24 ستمبر 2021
تازہ ترین

 قلم کی طاقت؟ قلم کی طاقت؟

صحافیوں پر حملے ناصرف افسوس ناک بلکہ ان کی جتنی بھی مذمت کی جائے، کم ہے۔ یہاں تحمل، رواداری، برداشت جیسے سنہری اصول اب صرف کتابوں اور بولنے کی حد تک رہ گئے ہیں، اختلاف رائے کی گنجائش ختم ہوچکی، میڈیا کی تقسیم بھی کھل کر سامنے آرہی ہے، اس سوال پر غور بھی میڈیا کو ہی کرنا ہے کہ کیا وہ اس ضمن میں کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے کہ وہ معاشرے کو ایجوکیٹ کرتے ہوئے تحمل، رواداری، برداشت اور دلیل کی قوت کے فروغ کے لئے کام کرتے ہوئے صحیح رُخ دکھائے، تاکہ آئندہ کسی اور صحافی پر حملہ نہ ہو اور خبر بنانے والے خود خبر نہ بن سکیں۔ بکھرے ہوئے پاکستانی میڈیا کے جغادریوں کو اپنے ضمیر کے کٹہرے میں کھڑے ہوکر خوداحتسابی کے عمل سے گزرتے ہوئے سوچنا چاہیے کہ آج عوام و خواص ہمارے بارے میں جو رائے رکھتے ہیں، وہ کتنی مثبت ہے اور اگر ایسا ہے تو کیوں اور اسے کیسے بہتر بنایا جاسکتا ہے؟ اور کیا ہم نے اپنا وہ فرض ادا کیا جو بطور صحافی، لکھاری یا دانشور ہمیں تاریخ نے دیا اور کیا ہم نے معاشرے کو تقسیم در تقسیم ہونے سے بچانے اور ایک دوسر ے کے احترام اور حقوق کے تحفظ کے لئے کوئی مثبت کردار ادا کیا؟ اس سوال کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے، کیونکہ پورے نظام انصاف کی بنیاد اس سوال پر ہی کھڑی ہے کہ کیا بغیر تحقیق یا ثبوت کے کسی بھی شخص یا ادارے پر الزام لگانا درست عمل ہے اور الزام لگانے والا اگر اسے ثابت نہ کرسکے تو اس کی سزا کا بھی تعین ہونا چاہیے، جب تک ایسا نہ کیا گیا یعنی جھوٹا الزام لگانے والے پر قانون کی گرفت نہ کی گئی تو پاکستان میں انسانی عزت و شرف یوں ہی رُسوا ہوتا رہے گا۔ آپ جیلوں میں بند افراد کی تحقیق تو کیجیے، اندازہ ہوگا کہ جیلوں میں اکثر افراد جھوٹے الزامات کے تحت ہی بند ہیں اور بعض کیسوں میں تو ان کی زندگی اجیرن ہوچکی جب کہ ان کے خاندانوں، بیوی بچوں کے ساتھ ان کی عدم موجودگی میں کیا ہوتا ہے، اس کا بھی کسی کو علم ہے؟، دنیا بھر میں اصول تو یہی ہے کہ جو الزام لگائے، ثابت بھی اسے ہی کرنا چاہیے جب کہ پاکستان میں متاثرہ شخص پر ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ لگائے گئے الزام میں خود کو کلیئر کرائے، یہیں سے کسی بھی شخص کے ساتھ ناانصافی شروع ہوتی ہے، جس سے کئی زندگیاں تباہ اور اداروں کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ میڈیا کی آزادی اپنی جگہ مگر آزادی حاصل کرنے کی خواہش میں ’’خبروں سے آگے‘‘ اور ’’فوری خبر‘‘، ’’اندر کی بات‘‘ جیسی مہم جوئی نے کئی گھرانوں کو تباہ اور معاشرے کو انتشار کا شکار کردیا ہے۔ اخلاقیات جیسے الفاظ قصے کہانیوں میں ہی رہ گئے ہیں، عملاً ہم دیکھتے ہیں کہ انسانی قدریں، انسانیت کا احترام اور معاشرتی قدریں ہماری مہم جوئی یا سب سے آگے بڑھنے کے جنون کی آگ میں جلتی جارہی ہیں۔ ہم لوگ خود کو سماج سدھار کا ٹھیکیدار سمجھتے ہیں جب کہ ہم اپنے افعال و کردار پر نظر ڈالنے کے لئے تیار نہیں۔ ہم دعویدار ہیں کہ ہم لوگوں کو اپنے لفظوں کے ذریعے روحانی غذا فراہم کرتے ہیں، لیکن ہم الفاظ کا استعمال کرتے وقت کبھی یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے لفظوں سے کس قدر آلودگی پھیلارہے اور ہمارا معاشرہ اس سے ہ متاثر ہورہا ہے جس طرح دوسری آلودگیوں سے، ہم اپنے ’’قلم کی طاقت‘‘ سے کسی کا بھی دامن تار تار کردیں، کسی کی بھی عزت اچھال دیں، کسی حادثے کا شکار ہونے والے فرد کو قبل ازوقت مُردہ قرار دے دیں، اسے ہم صحافت کی آزادی ٹھہراتے ہیں، جو ہمارے برے افعال کی نشان دہی کرنے کی جرأت کربیٹھے، ہم سب متحد ہو کر اس کا جینا حرام ہی نہیں کردیتے بلکہ اس کی گزری اور آنے والی نسلوں تک کے بخیے اُدھیڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ جہاں یہ سچ ہے کہ سماج میں رونما ہونے والا کوئی بھی واقعہ معاشرے تک من وعن پہنچانے کی ذمے داری ہم اپنی سمجھتے ہیں، وہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ اس ذمے داری کو نبھاتے وقت ہم یہ فرض بھی نبھائیں کہ جو خبر یا تجزیہ ہم پیش کرنے جارہے ہیں، اس کے حقائق کو ہی جان لیں۔ ہمارا ایک المیہ یہ بھی کہ ہمارے میڈیا کے ایک موثر حصے پر اس وقت ایسے طبقے کی اجارہ داری ہے جو صحافتی ضابطۂ اخلاق اور اس کے تقدس سے ناصرف ناواقف، بلکہ وہ ان خوبصورت روایات اور تعلیمات کو بھی پس پشت ڈال رہا ہے، جن کا وقت ہم سے تقاضا کرتا ہے۔ بس خبر چاہیے چاہے وہ کسی کی موت کی ہو، کسی خاتون کی عصمت دری کی یا بم بلاسٹ میں لوتھڑوں میں بدلنے والے انسانوں کی، ہم سب سے پہلے اپنے اخبار اور چینل پر خبر نشر کرنے کے جنون میں صحافتی اخلاقیات کو مدنظر رکھتے اور نہ اس خبر کی باقاعدہ یا باضابطہ تصدیق کے چکروں میں پڑتے ہیں، ہمیں تو خبر نشر کرنی ہے، خواہ وہ بعد میں جھوٹی ہی ثابت ہو، لیکن جھوٹی خبر نشر اور شائع کرنے کے بعد پتا چلے کہ یہ جھوٹی تھی تو ہم اس کی تردید شائع کرنے میں بھی تامل کرتے ہیں اور اگر کوئی چینل یا اخبار تردید کرنے کی ’’اخلاقی جرأت‘‘ کرتا بھی ہے تو اسے اس طرح شائع یا نشر کیا جاتا ہے کہ وہ کسی کو نظر ہی نہیں آتی، حالانکہ جو خبر ایک مرتبہ شائع یا نشر ہوگئی، اس سے متاثر ہونے والوں کا بھی یہ حق ہے کہ ان کی جو دل آزاری یا نقصان ہوا، اس کا کسی نہ کسی طریقے سے ازالہ ہوسکے، لیکن ابھی ہم اعلیٰ ظرفی اور اس خوبصورتی سے دُور ہیں، جس کا وقت تقاضا کرتا ہے۔ ہم قرآنی تعلیمات پر بھی سرسری سی نظر ڈال کر آگے گزر جاتے ہیں، حالانکہ وہاں سے انسانوں کی رہنمائی کے لئے جو تعلیم ملتی ہے، اس میں جابجا یہ کہا گیا ہے کہ بغیر تحقیق و تصدیق کیے کسی بات کو آگے نہ پھیلاؤ، کیونکہ اس سے معاشرے میں خرابیاں پیدا ہونے کے ساتھ معاشرہ عدم توازن کا بھی شکار ہوتا ہے، لیکن ہمارے یہاں تحقیق اور تصدیق کے بکھیڑوں میں پڑنے کی روایت ہی نہیں رہی، یہاں یہ سوال پھر بھی اپنی حقیقی ساخت میں ہمیشہ موجود رہے گا کہ کیا اسے آزادی صحافت کا نام دیا جاسکتا ہے؟ اور کیا اس طرح کی حرکتیں صحافتی اخلاقیات کے کسی ادنیٰ سے اصول پر بھی پورا اترتی ہیں؟ ذرا اس بات کا اندازہ لگائیے کہ ایک ماں جو خود بھی بیمار ہو اور اپنے بیٹے سے محبت بھی بے انتہا کرتی ہو، وہ جب ٹی وی چینل پر اپنے بیٹے کے بارے میں کوئی بری خبر چلتی دیکھ لے تو اس کی کیا حالت ہوتی ہوگی، یا دیگر اہل خانہ جن میں اولاد، بیوی، بہنیں اور دیگر رشتہ دار وہ تو سکتے میں آسکتے ہیں اور خدانخواستہ کوئی حادثہ بھی ہوسکتا ہے، جو اکثر ہم اخبارات ہی میں پڑھتے ہیں کہ کسی جھوٹی اطلاع سے کسی کی جان چلی گئی۔ بہرحال صحافت اگر آزاد ہے تو اسے مادر پدر ایسی آزاد صحافت نہ بنایا جائے، جو کسی اصول و ضابطے کے تابع نہ ہو، صحافتی اخلاقیات اور انسانی قدروں کا پاس رکھنا ایک صحافی کی ذمے داری ہے، جسے نبھانے کے لئے کئی صحافیوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں، ایسے ہی صحافیوں سے صحافت کی آبرو قائم ہے، ورنہ آج کے غیر تربیت یافتہ اور خبروں کے پیچھے کیمرے لے کر بھاگتے نوآموز لڑکوں نے تو صحافت کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیا ہے۔ اخبارات کے ایڈیٹر صاحبان اور ٹی وی چینلز کے نیوز ڈائریکٹر، ایڈیٹر اور دیگر ذمے داران کی یہ ذمے داری ہی نہیں بلکہ ان کی اعلیٰ تربیت کا بھی یہ تقاضا ہے کہ وہ اپنے زیر سایہ کام کرنے والے نوآموز رپورٹروں کی تربیت اس طرح کریں جیسی ان کی اپنی ہوئی ہے اور صحافت کو مقدس پیشہ بنانے میں قلم کی حرمت کا احساس دلائیں، جس کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ بغیر تحقیق اور تصدیق کے کوئی خبر، کوئی رپورٹ شائع کی جائے اور نہ نشر۔ یہ ہم سب کا فرض بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔