر نوائے وقت شائع کیا تو اس اخبار کی مسلمانان برصغیر پاک و ہند میں ایک صحافتی و سیاسی اہمیت تھی، اسی بناء پر اس کی مالی اہمیت بھی بعید ازقیاس نہیں۔ 22 فروری 1962 کو 45 سال کی عمر میں حمید نظامی اللہ کو پیارے ہوئے تو اُس وقت ان کے بیٹے عارف نظامی 14 سال کے تھے جب کہ ان کے چھوٹے بھائی مجید نظامی لندن میں ناصرف تعلیم حاصل کررہے تھے، بلکہ وہاں صحافت کے میدان میں عملاً حصہ لے چکے تھے۔ حمید نظامی کی جلد رحلت کے بعد ان کے مذکورہ ادارے کی ملکیت اور حقوق ادارت کا مسئلہ پیدا ہونا بھی فطری امر تھا۔ چند ماہ بیگم حمید نظامی نے اس اخبار کی اشاعت و طباعت کی نگرانی کی، مگر بالآخر مجید نظامی نے تمام تر ذمے داریاں سنبھال لیں۔ اس خاندان کی اعلیٰ صحافتی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ یہ لوگ ہر دور میں ہی قابل فخر اور قابل تقلید صحافتی کردار کی بناء پر زیادہ زیر بحث اور زیر مطالعہ و مشاہدہ رہے ہیں۔ عارف نظامی نے صحافت کا آغاز اپنے والد حمید نظامی کے متذکرہ اخبار کے لئے رپورٹنگ سے کیا۔ بعدازاں انہوں نے کئی دہائیوں تک اپنی ساری زندگی میں اردو اور انگریزی صحافت میں خدمات سرانجام دیں۔ وہ 14 اکتوبر 1948کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ایک مشنری انگریزی سکول سے حاصل کی اور گریجویشن گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے شعبۂ صحافت سے ایم اے جرنلزم کیا۔ بعدازاں ایک امریکی تعلیمی ادارے سے جرنلزم میں ڈپلومہ حاصل کیا۔ گو انہیں صحافت وراثت میں ملی تھی مگر انہوں نے اپنی محنت اور ہمت سے اس شعبے میں اپنا باوقار مقام پیدا کیا۔ انہوں نے جونیئر رپورٹر کے طور پر عملی صحافت میں کام شروع کیا اور پھر ترقی کرتے کرتے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے عہدے تک پہنچے۔ بعدازاں وہ اسی اپنے وراثتی ادارے کے زیر انتظام ایک انگریزی اخبار کے ایڈیٹر بھی رہے۔ بعدازاں 2010 میں وہ اپنے چچا مجید نظامی سے اختلافات کے باعث اس انگریزی اخبار کی ادارت سے الگ ہوگئے اور اپنے ذاتی وسائل کے ساتھ ایک چھوٹے انگریزی اخبار کی بنیاد رکھی اور ایک نجی ٹی وی چینل میں تجزیہ کار کی حیثیت سے بھی اور ایک اخبار میں کالم نگاری کے حوالے سے بھی اپنی صحافتی عظمت اور مہارت کا لوہا منواتے رہے۔ عارف نظامی مرحوم پاکستان میں اخبارات کے مدیروں کی ایک تنظیم کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای) اور آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) کے صدر بھی رہے۔ 2013 میں چند ماہ کے لئے وہ نگراں وفاقی وزیر برائے اطلاعات و پوسٹل سروسز کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ وہ ایک ورکنگ ایڈیٹر بھی تھے اور ان کے پاس کارکن اور ایک مالک کی حیثیت سے کام کرنے کا تجربہ بھی تھا، وہ اپنے ساتھی کارکنوں کے لئے ہمدردی اور قربت کا جذبہ بھی رکھتے تھے مگر طاقت وروں کے لئے ان کا رویہ ہمیشہ سخت اور بے باک رہا۔ خبروں کو محسوس کرنے اور ان کا سراغ لگانے کی موثر صلاحیت رکھتے تھے، وہ اس بناء پر ہر سخت ترین اور صحافت پر پابندیوں کے دور میں بھی اپنے انداز صحافت کی بنیاد پر اہم اور مؤقر رہے۔ جب صحافی عموماً ماضی اور حال کی خبر دے کر مشکل میں پھنس جاتے ہیں، اس دور میں ماضی اور حال کے تجزیے کے بعد مستقبل کی خبر پیش گوئی کے انداز میں دے کر وہ شعبہ صحافت میں بازی لے جاتے اور صحافیوں کا احتساب کرنے والی طاقتوں کو ورطہ حیرت میں بھی اسی طرح ڈال دیتے تھے کہ ان کو اپنی پڑجاتی تھی۔ مثلاً انہوں نے سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور میں یہ خبر دی تھی کہ ’’کل صدر پاکستان سردار فاروق احمد خان لغاری قومی اسمبلی توڑ دیں گے‘‘ تو محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری ششدر رہ گئے تھے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے لیکن دوسرے روز ایسا ہی ہوا۔ انہوں نے موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد ایک دور میں جب کہ حکومت آئی ایم ایف سے قرض لینے سے متعلق سوچ بچار کررہی تھی تو یہ پیش گوئی کی تھی کہ آئی ایم ایف میں جانے کے بعد عمران خان اسد عمر کو وزارت خزانہ سے علیحدہ کردیں گے جو بعدازاں سچ ثابت ہوگیا تھا۔ ایک دور میں جب کہ ملک میں اہل صحافت میں دائیں اور بائیں بازو کی سیاست اور نظریات کے حوالے سے گروہ بندی ہوا کرتی تھی، اُس زمانے میں بھی عارف نظامی اپنے چچا مجید نظامی کی طرح نہ تو روایتی طور پر رائٹسٹ شمار ہوتے تھے اورنہ ہی اس گروپ کے خلاف روایتی لیفٹسٹ نظر آئے۔ وہ شروع سے لے کر آخر تک پاکستانیت اور مثبت صحافت کے لئے کام کرتے نظر آتے رہے۔ وہ روایتی سنسنی خیزی کو قطعاً ناپسند کرتے تھے جب کہ خبر کے معاملے میں نہ تو دوستوں کی پروا کرتے اور نہ دشمنوں کی تذلیل کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ صرف سچی خبر کی فراہمی پر ہی اکتفا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ اچھی اور سچی خبروں کی تلاش میں رہتے اور ہمیشہ پروفیشنل حدود میں رہتے ہوئے ہی صحافتی فرائض کی انجام دہی کو ترجیح دیتے۔ آج جب وہ اس دنیا میں نہیں تو ان کے کریڈٹ پر صرف سچی خبریں، بے لاگ تجزیات اور سچ ثابت ہوجانے والی پیش گوئیاں ہی موجود ہیں۔ بے باک اور مثبت صحافت کے علمبردار عارف نظامی کی شعبۂ صحافت میں قابلیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب وہ پنجاب یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے تو ساتھ ساتھ پڑھاتے بھی تھے۔ وہ اس ادارے کے طالب علم ہونے کے ساتھ اس کے بورڈ آف سٹڈیز کے رکن بھی رہے۔ اس ادارے میں اسی نسبت سے ان کی یاد میں ایک تعزیتی ریفرنس پیش کیے جانے کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ صدر مملکت عارف علوی، وزیراعظم عمران خان، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری، وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان سمیت ملک کی اعلیٰ ترین سیاسی، سماجی اور صحافتی شخصیات نے عارف نظامی کی وفات پر انتہائی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کی اعلیٰ صحافتی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ پاکستان کے میڈیا ایڈیٹرز میں بھی عارف نظامی کا نمایاں مقام تھا۔ راقم الحروف سے بھی ان کی پرانی شناسائی اور ادب واحترام کا تعلق تھا۔ انہوں نے آزاد صحافت، انسانی حقوق اور جمہوری اداروں کے خلاف ہونے والے اقدامات کے خلاف ہر دور میں، ہر فورم پر اور اپنے قلم اور اپنے تجزیات میں بلند آہنگ میں آواز اٹھائی۔ گو اکثر انہیں نقصان برداشت کرنا پڑے مگر کبھی بھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ صحافت پر مرئی اور غیر مرئی پابندیوں کے خلاف ان کی آواز مؤثر آواز ہوا کرتی تھی۔ عارف نظامی کی نماز جنازہ جامع مسجد اللہ اکبر ڈیفنس ای بلاک لاہور میں ادا کی گئی جب کہ قبرستان میانی صاحب میں جہاں ان کے والد گرامی مدفون ہیں، ان کو سپرد خاک کیا گیا۔ مرحوم نے سوگواران میں بیوہ، تین بیٹے علی نظامی، اسد نظامی اور یوسف نظامی چھوڑے ہیں۔ ان کی خدمات کو ملکی صحافت میں اچھے لفظوں کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔