24 ستمبر 2021
تازہ ترین

آزاد کشمیر انتخابات: کانٹے کا مقابلہ متوقع آزاد کشمیر انتخابات: کانٹے کا مقابلہ متوقع

جویریہ بنت ربانی
آزاد کشمیر میں 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات کی تیاریاں زورشور سے جاری ہیں، آزاد کشمیر میں انتخابی حلقے 45 جب کہ اسمبلی نشستیں 53 ہیں، آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہر 5 سال بعد ہوتے ہیں، ریاست کے 29 حلقوں میں 22 لاکھ 37 ہزار 58 جب کہ مہاجرین کے 12 حلقوں کے لئے 4 لاکھ 44 ہزار 634 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔ 15 لاکھ 19 ہزار 347 مرد اور 12 لاکھ 97 ہزار 743 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔
سیاسی جماعتوں کے قائدین انتخابی جلسوں میں اپنے ووٹرز کے جوش کو گرمارہے ہیں، کیونکہ جیسے جیسے الیکشن کا دن قریب آتا جارہا ہے، آزاد کشمیر میں سیاسی درجہ حرارت میں بھی بتدریج اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، تینوں بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر کے الیکشن میں اپنے اپنے امیدوار فائنل کیے تو انتخابی گہماگہمی عروج پر پہنچ گئی، ایک طرف پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو آزاد کشیر میں انتخابی مہم چلانے میں مصروف رہے تو دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کی مریم نواز نے بھی آزاد کشمیر پہنچ کر اپنی جماعت کی انتخابی مہم کا بھرپور آغاز کیا، اسی دوران وزیراعظم عمران خان بھی اپنے کھلاڑیوں کے حوصلے بلند کرنے آزاد کشمیر پہنچے اور وہاں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے اور صحت کارڈ کے علاوہ وعدے کیے۔ 
انتخابات کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تینوں بڑی سیاسی جماعتوں میں کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے، لیکن وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور سیاسی تاریخ یہ رہی ہے کہ پاکستان میں جس کی حکومت ہو، آزاد کشمیر میں بھی اسی کی یا اس کی مرضی سے حکومت بنتی ہے، اس لئے سیاسی پنڈتوں کے مطابق تحریک انصاف کو دیگر جماعتوں پر برتری حاصل ہے، روایت کے عین مطابق 25 
جولائی کے آزاد کشمیر الیکشن میں بھی بظاہر تحریک انصاف کا ہی پلڑا بھاری ہے، امکان ہے کہ وفاق کی موجودہ حکمران جماعت پہلی مرتبہ آزاد کشمیر میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائے گی۔ اطلاعات کے مطابق آزاد کشمیر کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی نے تمام 45 نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے ہیں جب کہ مسلم لیگ (ن) نے 44 حلقوں میں امیدوار کھڑے کیے ہیں جب کہ مسلم لیگ (ن) کے کئی امیدوار ایک سے زائد نشستوں پر بھی الیکشن لڑرہے ہیں۔ انتخابات میں کون سی جماعت اکثریت حاصل کرکے حکومت بناتی ہے، اس کا فیصلہ تو 25 جولائی کے دن ووٹرز ہی کریں گے، دیکھنا یہ ہے کہ اس بار کس جماعت کا پلڑا بھاری رہتا ہے، کیونکہ مسلم کانفرنس اور جماعت اسلامی کا ووٹ بینک بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔