24 ستمبر 2021
تازہ ترین

 طالبان کا مدبرانہ رویہ طالبان کا مدبرانہ رویہ

سرزمین افغانستان گذشتہ صدی سے حالت جنگ میں ہے، ابتدائی دور میں یہاں اقتدار کی غلام گردشوں میں بغاوتوں نے جنم لیا تو بعدازاں یہاں بیرونی طاقتیں حملہ آور ہوئیں، اس رسّہ کشی و اقتدار کے ہنڈولے میں افغان عوام کو بمشکل طالبان کے دور اقتدار میں چند سال کے لئے سکون کا سانس نصیب ہوا۔ گذشتہ 20 برس سے جاری جنگ بظاہر اپنے اختتام کو پہنچ چکی کہ جارح نیٹو افواج افغان سرزمین سے نکل چکیں، لیکن شنید یہی ہے کہ امریکہ نے یہاں غیر رسمی فوج یعنی نجی کنٹریکٹرز کو رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے پس پردہ محرکات سے سب واقف ہیں کہ نیٹو افواج کے انخلا میں امریکہ نے باعزت پسپائی کو ترجیح دی، لیکن اپنے ریاستی مفادات کے تحفظ سے پیچھے نہیں ہٹا، اسی مقصد کی خاطر اس نے اپنی باضابطہ فوج کے بجائے نجی کنٹریکٹرز کو سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ سرزمین افغانستان میں امریکی مفادات کا تحفظ کیا جاسکے۔ سرزمین افغانستان میں امریکی مفادات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی کہ ساری دنیا امریکی مفادات کے متعلق بخوبی جانتی ہے کہ امریکہ کو اس خطے میں اپنی موجودگی کیوں رکھنی ہے؟ ایک طرف وہ یہاں کی معدنیات سے بہرہ مند ہونا چاہتا ہے تو دوسری جانب وہ روس اور چین کے سر پر بیٹھنے کا خواہش مند ہے، اول الذکر خواہش کے حصول میں اس نے اپنی پوری طاقت کا بے محابا استعمال کرکے دیکھ لیا، جس میں وہ بری طرح ناکام ہوا، الٹا اس کشمکش سے روس و چین کی معاشی و عسکری حیثیت مزید مستحکم ہوچکی اور اب وہ پہلے کی نسبت کہیں زیادہ طاقتور ہوکر امریکی عزائم کی راہ میں چٹان کی مانند کھڑے ہیں۔ دوسری طرف گذشتہ بیس برسوں میں امریکہ سے برسرپیکار طالبان ہیں، جنہوں نے ایک لمحے کے لئے بھی امریکی تسلط کو قبول نہیں کیا، بلکہ اپنی فطرت کے عین مطابق امریکی و نیٹو افواج کے سامنے انتہائی بے سروسامانی کے عالم میں بھی اپنے پورے ایمان کے ساتھ کھڑے رہے اور بعینہ قرآن کریم میں اللہ کے فرمان کے عین مطابق کہ تم کفار کے مقابلے میں نکلو خواہ تعداد میں کم ہو یا ان سے ہلکے ہو (مفہوم) اللہ کی تائید و نصرت، اللہ کریم پر توکل کرنے، ایمان لانے والوں کے ساتھ رہتی ہے۔ یہی افغانستان میں، طالبان کے ساتھ بھی ہوا اور قادر مطلق کی قدرت آج کے دور میں بھی آشکار ہوگئی، کوئی اس کو تسلیم کرے یا نہیں، لیکن حقیقت یہی ہے کہ اللہ کریم اپنے وعدوں میں سچا اور حق پر ڈٹے رہنے والوں کے ساتھ ہے۔ مجھے اپنی رائے سے رجوع کرنے میں کوئی عار نہیں کہ سانحہ 9/11 کی آڑ میں جب امریکی حکام نے طالبان سے اسامہ بن لادن کا مطالبہ کیا اور حوالے نہ کرنے پر ناصرف طالبان کی حکومت کو دھمکی دی، بلکہ افغانستان پر حملہ کرنے کی دھمکی بھی دی، تب میری رائے بھی یہی تھی کہ طالبان کو اپنی حکومت بچانے اور امن کی خاطر اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کردینا چاہیے تھا۔ میری یہ رائے بعدازاں غلط ثابت ہوئی کہ امریکہ بہرصورت افغانستان پر کسی اور طریقے یا کسی اور آڑ میں حملہ آور ہوتا، یا طالبان حکومت کے ایک مطالبے کو تسلیم کرنے پر مزید دباؤ بڑھاتا چلا جاتا اور اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے طالبان حکومت کو اپنی کٹھ پتلی بنالیتا۔ طالبان نے کٹھ پتلی حکومت بننے کے بجائے امریکی سامراج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کا آبرومندانہ فیصلہ کیا، جس کی یقینی قیمت ادا کرنے کے لئے وہ تیار نظر آئے، ٹیپو سلطان کے بقول شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سال کی زندگی سے بہتر ہے، طالبان نے شیر بننا قبول کیا۔ اسامہ کے حوالے سے بھی میں اب یہ سمجھتا ہوں کہ طالبان کا مؤقف درست تھا اور ان کی پناہ میں موجود کسی بھی شخص کو یوں بغیر کسی ثبوت کے بیرونی طاقت کے حوالے کرنا غلط تھا۔ البتہ چونکہ امریکی عزائم اُس وقت کچھ اور تھے، اس لئے امریکہ کو ہر صورت افغانستان میں جارحیت کرنا تھی، ناصرف افغانستان بلکہ امریکی جارحیت کا شکار دیگر مسلم ممالک عراق، لیبیا، مصر و مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک بھی اس میں شامل تھے۔ آج امریکی مداخلت و جارحیت کے نتیجے میں ان ملکوں میں سے دو اپنی سالمیت و خودمختاری کھوچکے جب کہ ان ممالک میں جس مقصد کے لئے جارحیت کی گئی، وہ عفریت بن کر ان ملکوں کو چمٹ گئی۔ جس دہشت گردی کے خلاف امریکہ نے ان ممالک پر جارحیت کی تھی،آج ان ملکوں میں اسی دہشت گردی کا راج نظر آتا ہے کہ جیسے ہی یہاں کی کٹھ پتلی حکومتیں، انکل سام کے حکم سے انکار کرتی ہیں، یہاں خون کی ندیاں بہتی نظر آتی ہیں۔ امریکی عزائم میں افغانستان کے ساتھ پاکستان بھی ’’نشانہ‘‘ تھا، مگر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے امریکی عزائم کو سمجھتے ہوئے اس کا بخوبی مقابلہ کیا، ناصرف مقابلہ کیا، بلکہ الٹا امریکہ کو دھول چٹادی۔ آج جب امریکی و نیٹو افواج افغانستان سے نکل چکی ہیں، جنگ کا اختتام و انجام مذاکرات کی میز پر ہورہا ہے، وہی طالبان ہیں جو امریکی و نیٹو افواج کے ایک بھی باشندے کو افغانستان میں برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں، بالخصوص ترکی کی کابل کے ہوائی اڈے کی حفاظتی پیشکش کو وہ دوٹوک طریقے سے ٹھکرا چکے کہ ترکی بھی نیٹو کا رکن ہے اور طالبان نیٹو افواج کے حوالے سے کسی ایک بھی فوجی کی موجودگی کو گوارا کرنے کے لئے تیار نہیں۔ دوسری طرف ترکی کے ساتھ تلخی کا ایک تاریخی پس منظر بھی موجود ہے، جو طالبان کو ترک فوج کی موجودگی سے روک رہا ہے، لیکن اس سب کے باوجود اگر بغور دیکھیں تو طالبان ایک طرف بڑی مستقل مزاجی کے ساتھ پیش قدمی کررہے ہیں تو دوسری جانب کسی بھی مرحلے پر انہوں نے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے۔ اپنے ابتدائی دور میں بھی طالبان کا رویہ دیکھا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ نئی نئی حکومت ملنے کے بعد اور ایک مخصوص اسلامی سوچ کے مطابق طالبان گو سنتے ضرور تھے، مگر اپنے عقائد سے ہٹنے پر تیار نظر نہیں آتے تھے۔ آج وہی طالبان، جنہیں دور جدید کے تقاضوں سے نابلد سمجھا جاتا تھا، پورے اعتماد سے عالمی قوتوں کے ساتھ بیٹھ کر افغانستان کے مفادات کا تحفظ کرتے نظر آتے ہیں۔ طالبان کی سیاسی بلوغت بھی مزید پروان چڑھی ہے اور وہ دنیا کے کسی بھی ملک کے ساتھ پورے اعتماد و یقین سے مذاکرات کررہے ہیں، تاکہ اقوام عالم کو ان سے جو تحفظات ہیں، ان کو دُور کیا جاسکے، جس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی دِکھائی دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں! سیاسی بلوغت کا دوسرا منظر اس سے بھی واضح ہے کہ طالبان اپنے گذشتہ دور حکومت کی سخت ترین پالیسیوں سے رجوع کرتے نظر آتے ہیں، ان کا انسانی حقوق سے متعلق بیان ہو یا عورتوں کے حقوق کی بات، ان میں گذشتہ دور کی سختی نظر نہیں آرہی۔ بچیوں کی تعلیم کی بات ہو یا عورتوں کے مَردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے کی بات، طالبان کی سوچ میں واضح تبدیلی کی عکاس ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ان گذشتہ بیس برسوں میں طالبان نے اپنی غلطیوں سے ناصرف سیکھا، بلکہ اپنی اصلاح کا عمل بھی جاری رکھا اور دور جدید کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے، اپنا مستقبل کا لائحہ عمل ترتیب دے لیا ہے۔ یہ سب باتیں طالبان کے مثبت رویے کا اظہار تو ہیں ہی، اس کے ساتھ اس امر کا بھی واضح اظہار ہے کہ طالبان پہلے کی نسبت زیادہ مدبرانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔