17 اپریل 2021
تازہ ترین

تمام محاذ ایک ساتھ کھولنے کا نقصان… تمام محاذ ایک ساتھ کھولنے کا نقصان…

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی گزشتہ کئی برس وفاق اور صوبوں میں حکومتیں کرچکی ہیں، لیکن اس عرصے میں عوام نے ان سے وہ توقعات وابستہ نہیں کی تھیں جو ان کے مقابلے میں وفاق اور ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں پہلی بار حکومت بنانے والی تحریک انصاف سے کی گئیں۔ تحریک انصاف کی سیاسی جدوجہد ویسے تو دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ہے، لیکن ان کی سیاست کی بیل 126دن کے طویل دھرنے سے منڈھے چڑھی، جس میں عمران خان نے کرپشن کو موضوع بناتے ہوئے ناصرف دونوں جماعتوں کا سیاسی پوسٹ مارٹم کیا، بلکہ قائد کے خواب کے مطابق دو نہیں ایک پاکستان بنانے، ملک سے کرپشن کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے اور قانون پر عمل داری کے بلند بانگ دعوے کیے اور یہی وجہ ہے کہ عوام خصوصاً پڑھے لکھے طبقے نے 2018 کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کا اکثریتی جماعت کے طور پر چنائو کیا۔ اگر پی ٹی آئی کا بحیثیت مجموعی سیاسی جماعت کے طور پر جائزہ لیا جائے تو اس میں زیادہ تر وہ لوگ شامل ہیں جو دوسری جماعتوں سے اڑان بھر کے اس میں آئے اور جب عوام کی توقعات پوری نہیں ہوتیں تو وہ حکومت کو نہیں بالخصوص عمران خان کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں اور انہیں یقیناً ٹھہرانا بھی چاہیے کیونکہ تحریک انصاف کا ’’فیس‘‘ ہی عمران خان ہیں اور عوام نے انہیں ہی اپنی امیدوں کا محور بنایا تھا۔ 
گزشتہ دنوں وفاقی وزیر فواد چوہدری لاہور میں پریس کانفرنس میں فرمارہے تھے کہ لاہور اور کراچی کے سیوریج کے نظام اور کچرا اٹھانے کے معاملات کو بھی وزیراعظم نے دیکھنا ہے؟، یہ کام چیف سیکریٹری اور کمشنرز کا ہے اور اگر وہ کام نہیں کررہے تو انہیں گھر بھیج دینا چاہیے، لیکن عوام سوال پوچھتے ہیں کہ کمشنر کا باس تو چیف سیکریٹری ہوسکتا ہے لیکن چیف سیکریٹری کا باس کون ہے۔ فواد چوہدری صاحب عوام آپ سے بالکل بھی اس طرح کے رویے کی توقع نہیں رکھتے، بلکہ تحریک انصاف کو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے مقابلے میں اسی لئے لایا گیا تھا کہ وہ اپنے دعووں کے مطابق نظام کو درست کرے گی، اداروں کے سربراہان کو جواب دہ بنایا جائے گا، لیکن حقیقت میں صورت حال اس کے برعکس ہے۔ اگر لاہور اور پنجاب میں کچرے کے ڈھیر ہیں اور مسائل حل نہیں ہورہے تو اس کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو متحرک ہونا چاہیے، انہیں چیف سیکریٹری اور کمشنر کو گھر بھیجنے کے بجائے ان کے ساتھ مل کر سڑکوں پر آنا چاہیے اور حقائق جاننے چاہئیں کہ بلندبانگ دعووں کے باوجود کوڑے کرکٹ کے ڈھیر کیوں نہیں اٹھائے جارہے اور اس کے پیچھے حقائق کیا ہیں۔ ہوسکتا ہے حالیہ برسوں میں حکومت کی سطح پر کرپشن نہ ہوئی ہو، لیکن اداروں میں کرپشن نے اسی طرح پنجے گاڑ رکھے ہیں بلکہ اب تو حکومت کے کرپشن کے خلاف نعرے کا خوف دلاکر کرپشن کا ریٹ دوگنا کردیا گیا ہے، بدعنوانی روکنے کے لئے سرے سے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے، کوئی موثر میکنزم نہیں بنایا گیا، یہ نظام نہیں بنایا گیا کہ اگر سائل رشوت لینے والے افسر کی کسی سطح پر شکایت کرے تو اس کے بعد اس غریب کو طاقتور سرکاری افسر کے غیظ و غضب سے بچانے کا کون ذمے دار ہوگا، اگر پولیس کی ناانصافی، تشدد اور کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی جائے گی تو کیا حکومت اس غریب سائل کی ڈھال بنے گی اور شکایت کرنے والا یا اس کے اہل خانہ اس پولیس افسر، اہلکار یا پیٹی بند بھائیوں کے غیظ وغضب سے محفوظ رہ سکیں گے۔ ایسا کچھ نہیں، آج بھی کسی سرکاری افسر یا پولیس کے خلاف درج شکایات کی شنوائی اسی محکمے کا افسر کرتا ہے اور وہ کیوں عام سائل کو انصاف دے گا، وہ کیوں نہ انصاف کا وزن اپنے ساتھ رہنے والے افسر یا اہلکار کے پلڑے میں ڈالے۔
سرکاری محکموں کے حوالے سے شکایات نوٹ کرنے اور اس پر فوری ایکشن لینے کے لئے ان محکموں کے اندر ہی بااختیار لیکن کسی دوسرے محکمے کے افسران کو ذمے داری سونپی جائے، جو کسی بھی شکایت کی صورت مہینوں کے بجائے موقع پر ہی شکایت کا ازالہ کرے اور اسے یقین بھی ہو کہ اس کا میرٹ پر کام ہونے کے بعد اسے کسی طرح کی انتقامی کارروائی کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ قصور کے علاقے کھڈیاں خاص میں پولیس افسر بااثر لوگوں سے مل کر ایک معلمہ کے گھر میں داخل ہوتا اور اس پر جس طرح لاتوں اور گھونسوں سے تشدد کرتا ہے، کیا کسی مہذب معاشرے میں اس کی اجازت ہوسکتی ہے۔ خاتون کے کان سے بالیاں تک نوچ لی گئیں اور ان میں سے خون رس رہا تھا، اس خاتون کی آہ و بکا دل چیر دیتی ہیں۔ سوشل میڈیا کو کریڈٹ دینا چاہیے کہ یہ کہانی سامنے آگئی اور اس درندے کو گرفتار کرلیا گیا۔
یہ واقعہ بتانے کا اصل مقصد یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ساری کامیابیاں سمیٹنے کے لئے سب محاذ ایک ساتھ کھول لئے ہیں، اس لئے اب تک خاطرخواہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے۔ پولیس گردی کا ایک واقعہ آپ کے سارے اچھے کاموں پر پانی پھیر دیتا ہے اور لوگ سوال کرتے ہیں، پولیس نظام میں تبدیلی کا بڑا نعرہ لگایا گیا تھا، کہاں ہے تبدیلی؟، غرض یہ کہ اس طرح کی صورت حال واپڈا، سوئی گیس، ریونیو سمیت ہر جگہ ہے اور لوگ خون کے آنسو روتے نظر آتے ہیں۔ وزیراعظم کو چاہیے تھا کہ اگر وہ کرپشن کے ناسور کے خلاف ووٹ لے کر آئے ہیں تو انہیں اپنی عملی کاوشوں کا زیادہ تر حصہ صرف کرپشن کے خاتمے، اس کے لئے مضبوط نظام اور میکنزم بنانے پر ہوتا اور عوام کو خود نظر آجانا تھاکہ کام ہوا ہے، جو آج حکومت کے دعووں کے باوجود نظر نہیں آرہا۔ ٹیکسیشن کے نظام میں تجربے کیے جارہے اور صورت حال سب کے سامنے ہے۔ یہاں ایسے ایسے دکان دار ہیں جو کروڑوں کماتے لیکن باضابطہ ایک روپیہ ٹیکس نہیں دیتے، کیونکہ انہیں شکنجے میں لانے کے لئے موثر نظام ہی نہیں بن سکا اور چور راستوں سے اربوں روپے قومی خزانے کے بجائے سرکاری افسران اور اہلکاروں کی جیبوں میں چلے جاتے ہیں۔ 
اب بھی وقت ہے کہ باقی رہ جانے والے برسوں میں بتدریج آگے بڑھا جائے، اگر پولیس کے نظام میں تبدیلی لانی ہے تو صرف اس پر کام کیا جائے، ایک طرف توجہ ہونے سے اصلاحات کے کام کی رفتار بھی تیز ہوگی، اسے مکمل کرنے کے بعد پھر کسی دوسرے محکمے پرہاتھ ڈالا جائے۔ ہمیں اپنے معاشرے کی تربیت بھی کرنی ہے، پاکستان کو مہذب معاشروں کی فہرست میں شامل کرانے کے لئے آج سے ایک نئی نسل کی تربیت بھی شروع کرنا ہوگی اور آ ج کے پرائمری جماعت کے بچوں کو اس کی بنیاد بنایا جائے۔