24 ستمبر 2021
تازہ ترین

 ہم کون لوگ ہیں؟ ہم کون لوگ ہیں؟

پاکستان غالباً دنیا کے ان گنے چنے ممالک میں سے ایک ہے، جہاں کھانے پینے کی چیزوں میں ہر قسم کی ملاوٹ کی جاتی ہے۔ ان چیزوں کی فہرست طویل ہے اور ان میں ملائی جانے والی اشیاء نہایت ہی خطرناک ہیں۔ کسی زمانے میں پاکستان بھر میں چائے کی پتی کھلی دستیاب ہوتی تھی اور عوام کی اکثریت وہ خریدا کرتی تھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ کمپنیوں کی پیکنگ والی پتی زیادہ بکنے لگی اور عوام کو اوّل تو پتی مہنگی ملنے لگی، دوسرے اس کے پیکنگ میں ہونے سے اس کی کوالٹی تب ہی معلوم ہوتی تھی جب اس کو کھولا جاتا تھا۔ آج صورت حال مختلف ہے اور ہم پیکنگ والی پتی خریدنے پر مجبور ہیں، جس کا ذائقہ اور کوالٹی صاف بتاتی ہے کہ یہ اصل چائے ہرگز نہیں۔ سننے میں آیا ہے کہ چائے میں چنے کے چھلکے ملاکر اسے رنگ کیا جاتا ہے۔ پاکستان سے باہر جب جائیں اور چائے پئیں تو اس کی تازگی، خوشبو اور تیزی دماغ کو ناصرف معطر کردیتی بلکہ ایسا معلوم پڑتا ہے کہ اسے پینے سے تھکن کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ یورپ اور مڈل ایسٹ کے مختلف ممالک میں چائے میں دودھ کم ہی ملایا جاتا ہے اور بلیک چائے ہی پی جاتی ہے۔ اسی طرح یورپ میں جو کافی پی جاتی ہے، اس کے ذائقے اور تازگی کا تصور بھی پاکستان میں محال ہے۔ معاملہ پھر وہی ہے، مختلف برانڈز کی خوش نما پیکنگ میں بند غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ کافی کی دستیابی۔ گو اِن پیک اشیاء کے معیار کو چیک کرنا حکومتوں کی ذمے داری ہے، لیکن جب اکثریت ہی غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ اشیاء پیک کرنے لگے تو پھر حکومتیں بھی انہیں پکڑنے میں کامیاب نہیں ہوسکتیں۔ ماضی میں آٹا، مرچیں اور مسالہ جات کھلے ملا کرتے تھے، آٹے کی چکی پر آٹا پیسا جاتا اور لوگ وہاں سے ہی ناصرف آٹا خریدتے بلکہ اپنی گندم دے کر آٹا پیسنے کو دیتے ۔ اسی طرح سرخ مرچیں، ہلدی اور بیسن وغیرہ بھی سرعام پنساری پیستے تھے۔ مجھے آج بھی اپنے بچپن میں نانا کے گھر کے قریب وہ دُکان دار یاد  ہے جو اپنے منہ پر بڑا سا رومال باندھ کر سرخ مرچیں پیسا کرتا تھا اورپیسنے کے عمل کے دوران اس کی دکان اور باہر کا کچھ حصہ سرخ رنگ سے اٹا ہوا کرتا تھا۔ آٹا، مرچوں اور مسالہ جات کے اس طرح پیسنے کے عمل میں کافی حد تک شفافیت اور ملاوٹ کرنا بھی مشکل تھا۔ پاکستان بلکہ دنیا بھر میں دودھ کا استعمال بہت زیادہ ہے اور بچوں سے لے کر بزرگوں تک اس کا استعمال طاقت اور غذائیت کا سبب ہے۔  80 کی دہائی تک لوگ اپنے برتن لے کر گوالوں کے پاس جاتے اور گوالے ان کے سامنے گائے بھینس کا دودھ دھوتے تھے، لوگ اس بہترین دودھ کو استعمال کرتے تھے۔ اگر اس وقت لوگوں کو شکایت ہوتی تھی تو وہ کم تول کی یا پھر دودھ کی کم یابی کی ہوا کرتی تھی۔ اس کے بعد گھر گھر دودھ سپلائی کرنے والوں کی بہتات ہوئی اور اس میں پانی کی ملاوٹ کی شکایتیں آنے لگیں۔ پھر دودھ سے کریم نکالی جانے لگی اور پھر تو اندھیر ہی ہوگیا اور دودھ کی جگہ کیمیکل ملایا جانے لگا اور اب بھی وہ دور ہے کہ ایک ایک لیٹر کیمیکل سے 1000 لیٹر دودھ تیار کیا جاسکتا ہے اور مجھے یقین ہے کہ جس اخلاقی پستی کا ہم شکار ہیں، یہ کام نہایت تیزی سے اب بھی کیا اور عوام کو زہر پلایا جارہا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ گائے بھینسوں کو انجکشن لگانے کا طریقہ بھی ایجاد کرلیا گیا، جس سے قدرتی دودھ گائے بھینس کے تھنوں تک پہنچنے سے پہلے ہی ملاوٹ اور کیمیکلز کا شکار ہوجاتا ہے اور اپنے سامنے دودھ دھوانے کا بھی اب کوئی فائدہ نہیں رہا۔ لاہور میں کسان بورڈ کے تحت ھلہ ملک کا ایک پلانٹ تھا، جسے ڈاکٹر ظفر الطاف مرحوم نفع و نقصان کے بغیر چلارہے تھے۔ سستا اور معیاری دودھ عوام کو جہاں سے دستیاب تھا، لیکن حمزہ شہباز اور شریف فیملی نے 2012 میں اس پر کرپشن کے جھوٹ الزامات لگاکر اس پر قبضہ کرلیا اور پھر اسے ختم کرکے اس کی مشینری رمضان شوگر مل سے متصل رمضان ڈیری پر پہنچادی گئی اور اس کو روزانہ دودھ سپلائی کرنے والے قریباً 25 ہزار گوالوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ دودھ شریف برادران کی ڈیری کو ادھار سپلائی کریں۔ یہ تمام گوالے ھلہ ملک پلانٹ پر صبح دودھ سپلائی کرتے اور ڈاکٹر ظفر الطاف مرحوم کے بنائے ہوئے نظام کے تحت انہیں شام سے پہلے دودھ کی قیمت ادا کردی جاتی تھی۔ والٹن روڈ پر ھلہ ملک پلانٹ کی جگہ پر اب کالج بنادیا گیا ہے اور پہلے اس کا نام خواجہ سعد رفیق نے اپنے والد کے نام پر رکھا تھا، لیکن جب راقم نے اس پر کالم لکھا اور پروگرام میں احتجاج کیا تو فوری اس کا نام تبدیل کردیا گیا تھا۔ کسان بورڈ کے زیر انتظام چلنے والے اس کامیاب ملک پلانٹ کی بربادی پر آج تک کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوئی اور ڈاکٹر ظفر الطاف بھی شریف برادران (جو انہیں اپنے استاد کا درجہ دیا کرتے تھے) کی دیدہ دلیری کے ساتھ کرپشن اور بدمعاشی کے دکھ کی وجہ سے وفات پاگئے تھے۔ دودھ کا ذکر ہورہا تھا تو مجھے ایک یورپی ملک میں تعینات دوست سفیر جنرل زاہد مبشر شیخ کے ساتھ ایک ہوٹل میں دوران لنچ ہوئی بات یاد آگئی۔ کباب داش نامی ترکش ریسٹورنٹ میں کھانا کھاتے ہوئے جنرل زاہد مبشر نے مجھے کہا کہ ’’کاشف صاحب آپ نے یہاں کا دودھ پیا ہے؟‘‘ میں نے جب انکار میں جواب دیا تو انہوں نے کہا کہ ’’آپ کو یہاں کا دودھ ضرور پینا چاہیے، بوتل میں موجود دودھ لے کر پئیں۔‘‘ میں ہنس پڑا تو انہوں نے کہا، ’’دنیا کا خالص ترین دودھ یہاں دستیاب ہے اور دودھ کا کھانے پینے کی اشیا میں ملاوٹ کرنے کا مطلب اپنی گردن کٹوانا ہے۔‘‘اسی وقت میرا دھیان پاکستان میں ڈبا پیکنگ میں دستیاب کیمیکلز ملے دودھ پر گیا۔ قارئین کو یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ سپریم کورٹ نے2018 میں خوش نما پیکنگ والے تمام ڈبا پیک دودھ کو مضر صحت قرار دے کر اس کی فروخت پر پابندی بھی لگائی تھی، لیکن یہ آج بھی مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ آج مجھے اپنے مرحوم دوست شفقت رحمان خان (جو کوکا کولا اور بعد میں مختلف جوس برانڈز کے سیلز ہیڈ رہ چکے) بھی یاد آرہے کہ وہ جب بھی ملنے آتے تھے تو میرے بیٹے کو بطور خاص ڈبے والے جوس کو پینے سے سختی سے منع کیا کرتے تھے۔ استفسار پر انہوں نے بتایا کہ یہ سب گلے سڑے پھلوں کی خریداری کرکے اس میں سے پلپ نکال کر کیمیکلز ڈال کر فروخت کرتے ہیں اور دراصل زہر بیچتے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں فوڈ کنٹرول اتھارٹی والوں نے کئی سو من گلے سڑے پھل لاہور میں پکڑے جو ایک انٹرنیشنل برانڈ کے جوس میں استعمال کے لئے خریدے گئے تھے۔ پاکستان میں کھلے دودھ اور تازہ جوس سے پیکنگ والے دودھ اور گندے پلپ سے بنے جوس کا سفر جو بے ایمانی اور مضر صحت ملاوٹ پر مبنی ہے، نہایت تیزی اور پلاننگ کے ساتھ بہت جلدی طے کیا گیا۔ آج معاشرتی انحطاط کی صورت حال یہ ہے کہ پھل بیچنے والے آم، کینو، خربوزہ، تربوز، آڑو اور دوسرے پھلوں کو انجکشن لگاکر ان کا اندر سے ناصرف رنگ تبدیل کرتے، بلکہ سکرین ڈال کر انہیں میٹھا بھی کردیتے ہیں۔ باقی کسر نہر کنارے کھڑے پھل فروش رات کے وقت ہر پھل کے رنگ کی مناسبت مختلف رنگوں کی لائٹیں لگا کر عوام کی آنکھوں میں مرچیں ڈال کر پوری کررہے ہوتے ہیں اور ہرے پھل کو لال اور پیلا کرکے بیچ دیتے ہیں۔ ہم مالی کرپشن کی بات کرتے ہیں تو خوراک میں ملاوٹ کرنے والوں اور سرکاری ذبیحہ خانوں میں گوشت ذبح نہ کرنے والوں اور پانی لگا کر مہنگے داموں گوشت بیچنے والوں کو نظرانداز کردیتے ہیں۔ یقین جانیں اوپر لکھے تمام طبقات اس قوم کی آنے والی نسلوں کے قاتل ہیں اور آج بھی ہم سب نے مل کر ان کی نشان دہی کرتے ہوئے گریبان سے نہ پکڑا تو ہماری آنے والی نسلیں تباہی کا شکار ہوجائیں گی۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ سب کچھ سہنے اور خاموش رہنے والے ’’ہم کون لوگ ہیں؟‘‘۔