17 اپریل 2021
تازہ ترین

بنگلادیش کا کمال.... بنگلادیش کا کمال....

یو این ڈی پی کی ایک رپورٹ پڑھ کر مجھے حیرت ہوئی کہ بنگلادیش نے 2010 کے بعد سے اب تک قریباً ایک کروڑ لوگوں کو غربت سے نکال کر مڈل کلاس طبقے میں لاکھڑا کیا ہے۔ بنگلادیش نے گذشتہ دس برسوں میں حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ غربت کے خاتمے کے لئے خاطرخواہ پروگرامز بنائے اور اقدامات کیے۔
مسلمان مذہب کی اکثریت کے باوجود آج اس کی پہچان عوامی جمہوریہ بنگلادیش اور ایک پارلیمانی، آئینی اور سیکولر ریاست کے طور پر ہوتی ہے۔ بنگلادیش نے غربت اور قحط جیسی مصیبتوں اور آفتوں کا سامنا بہت جرات اور بہادری سے کیا ہے۔ یہ ملک سیاسی ہنگاموں اور برسوں فوجی بغاوتوں میں گھرا رہا۔ 1991 میں بنگلادیش میں جمہوریت کی بحالی نے اسے نئی زندگی عطا کی۔ گذشتہ دو دہائیوں سے اس نے سیاسی اور معاشرتی ترقی میں کئی اہداف عبور کیے ہیں۔ بنگلادیش 2030 تک اپنے انتہائی غربت میں پھنسے افراد کو غربت سے نکالنے کے لئے کئی پائیدار اور ترقیاتی گول سیٹ کیے ہوئے ہے۔ 2016 تک بنگلادیش کی آبادی کا ایک چوتھائی حصہ غربت کا شکار تھا، جس میں ان چار برسوں میں 4 فیصد کمی ہوئی ہے۔ گویا بنگلادیش اگر ہر سال اپنی غربت میں ایک فیصد بھی کمی کرتا ہے تو اگلے دس برسوں 
میں یہ اپنے ملک کے غربت میں پھنسے لوگوں میں سے نصف کو غریبی سے نکال چکے ہوں گے۔
ایسا نہیں کہ بنگلادیش کو پاکستان کی طرح کسی چیلنج کا سامنا نہیں۔ دنیا کی طرح اس ملک میں بھی معاشی اور معاشرتی تبدیلیاں آرہی ہیں اور مستقبل قریب میں ان تبدیلیوں میں مزید تیزی سے اضافہ ہوگا۔ بنگلادیش میں تعلیم کی شرح بڑھ رہی ہے۔ لاکھوں لوگ دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف رخ کررہے ہیں۔ صنعت کاری بڑھ رہی ہے۔ معیشت کا حجم بڑھ رہا ہے۔ بنگلادیش کا موسم سخت ہے۔ اس ملک کو اضافی بارشوں کا بھی سامنا رہتا ہے۔ اس خطے کا جغرافیہ بھی خاصا پیچیدہ ہے۔ یہ اور اس طرح کے کئی چیلنجز کے باوجود بنگلادیش میں ترقی کی رفتار پاکستان سے کہیں تیز ہے۔ بنگلادیش میں صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بہتری آرہی ہے۔ یہاں لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہورہا ہے۔ اس ملک کا کمال یہ ہے کہ 2000 میں یہاں جتنی غربت تھی، اس کا 50 فیصد حصہ 2016 تک غربت سے نکالا جاچکا تھا۔ 
آج بنگلادیش میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع ہیں، جو صنعتوںکے قیام کا سبب بن رہے ہیں۔ یہاں مزدوری سستی ہے۔ بجلی سستی ہے۔ یہاں معاشی اور سب سے بڑھ کر سیاسی استحکام ہے، جس کی وجہ سے صنعت کار یہاں کا رُخ کررہے ہیں۔
بنگلادیش کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ کرونا وبا کے دوران (جس کی تیسری لہر نے آج دنیا بھر کو جکڑا ہوا ہے) بھی اس ملک کے حکمرانوںکی کامیاب حکمت عملی کی وجہ سے لوگوں کے بے روزگار ہونے کا تناسب بہت کم رہا۔ بنگالیوں نے صحت کے شعبے میں ترقی کی وجہ سے زچگی کی شرح اموات میں بھی کمی کرنے کا کارنامہ سرانجام دیا۔
وہ خطہ وہ سرزمین جو ہم سے کہیں پیچھے تھا، وہاں آج اوسطاً بنگلادیشی پاکستانی سے زیادہ مال دار ہے۔ پاکستانی روپیہ کی ویلیو کم ہونے سے بنگلادیش آج ہم سے کہیں بہتر پوزیشن میں کھڑا ہے۔ بنگلادیش کا زرمبادلہ پاکستان سے دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔ بنگلادیش کا تجارتی خسارہ ہم سے چار گنا سے بھی کم ہے۔ گذشتہ دو دہائیاں بنگلادیش کے لئے ٹرننگ پوائنٹ تھیں۔2005 سے آج تک بنگلادیش ہر سال 7فیصد سالانہ ترقی کررہا ہے۔ کبھی پاکستان کے گارمنٹس یورپ اور دیگر ممالک میں بھیجے جاتے تھے۔ ہمارے پاس بے شمار بہترین فیکٹریاں تھیں، جن کے بل بوتے پر پاکستان اربوں ڈالر کمارہا تھا۔ یہ سب کچھ 2000ءسے پہلے پہلے تک تھا۔ مشرف دور میں جب بجلی کی قیمتوں نے اُڑان بھری تو پاکستان کے صنعت کار بھی اڑان بھر کر بنگلادیش چلے گئے۔
آج بنگلادیش میں صنعتی شعبہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت سے گارمنٹس کی برآمدات میں 80فیصد حصہ ڈالے ہوئے ہے۔ زرعی شعبے میں بنگلادیش کے پاس کرنے کے لئے بہت سی مصنوعات تو اگرچہ نہیں، لیکن بنگالی بہترین چاول بھی دنیا بھر کو کھلاکر زرمبادلہ کمارہے ہیں۔ یہ سب کچھ دیکھ کر دل جہاں خوش ہوتا ہے وہیں پاکستان کے حوالے سے دُکھ بھی ہوتا ہے۔ اُداسی اور مایوسی دکھ اور رنج، کیا ہم ایسے ہی غیر سنجیدہ اور خود غرض رہیں گے۔ خدارا آنکھیں کھولیں۔ ہوش کے ناخن لیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کل ہم سنیں کہ افریقہ بھی ہم سے آگے نکل گیا۔ 
مجھے یہ کہنے کی اجازت دیں کہ ہم اس قوم سے تعلق رکھتے ہیں کہ جب بھی کوئی ترقی کی دیوار پر چڑھنے لگتا ہے تو نیچے کھڑا شخص اس کی ٹانگ کھینچ کر اسے نیچے گرادیتا ہے۔ ہم دس، بیس یا تیس سالہ منصوبے کیا بنائیں گے، ہم تو دو دنوںکے بعد اپنے فیصلے بدل دیتے ہیں۔ ہماری تو اپنی صفوں میں اتفاق، اتحاد اور خلوص نہیں۔ ہمیں صرف باتیں کرنا آتی ہیں۔ طرح طرح کی باتیں۔ 
خدارا پھر بتادیں کہ ہماری ذمے داری کیا ہے؟ حکومت کی ذمے داری کیا ہے؟ اہل اقتدار صرف اپنا جاہ و جلال دکھانے کے لئے رکھے ہیں، یا وہ کچھ کام بھی آئیںگے۔ بنگلادیش ہر سال اپنی غربت میں مسلسل کمی لارہا ہے۔ خطے میں چین کے بعد وہ دوسرا ملک ہے، جس نے گذشتہ دوعشروں میں ترقی کی کئی منزلیں طے کی ہیں۔ ہمیںسوچنا ہوگا کہ گذشتہ دو عشروں میں ہم نے کتنی ترقی کی؟